اورنج لائن ٹرین: خدا کا خوف کیجئے!

اورنج لائن ٹرین: خدا کا خوف کیجئے!
 اورنج لائن ٹرین: خدا کا خوف کیجئے!

  

کل ساہیوال میں کول پاور پراجیکٹ کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بڑے کام کی باتیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں برسراقتدار لوگوں نے بظاہر ملک کی ترقی کے نام پر بہت سے منصوبے سوچے اور بڑے طمطمراق سے ان پر کام کا آغاز بھی کیا لیکن ان میں سے بہت کم پراجیکٹ ایسے تھے جو پروان چڑھ سکے۔ باقی طاقِ فراموشی کی زینت بن گئے ۔ پاکستان میں کوئلے کے کثیر ذخائر موجود ہیں لیکن ان کو پہلے زمین کی تہوں سے نکالنا ایک چیلنج ہے۔ اس پر بہت سے لوگوں نے بہت سی بحثیں کیں۔ امیدیں دلائیں اور پھر نومیدیوں کا سیشن بھی ہوا۔ لیکن پاکستان جس ترقی اور خوشحالی کا خواب دیکھنے کا منتظر تھا، وہ کہیں نظر نہ آیا۔ اب ہم نے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے تین منصوبے لگائے ہیں جن میں سے ایک یہ ساہیوال کول پلانٹ کا منصوبہ بھی ہے۔ ان تینوں پراجیکٹوں سے ہمیں 3600میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی۔ ان کے علاوہ ایل این جی (LNG) کے منصوبے بھی ہیں۔ دفاع کی ذیل میں ہم JF-17 بنا رہے ہیں جس کی برآمد کے امکانات روشن نظر آ رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

وزیراعظم کے ناقدین ان کے بارے میں کچھ بھی کہتے رہیں، ایک بات جو ہمارے سامنے ہے وہ نون لیگ کے علاوہ دوسری سیاسی پارٹیوں اور فوجی حکومتوں کے ادوار بھی ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد ہم نے ترقی کے جو بڑے بڑے سنگ میل طے کئے، وہ اگرچہ فوجی ادوار میں مکمل ہوئے لیکن یہ بھی درست ہے کہ فوجی حکومتیں کتنی بھی ملک دوست ہوں، ان کے ادوار میں ملک کتنی بھی ترقی کرلے، عوام الناس ان سے اس لئے راضی نہیں ہوتے کہ ان کی اپنی شمولیت کا کلچر فوجی حکومتوں میں بالعموم ناپید رہتا ہے۔ ضیاء الحق ایک فوجی آمر تھے۔ انہوں نے اگرچہ ملک کو جوہری اہلیت سے ہمکنار کیا، لیکن آج انہی کو پاکستان کے ہر دلعزیز لیڈر اور وزیراعظم کو پھانسی دینے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اور ساتھ ہی پاکستان کے افق پر آج جس دہشت گردی کی فضا کو آپ طاری دیکھ رہے ہیں اس کا آغاز بھی افغان جہاد کے دور میں جنرل ضیاء الحق ہی کے نام کیا جاتا ہے ۔ پھر جنرل پرویز مشرف نے باتیں تو بہت کیں لیکن زمین پر ان کے کارہائے نمایاں کے ثبوت کہیں نظر نہیں آئے۔ شدت پسندی اور دہشت گردی کی جو جو تشریحات اور تصریحات وہ وقتاً فوقتاً کرتے رہتے تھے اور وہ آتشِ گل کے خوف والا شعر جو وہ اکثر پڑھا کرتے تھے، اس کے باوصف آج بہت سے غیر ملکی اور ملکی مورخ اور تبصرہ نگار ان کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں کہ انہوں نے ہی افغانستان میں امریکہ کے آنے کا راستہ ہموار کیا اور انہی کے دور کے آخری برسوں سے لے کر آج تک خودکش بمباری کے جو دلدوز اور بھیانک مناظر پاکستان میں دیکھنے کو ملے، ان کی خشتِ اول بھی امریکی ٹروپس کو پاکستان ائرفیلڈز تک رسائی دینے کے ساتھ ہی رکھ دی گئی تھی۔

جنرل پرویز مشرف کے بعد پی پی پی کا جو دور آیا اس کی معمار بے نظیر بھٹو کے قتل (شہادت؟) کے بعد پاکستان کے سوادِاعظم کے دلوں کی وہ ہمدردی تھی جو پی پی پی کے دوسرے بڑے لیڈر (ذوالفقار بھٹو کے بعد) کی شہادت سے پیدا ہوئی۔ افسوس کہ پانچ سال کی اس طویل مدت میں پی پی پی کی حکومت نے ایسا کوئی ملکی منصوبہ پروان نہ چڑھایا جو پاکستان اور اس کے عوام کے دیرینہ مسائل کا حل بن سکتا بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگاکہ وہ زرداری دور، پاکستان کے گزشتہ تمام سویلین اور فوجی ادوار سے کہیں بدتر اور بدنصیب تر دور تھا!

