عزیر بلوچ کی گرفتاری۔۔۔یہی مکافاتِ عمل ہے

عزیر بلوچ کی گرفتاری۔۔۔یہی مکافاتِ عمل ہے
 عزیر بلوچ کی گرفتاری۔۔۔یہی مکافاتِ عمل ہے

  

یہ بڑی خبر تھی کہ لیاری گینگ کے سرغنہ اور پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کو گرفتار کر لیا گیا۔ عزیر بلوچ پر 50سے زیادہ مقدمات ہیں۔ جن میں اُن پر قتل‘ اقدامِ قتل‘ بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ جیسے سنگین الزامات ہیں۔ چونکہ عزیر بلوچ پر دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7/ATAبھی شامل کی گئی ہے اس لئے عزیر بلوچ کو اپنے مقدمات کے لئے انسداد دہشت گردی کورٹ کا سامنا کرنا ہو گا۔ حکومت چاہے تو مقدمہ فوجی عدالت میں بھی بھیج سکتی ہے۔ عزیر بلوچ ایک گریجویٹ شخص ہے، جس کی مجرمانہ زندگی کا آغاز اپنے والد بابا فیضو کے قتل کے واقعہ کے بعد ہوا۔ عزیر بلوچ نے مخالفین سے اس قتل کا بدلہ لیا۔ جس کے بعد وہ ’’شیلڈ‘‘ کے لئے رحمان ڈکیت گینگ میں شامل ہو گیا۔ جس کی دھاک نہ صرف لیاری بلکہ پورے کراچی میں بیٹھی ہوئی تھی۔ رحمان ڈکیت خوف و دہشت کی علامت تھا۔ لیکن رحمان ڈکیت کے مارے جانے کے بعد اس گینگ کی سربراہی عزیر بلوچ کے پاس آ گئی۔ وہ سرغنہ بنا تو اُس نے محسوس کیا کہ اپنے ’’شیلڈ‘‘ اور لوگوں پر اپنی مزید دھاک بٹھانے کے لئے اُسے سیاسی سرپرستی کی ضرورت ہے۔

اس ’’ضرورت‘‘ کے پیش نظر اُس نے سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنی ’’پناہ گاہ‘‘ بنایا۔نا صرف اس سے تعلق جوڑا، بلکہ اس تعلق کو مزید مضبوط اور توانا بنانے کے لئے اس کے رہنماؤں کے نزدیک بھی ہو گیا۔ سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا، فریال تالپور، پارٹی کے کئی دیگر صوبائی وزراء اور رہنما اُس کے دوست بن گئے۔ عزیر بلوچ کی رسائی وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ تک ہو گئی۔ اب سندھ پولیس بھی عزیر بلوچ کی مٹھی میں تھی۔ تمام ’’کارستانیوں‘‘ کے باوجود کسی میں جرأت نہیں تھی کہ وہ عزیر بلوچ پر ہاتھ ڈالے ۔ عزیر بلوچ جو چاہتا،وہ کرتا تھا۔ اپنے اور پارٹی رہنماؤں کے ایماء پر اُن کے مخالفوں کو پھڑکانا عزیر بلوچ کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ رحمن ڈکیت کے بعد وہ لیاری ہی نہیں پورے کراچی کے لئے خوف اور دہشت کی علامت بنتا جا رہا تھا۔لیاری ہی کے بابا لاڈلا گروپ سے اُس کی دشمنی چلی تو کئی نعشیں گریں۔ مرنے والوں میں دونوں گروپوں کے لوگ شامل تھے۔ ان کے چرچے میڈیا میں بھی ہوئے تو پورے ملک کو پتہ چل گیا کہ عزیر بلوچ اور بابا لاڈلا کون ہیں۔ چونکہ عزیر بلوچ پیپلز پارٹی کی گود میں بیٹھا ہوا تھا ۔ اُسے غیر اعلانیہ طور پر پارٹی کی مدد، حمایت اور سرپرستی حاصل تھی۔ اس لئے زیادہ خبروں میں رہنے لگا اور ہمیشہ ’’ہیرو‘‘ دکھائی دیا۔ پھر ایک وقت آیا جب پارٹی نے اس کی سرپرستی سے منہ موڑ لیا۔ عزیر بلوچ نے بھی پارٹی کے خلاف اعلاینہ جنگ شروع کر دی۔

اس دوران لیاری میں عزیر بلوچ کی عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنماؤں نے عزیر بلوچ سے ملاقات کی، جس کے بعد ایسا لگنے لگا کہ شاید عزیر بلوچ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کا خیال تھا کہ وہ عزیر بلوچ کی خدمات حاصل کر کے پیپلز پارٹی کے مضبوط گڑھ ’’لیاری‘‘ میں پیپلز پارٹی کو للکارنے کے قابل ہو جائے گی، مگر عزیر بلوچ سے ن لیگ کی یہ دوستی عارضی ثابت ہوئی اور بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ تاہم عزیر بلوچ، پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت اور سندھ حکومت کے مابین تناؤ موجود رہا۔ اس تناؤ نے میڈیا کو بھی متاثر کیا۔ وہ متاثر اس طرح ہوئے کہ لیاری اور لیاری گینگ کے اس سربراہ کی ’’خبر‘‘ لینے لیاری پہنچ گئے۔ ’’لیاری‘‘ جو لیاری گینگ کی سرگرمیوں کے باعث پاکستان ہی نہیں، پوری دنیا کی نظروں میں آ چکا تھا۔ جب میڈیا کا مرکز نگاہ بنا تو عزیر بلوچ کو پاکستان کا بچہ بچہ جاننے لگا۔

