علم اور تعلیم میں بنیادی فرق ( 1)

علم اور تعلیم میں بنیادی فرق ( 1)
 علم اور تعلیم میں بنیادی فرق ( 1)

  

علم دراصل انسان کے انفرادی اعمال کے نتائج کو کہتے ہیں جبکہ تعلیم کسی دوسرے انسان کے مشاہدات و تجربات کے بیان کا نام ہے انسان جب کوئی عمل سرانجام دیتا ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلتا ہے، قطع نظر اِس سے کہ وہ مثبت ہو یا منفی بہرحال نتیجہ ضرور نکلتا ہے، پس اسی نتیجے کا نام علم ہے اور اگر ہم اپنے ان نتائج کو یکجا کرکے الفاظ میں بیان کر دیں تو وہ دوسرے انسانوں کے لئے تعلیم کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ پس علم اور تعلیم میں یہی بنیادی فرق ہے۔ تعلیم دراصل معلومات کے ایسے مجموعے کو کہتے ہیں جو انسان کے انفرادی تجربات سے منزہ ہو، اگر انسان خود عمل کرکے نتائج حاصل کرلے تو وہ عالم کہلاتا ہے۔ معلومات کے اجتماع کے حامل کو عالم نہیں کہا جا سکتا، پس خالص علم عامہ کے لئے ضروری نہیں جس قدر کہ تعلیم ضروری ہے کیونکہ ہر انسان کو ہر قسم کے تجربات کی بھٹی سے نہیں گزارا جا سکتا۔ اس لئے اسے دوسروں کے تجربات کا خلاصہ دے دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے رویے کو مزین کر لے۔

