انتظار حسین کا انتظار تمام ہوا

انتظار حسین کا انتظار تمام ہوا
 انتظار حسین کا انتظار تمام ہوا

  

میرے چاہنے والو سلامت رہو!

جانے اب آگے کیا ہو مگر لگتا یوں ہی ہے کہ آج کے بعد مجھے فرصت ہی فرصت ہے۔تم میں سے بہت سے اب میرے بارے میں کالم لکھیں گے، مضامین میں یادوں اور باتوں کے چراغ روشن کریں گے۔ تعزیتی جلسوں میں تقاریر کریں گے۔ ہوسکتا ہے چند ماہ کے لیے میری کتابوں کی فروخت بھی بڑھ جائے۔ مگر یہ سب کرنے سے پہلے میری یہ بات سن لو کہ میں خود اپنے بارے میں کیا سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد تمہارا حق ہے کہ انتظار حسین سے جو چاہو برتاؤ کرو۔دسمبر 1923 میں بلند شہر کے نواحی گاؤں ڈبائی میں میرا جنم ہوا۔ والدین کو چار بیٹیوں کے بعد کسی بیٹے کا انتظار تھا لہذا میرا نام انتظار حسین یوں رکھا گیا۔ جس گھر میں جنم ہوا اس کی دیواریں ہندو ہمسائیوں سے ملتی تھیں۔ مسجد بھی قریب تھی اور مندر بھی۔ اذان کی آواز بھی آتی تھی اور گھنٹیوں اور بھجن کی بھی۔ چھت پر کھڑا ہو کر دور میدان میں لگنے والا رام لیلا صاف نظر آتا تھا۔ میرے ہمسائے دیوالی کے دیے مشترکہ منڈیر پر روشن کرتے تھے۔ یعنی میں مندر اور مسجد کے درمیان پیدا ہونے والی نسل سے تعلق رکھتا ہوں۔آٹھ برس بعد ہمارا خاندان ڈبائی سے ہاپڑ منتقل ہوگیا۔ جس سکول میں مجھے داخل کرایا گیا وہاں بھی سوائے ایک کے سب استاد ہندو اور میری کلاس میں ہم دو مسلمان چھوڑ باقی سب ہندو بچے تھے۔

مجھے تو میرٹھ کالج میں پڑھتے ہوئے پتہ چلا کہ کانگریس اور مسلم لیگ میں کوئی کش مکش ہو رہی ہے۔ ایم اے کرنے کے ایک برس بعد پاکستان بن گیا۔ خاندان وہیں رہنا چاہتا تھا۔ صرف میں تھا جو 20 برس کی متجسس عمر میں لاہور آ گیا۔ خیال تھا کہ ترقی پسند تحریک کی شخصیات اور لکھاریوں سے ملنے، تاریخی مقامات دیکھنے کے بعد چلے جائیں گے۔ دل چاہا تو پھر آ جائیں گے مگر لاہور آ کر معلوم ہوا کہ واپسی تو اب مشکل ہے۔ رفتہ رفتہ میرے باقی خاندان نے بھی اپنا ذہن بنا لیا اور وہ پاکستان منتقل ہوگئے۔اور جب احساس ہوا کہ آنا آسان تھا، جانا مشکل ہے اور چلا گیا تو دوبارہ آنا مشکل ہوجائے گا تو پھر مجھے ڈبائی، ہاپڑ، میرٹھ اور احباب بے طرح یاد آنے لگا۔گویا نوسٹالجیا کا حملہ ہوگیا۔ اگر میں لاہور نہ آتا تو شاید کہانی لکھنے کے بجائے کچھ اور کر رہا ہوتا۔میرے سامنے وہی مثالیے تھے جو اس زمانے کے نئے لکھنے والوں کے تھے۔ یعنی منٹو ، بیدی، عصمت، چیخوف، ٹالسٹائی، دوستووسکی، کافکا وغیرہ۔ ایک روز لائبریری سے قدیم ہندوستانی کہانی بیتال پچیسی کیا ہاتھ لگی کہ عجیب سا دیومالائی جنون طاری ہوگیا۔ اس کے بعد نوسٹالجیا کی سنہری رتھ پر سوار ہزاروں لاکھوں برس پیچھے چلتا چلا گیا۔ کھتا سری ساگر کی آٹھ جلدیں پی گیا۔ مہاتما بدھ کی جاتک کھتا کے جنگلوں میں جا گھسا، مہا بھارت کی 18 جلدوں میں ڈوب گیا۔ الف لیلا کے قالین پر عرب و عجم کی سیر کی۔ صوفیاِ کرام کے تذکرے اور ان کی عوام الناس سے گفتگو کی تکنیک ہاتھ لگ گئی۔

