ملک بھر کے چیمبروں کا نئے سال کے وفاقی بجٹ کیلئے مشترکہ تجاویز بھجوانے کا فیصلہ

ملک بھر کے چیمبروں کا نئے سال کے وفاقی بجٹ کیلئے مشترکہ تجاویز بھجوانے کا ...

 لاہور (کامرس رپورٹر) ملک بھر کے مختلف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو مالی سال 2016-17ء کے لیے مشترکہ بجٹ تجاویز بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ لاہور چیمبر میں منعقدہ چیمبرز کے اجلاس کے موقع پر کیا گیا جس کی صدارت لاہور چیمبر کے صدر شیخ محمد ارشد نے کی جبکہ سینئر نائب صدر الماس حیدر، نائب صدر ناصر سعید ، ایگزیکٹو کمیٹی رکن کمال محمود امجد میاں ، ڈیرہ غازی خان، اوکاڑہ، وہاڑی، سرگودھا، راولپنڈی کوئٹہ اور گجرات سمیت دیگر چیمبرز کے نمائندوں نے اس موقع پر خطاب کیا۔ تمام چیمبرز نے اس موقع پر ایک مشترکہ اعلامیہ کے ذریعے صنعت و تجارت کو درپیش مسائل کے حل اور معیشت کی بہتری کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ حکومت کو تواناوی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانا ، سمگل کے لیے کشش رکھنے والی اشیاء پر ڈیوٹیاں اور ٹیکس کم کرنا چین پاک اکنامک کاریڈور کو بروقت مکمل کرنا ہوگا تاکہ معاشی اہداف باآسانی حاصل کیے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر آئندہ بجٹ کا بڑا حصہ آبی وسائل سے سستی بجلی کی پیداوار کے لیے مختص کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ بڑے آبی ذخائر کی تعمیر اور قدرتی وسائل سے استفادہ کے لیے بھی فنڈز مختص کیے جائیں تاکہ صنعتی پہیہ رواں دواں رہے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ شرکاء نے کہا کہ ماضی میں بجلی کی پیداوار کے لیے مہنگے تھرمل ذرائع پر انحصار کی وجہ سے نہ صرف توانائی کا بحران پیدا ہوا بلکہ صنعتوں کی پیداواری لاگت بھی بڑھی۔ اب ضروری ہے کہ پانی اور متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول پر کام کی رفتار تیز کی جائے۔

اجلاس کے شرکاء نے ملک میں قیام امن کے لیے حکومت اور سکیورٹی فورسز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماضی میں امن و امان کے حالات نے معیشت کو بْری طرح متاثر کیا، اگرچہ اب صورتحال ماضی کی نسبت بہت بہتر ہوچکی ہے لیکن ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کو غیرملکی سرمایہ کاروں کی جنت بنایا جاسکے۔ انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر زور دیا کہ وہ سمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات اٹھائے کیونکہ اس کی وجہ سے قومی خزانے کو بھاری نقصان ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہوگا جسے سمگلنگ نے بْری طرح نقصان نہ پہنچایا ہو لہذا اس پر قابو پانے کے لیے چیکنگ کا نظام بہتر کیا جائے۔

مزید : کامرس