انسانی رویے اور تاریخ پر تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ انسانی سوچ کبھی جامد نہیں رہی گوکہ انسان اسے حتی الوسع منجمد و مطلق کرنے کی کوشش ضرور کرتا رہا ہے مگر آج تک اس سرتوڑ کاوش میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ صرف یہی تھی کہ انسان کو ایسا محسوس ہوا کہ جو شعور آج اس کے پاس ہے ویسا شعور آنے والے کل میں انسان کے پاس نہیں رہے گا، چنانچہ انسان نظریات و اخلاقی اقدار کو جامد کرتا چلا گیا علم کی حقیقت و غایت کی تلاش میں سرگرداں انسان شعور کی روشنی سے بہرہ مند ہونے کے بعد سے سوچنے اور سمجھنے کا اہل ہو چکا تھا چنانچہ سب سے پہلے انسان نے مظاہرِ فطرت پر غور کیا اور پھر بہت سی خود ساختہ تعبیرات متعین کیں جن کو شعور کی بہتری کے ساتھ ساتھ مزید متشرح و منطقی کرتا چلا گیا۔ چنانچہ علم کی ابتدا مظاہرِ فطرت پر غور کرنے سے ہوئی۔ ابتدا میں انسان نے مظاہرِ فطرت کے متعلق عجیب و غریب اور موجودہ شعور کے مطابق تخریب الحواس آرا قائم کی تھیں جنہیں موجودہ شعور ایک ایک کرکے نہ صرف رد کر چکا ہے بلکہ اسکی جگہ عملی تجربات کی بنیاد پر تازہ ترین سائنسی و تکنیکی علوم حاصل کر چکا ہے۔ علم کی حقیقت فی نفسہ نہیں بلکہ اضافی ہے جیسا کہ ماہرِ طبعیات آئن سٹائن نے اپنے نظریہ اضافیت میں واضح کر دیا تھا کہ کائنات کی ہر چیز اضافی ہے۔ نظریہ اضافیت سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی چیز یا سوچ دراصل مطلق نہیں ہوتی بلکہ وہ ارد گرد کے ماحول کے سبب وقوع پذیر ہوتی ہے۔ گویا جیسا ماحول ویسی سوچ یا اشیاء4243 چنانچہ جب تک اس سوچ یا شے کو مطلوبہ ماحول میسر رہے گا وہ سوچ یا شے اپنا وجود برقرار رکھے گی جیسے ہی وہ ماحول خراب ہوا تو وہ سوچ یا شے بکھر کر کسی نئی شکل میں وقوع پذیر ہو جائے گی طبعیات میں اسے سروائیول آف دی فٹٹسٹ کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ کسی نظریہ یا شے کے متعلق حتمی رائے ایک مستقل جہالت ہے۔ انسان کسی نظریے کو وجود و قبولیت تو بخش سکتا ہے لیکن اس نظریے یا فلسفے کو حتمی و لامحدود نہیں کہہ سکتا کہ شعور جامد نہیں بلکہ جاری و ساری ہے۔ انسان ابتدا سے ہی اپنے مجرب اعمال سے سیکھتا رہا ہے اور سیکھتا رہے گا پس ضروری ہے کہ اب اس فطرتی مظہر کا اقرار کر لیا جائے کہ کوئی بھی سوچ، نظریہ، قانون یا اخلاقی قدر دراصل حتمی و لامحدود نہیں ہو سکتی کیونکہ انسان کا شعور حتمی و مطلق نہیں۔ مطلق سے مراد انسانی سوچ یا نظریہ کو عالمگیر اطلاقی حیثیت حاصل ہونا ہے، چنانچہ دنیا کا کوئی بھی نظریہ یا قانون ایسا نہیں جو انسان کے لئے ہمیشہ قابلِ عمل رہے کیونکہ انسانی طبیعت میں زبردست نیرنگی اور ماحول میں بے پناہ تغیراتی وسعت ہے جس کے سبب کوئی ایک سوچ یا قدر مطلق نہیں ہو سکتی۔ نظریات ، تغیرات کے مختلف النوع مراحل سے گزر کر انسانی اعمال کا درجہ حاصل کرتے ہیں پھر وہ شعور کی تازگی کے ساتھ ساتھ بوسیدہ ہو کر کسی نئی صورت میں ڈھل جاتے ہیں۔ انسانی رویے اور تاریخ پر تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ انسانی سوچ کبھی جامد نہیں رہی گوکہ انسان اسے حتی الوسع منجمد و مطلق کرنے کی کوشش ضرور کرتا رہا ہے مگر آج تک اس سرتوڑ کاوش میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ صرف یہی تھی کہ انسان کو ایسا محسوس ہوا کہ جو شعور آج اس کے پاس ہے ویسا شعور آنے والے کل میں انسان کے پاس نہیں رہے گا، چنانچہ انسان نظریات و اخلاقی اقدار کو جامد کرتا چلا گیا اور ان پر تقدیس کی چھاپ لگا دی تاکہ بعد میں آنے والے تازہ ترین شعور کا حامل انسان گزشتہ شعور کے حاملین کی قائم کردہ اخلاقی اقدار و نظریات کے خلاف بغاوت نہ کر سکے مگر حقیقت یہ ہے کہ بغاوت بھی ہوتی رہی ہے اور تنقید و تنکیر بھی کیونکہ شعور جاری ہے جامد نہیں۔تعلیم مخصوص ہو سکتی ہے تعلیم و تربیت مخصوص و جامد ہو سکتی ہے لیکن فکر جامد نہیں ہو سکتی کیونکہ فکر بہتے دریا کی مانند ہے اور بہتے دریا کبھی نہیں رکتے۔ عام قاعدہ ہے کہ کھڑا پانی جوہڑ بن جاتا ہے پس یہی صورتحال فکر کی بھی ہے فکر جامد ہونے سے انسانی روح و جسم پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تعلیم کی حقیقت و غایت تعلیم کا مقصدِ اصلی دراصل تہذیب النفس ہے۔ تعلیم کا مقصد ڈگریاں حاصل کرنا یا اپنی معیشت کے اسباب پیدا کرنا نہیں۔ ہاں خدمت کے جذبے سے، تعلیم کے وسیلے سے روزگار کے مواقع سے معاشی فوائد حاصل کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ یہ بھی انسان کے لئے انتہائی اہم ہے البتہ تعلیم کا مقصد حصولِ معیشت نہیں بنانا چاہئے نہ ہی اس مقصد کی تکمیل کو تعلیم کا نام دینا چاہئے۔ سب سے مستند ڈگری تجربہ اور بہترین معیشت ذہنی و جسمانی محنت ہے۔ فی زمانہ تعلیم کو محض بہترین روزگار کا وسیلہ سمجھا جانے لگا جس کی وجہ سے تعلیم کا مقصدِ اصلی ہی فوت ہو گیا ہے۔ دنیا کی ہیئت بدلنے والی کئی ایک اہم شخصیات نے نہ تو کسی تعلیمی ادارے میں باقاعدہ رسمی تعلیم حاصل کی تھی نہ ہی اعلی ڈگری ہولڈرز تھے۔ یہاں پر ہم چند ایک اہم شخصیات کا تذکرہ کرتے ہیں جنہوں نے رسمی تعلیم حاصل نہیں کی لیکن دنیا کے لئے وہ ایسے کارہائے نمایاں سر انجام دے گئے کہ رہتی دنیا تک ان کے نام اور کام زندہ و تابندہ رہیں گے۔ معروف تھیوریٹکل فزیسٹ آئن سٹائن کے نام سے کون واقف نہیں وہ منطقی اور طبیعی نظریہ اضافیت تھیوری آف ریلیٹیوٹی کے بانی تھے یہ نظریہ اس وقت دنیا میں اخلاقیات سے لے کر سماجیات و سیاسیات میں جوہری تبدیلیاں رونما کر چکا ہے۔مائیکل فراڈے دنیائے سائنس کے بااثر ترین کیمیادان تھے، انہوں نے برقی مقناطیسیت ایجاد کرکے برقی سائنس کی بنیاد رکھ دی۔ انسانیت بالخصوص حبشی قوم کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرنے والے ابراہم لنکن بھی کسی تعلیمی ادارے میں رسمی تعلیم حاصل نہ کرسکے۔ جدید امریکہ کے بانی بینجمن فرینکلن بھی ایک غیر تعلیم یافتہ شخصیت تھے(جاری ہے)

مزید : کالم