پھر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ جدید اردو کہانی کا دریا تین دھاروں سے بنا ہے۔ یعنی قدیم ہندوستانی اساطیر، عرب و عجم کی داستان گوئی اور جدید مغربی روایت کی عقلیت پسندی، حقیقت نگاری اور استعارے کا چابکدست استعمال۔ چنانچہ میں نے مغربی روایت کی ان تین چابیوں سے عرب و عجم اور ہندوستان کے اساطیری تالے کھول لیے۔اس کی ایک مثال میری کہانی مورنامہ ہے جس کا محرک یہ خبر تھی کہ 1998 میں بھارت نے راجھستان میں جو ایٹمی دھماکے کیے ان کے اثرات سے علاقے میں مور مرنے لگے ہیں۔ موروں کو میں ڈبائی کے بچپنے سے جانتا ہوں۔ چنانچہ تکلیف ہوئی کہ تجربے تو کریں آپ اور مریں بے چارے مور اور پھر خیال کی رو مجھے ان موروں کے ساتھ ساتھ مہا بھارت میں لے گئی اور مجھے لگا جیسے یہ دو ملکوں کی نہیں کورؤں پانڈوں کی لڑائی ہے۔آپ میری بندر کہانی پڑھ لیجیے۔ جس میں ایک بندر پہلی بار انسانی بستی میں جا کر ترقی دیکھ کے حیران ہوجاتا ہے اور اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ہماری ترقی کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہماری دم ہے۔ انسان نے اپنی دم کاٹ کے کیسی ترقی کر لی۔ چنانچہ اس بندر کی بات سن کر پورا غول اپنی دم کاٹنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ مگر ایک بوڑھا بندر کہتا ہے کہ جس استرے سے تم اپنی دمیں کاٹو گے کل اسی استرے سے ایک دوسرے کے گلے بھی۔

لوگ کہتے ہیں ’بستی‘ انتظار حسین کی غیر اعلانیہ سوانح حیات ہے۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ انتظار حسین کا دل بھارت میں اور جسم پاکستان میں پڑا ہے۔ ایسے لوگوں کو ’آگے سمندر ہے‘ ضرور پڑھنا چاہیے۔ہاں میں بس ایک کہانی کار ہوں کوئی مصلح یا مزاحمتی لکھاری نہیں۔ اس کے لیے مولوی اور سپاہی بہت۔ ڈھونڈنے والے میرے سیاسی خیالات سمبل ازم میں ڈھونڈھ سکتے ہیں۔ صحافت اور کالم نگاری ضرور کی ہے مگر اسے ادب کے بجائے ہمیشہ روزی روٹی کے خانے میں رکھا۔اگر مجھے حکومتِ پاکستان نے ستارہِ امتیاز ، اکادمی ادبیات نے کمالِ فن ایوارڈ، حکومتِ فرانس نے اپنا اعلیٰ ترین ادبی اعزاز دے دیا، مین بکرز پرائیز والوں نے مجھے شارٹ لسٹ کر دیا اور میرے کچھ کام کے تراجم ہوگئے تو اس میں میرا کمال ہو نہ ہو چاہنے والوں کی محبت ضرور باکمال ہے۔آخری دنوں میں میں یہی سوچتا تھا کہ یہ جو 130 کے لگ بھگ کہانیاں، چار ناول، ڈرامے اور تراجم مجھ سے سرزد ہوئے وہ انتظار حسین نے لکھے ہیں یا انتظار حسین سے لکھوائے گئے۔تم مجھے شوق سے یاد کرو مگر تھوڑا بہت مجھے اور دوسروں کو پڑھ بھی لینا۔

تمہارا انتظار حسین

مزید : کالم