کئی چینلوں کے معروف اینکر عزیر بلوچ کے انٹرویو کے لئے لیاری اُن کی رہائش پر پہنچے۔ یہ وہ دن تھے جب زیر عتاب آنے کے باعث عزیر بلوچ بظاہر روپوشی کی زندگی گزار رہے تھے۔ پولیس اُن کے تعاقب میں تھی اور گرفتار کرنا چاہتی تھی اس کے باوجود وہ ببانگ دہل لیاری میں بیٹھے مختلف چینلز کو انٹرویو دے رہے تھے اور پورا لیاری عزیر بلوچ کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ وہ ان نعروں کی گونج میں ایک بڑے لیڈر کے طور پر سامنے آ رہے تھے۔یہ طبل جنگ تھا پیپلز پارٹی کے خلاف۔ ایسے حالات میں بھی عزیر بلوچ سندھ میں پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت سے مرعوب نہیں تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کی سندھ قیادت اُن کی مقبولیت سے خوفزدہ اور مرعوب نظر آتی تھی۔ شاید اس موقع پر پیپلز پارٹی نے بھی محسوس کیا کہ اگر لیاری میں انہیں جیتنا ہے تو عزیر بلوچ کو ساتھ ملانا ہو گا۔ اُس کی دوستی سے ہی وہ لیاری میں عوامی مینڈیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سوچ نے پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت کو عزیر بلوچ کے پھر سے قریب کر دیا۔ اس طرح ان کے درمیان ایک بار پھر دوستی کا آغاز ہوا۔ دونوں پھر ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔

مگر اس دوران حالات نے پلٹا کھایا۔ کراچی میں رینجرز آپریشن شروع ہو گیا جن کو دہشت گردوں، بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کے خلاف آپریشن کا مینڈیٹ دیا گیا تھا۔ لیاری بھی اس آپریشن کی زد میں آیا۔ لیاری گینگ وار کے خلاف رینجرز کا گھیرا تنگ ہوتے دیکھ کر عزیر بلوچ ایران کے راستے دبئی فرار ہو گیا۔ دبئی جانے سے پہلے ایران میں عزیر بلوچ نے جعلی نام کے ساتھ ایرانی شہریت پر مبنی جعلی پاسپورٹ حاصل کیا۔ بعد ازاں دبئی چلا گیا۔پاکستان انٹیلی جنس اداروں نے اس کا پتہ چلایا اور ریڈ وارنٹ جاری کر کے انٹرپول کے ذریعے دوبئی میں اُس کی گرفتار ی عمل میں لے آئے، لیکن پاکستانی اور ایرانی پاسپورٹو ں کے باعث دوبئی انتظامیہ نے عزیر بلوچ کو کراچی سے جانے والی انویسٹی گیشن ٹیم کے حوالے نہ کیا۔ یہ ٹیم کچھ روز دوبئی میں قیام کے بعد ناکام و نامراد واپس پاکستان لوٹ آئی اور یہ معاملہ کھٹائی میں پڑتا دکھائی دینے لگا۔ خبریں یہ بھی آئیں کہ عزیر بلوچ کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس وقت وہ اسلام آباد پولیس کی تحویل میں ہے۔ کبھی یہ بھی بتایا گیا کہ عزیر ابھی دوبئی میں ہی ہے، لیکن گرفتار ہے اور دوبئی پولیس نے تحویل میں لے رکھا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ خبریں غلط ثابت ہوئیں۔ اب تازہ ترین ’’اپ ڈیٹ‘‘ سے پتہ چلا ہے کہ وہ سب ’’خبریں‘‘ افواہیں تھیں۔ حقیقت اب یہ ہے کہ عزیر بلوچ گرفتار ہو چکے ہیں۔ رینجرز کی تحویل میں ہیں اور انسداد دہشت گردی کورٹ سے اُن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جا چکا ہے۔

رینجرز کی اس تفتیش میں کیا کیا انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ اُن کی تفصیل نہایت سنسنی خیز ہے۔ عزیر 400سے زائد افراد کے قتل کا اقرار کر چکا ہے۔ میڈیا سمیت پوری قوم کو اب یہی انتظار ہے کہ مزید نئے کیا انکشافات ہوتے ہیں۔ عزیر کی گرفتاری پر تجزئیے، تبصرے بھی ہو رہے ہیں اور قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ رینجرز کی تفتیش کے دوران کئی اور اہم گرفتاریاں عمل میں آ سکتی ہیں۔ ان گرفتاریوں کا تعلق پولیس، پیپلز پارٹی اور اس کی اعلیٰ قیادت سے ہو گا۔ ڈاکٹر عاصم کے بعد عزیر بلوچ کی گرفتاری پیپلز پارٹی کے لئے سخت پیغام ہے۔ ہر کوئی اپنے کئے کی سزا ضرور پاتا ہے۔ یہی مکافاتِ عمل ہے۔ عزیربلوچ جو کل کا ہیرو تھا، آج زیرو ہو چکا ہے، جن کے لئے اُس نے کام کئے، قتل جیسی گھناؤنی وارداتیں کیں، یہ سب کچھ اب سامنے آ رہا ہے۔ بس صرف چند دنوں کی اور بات ہے۔ پھر سب کچھ صاف ہو جائے گا۔ جرم کرنے والوں کو جرم کی سزا ملنی ہی چاہئے۔ یہ سبق بھی ہے اُن کے لئے، جو بے لگام ہو جاتے ہیں کہ نہ اُن میں انسانیت رہتی ہے، نہ قانون کا ڈر اور پاسداری۔ کہاوت ہے ’’جو بویا جائے، وہ کاٹنا پڑتا ہے‘‘ یہی مکافاتِ عمل ہے ، ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔

مزید : کالم