پھر 2013ء میں جب نون لیگ نے اقتدار سنبھالا تو عام خیال یہی تھا کہ یہ سویلین دور بھی سابقہ ادوار کی طرح پاکستان کو کچھ نہیں دے سکے گا۔ عمران خان کے دھرنوں کی مذمت اگرچہ نون لیگ والے آئے روز کرتے رہتے ہیں لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ان کے 126دنوں کے دھرنوں کی وجہ سے پاکستان کی ترقیاتی ٹرین پٹڑی سے اتر کر اتنی دور چلی گئی تھی کہ وہ پٹڑی آج تک مرمت طلب ہی پڑی رہی۔ نون لیگ کے رہنما بشمول وزیراعظم اگر اپنے خطابات میں 126 دنوں کے ’’عمران دھرنوں‘‘ کا پہاڑہ نہ ہی پڑھا کریں تو بہتر ہوگا۔ عمران خان کے دھرنوں نے جہاں پاکستانی عوام کی آنکھیں کھولیں اور ان کو ملکی مسائل اور اپنی ذات کے شعور سے آگاہ کیا وہاں حکمرانوں کو بھی خوفِ احتساب کا احساس دلایا۔۔۔ یہ کامیابی کچھ ایسی کم قیمت اور کم وقعت شمار نہیں کرنی چاہیے۔اب میں موجودہ نون لیگ اور لاہور کے اورنج ٹرین پراجیکٹ پر چند حقائق قارئین کے ساتھ شیئرکرنا چاہتا ہوں۔

اول یہ کہ 20ویں صدی کی دونوں عظیم جنگوں نے برصغیر پاک و ہند کا کچھ بھی نہ بگاڑا۔ ہم ان جنگوں کی تباہ کاریوں اور بربادیوں سے ’’محفوظ‘‘ رہے جبکہ دوسری عظیم جنگ میں تو بالخصوص آدھی۔ دنیا کی سہاگنوں کے سہاگ اجڑ گئے اور ماؤں کی گودیں خالی ہو گئیں۔ سارا یورپ اور مشرقی ایشیا جاپان سے لے کر ویت نام بلکہ انڈونیشیا تک زخم زخم ہو گیا۔ درجنوں ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ اتحادی فضائی بمباری نے نازی جرمنی کی کوئی ایک بھی عمارت ایسی سالم نہ چھوڑی جو قبل از جنگ اس ملک کا تاریخی ورثہ شمار کی جاتی تھی۔ یہی حال باقی ماندہ یورپی ممالک کا بھی ہوا جو اس جنگ کے چھ برسوں (1939ء تا 1945ء)میں راکھ کا ڈھیر بنا دیئے گئے۔ہیروشیما اور ناگاساکی کے گراؤنڈز زیرو کی تصاویر دیکھیں اور جرمن ہولوکوسٹ کی داستانیں اور تصویریں ملاحظہ اور مشاہدہ کریں تو بدن میں کپکپی دوڑنے لگتی ہے۔

پھر اکیسویں صدی کی مشرق وسطیٰ کی جنگوں میں عراق، شام اور افغانستان کا حال بھی یہی ہوا۔ اگر کوئی صاحب ایک کاغذ پر ان تاریخی نواردات کی فہرست تیار کرنے بیٹھیں جو جنگ عظیم دوم کی اتحادی یا محوری قوتوں کی فضائی بمباری یا ان کے توپخانے کی گولہ باری کے ہاتھوں تباہ و برباد ہو گئے تو ایک نیا جہان معنی آپ کے سامنے کھل جائے گا۔ عراق اور شام کی موجودہ جنگ میں بھی سینکڑوں کلیسا، ہزاروں مساجد اور لاتعداد ایسے تاریخی آثار مسمار کر دیئے گئے جن کی پشت پر صدیوں کی داستانیں رقم تھیں۔ لیکن دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد خدا جانے وہ امریکہ کا مارشل پلان تھا یا مختلف یورپی اور ایشیائی ممالک کی اپنی انفرادی کوششیں تھیں جنہوں نے مسمار شدہ عمارتوں اور برباد شدہ آثار کے کھنڈرات کی جگہ ایسے ایسے یادگار،عظیم الشان اور جدید عمارتی منصوبے تعمیر کئے جو قابل دید اور قابل تحسین ہیں۔ پھر اس جنگ کے بعد 1945ء سے لے کر 2000ء تک کے درمیان جو نصف صدی کا عرصہ ہے اس میں ایک نیا یورپ اور ایک نیا مشرقی ایشیاء تعمیر ہوگیا جو پرانے یورپ اور پرانے مشرقی ایشیا سے زیادہ تابناک اور زیادہ روشن تھا۔۔۔ لے دے کر ایک بد نصیب ہمارا ہی برصغیر تھا جس کی ایک اینٹ بھی 20 ویں صدی کی ان جنگوں کے باعث ’’زخمی‘‘ نہ ہوئی۔ سب کچھ سلامت رہا اور ہم ہندوستانی/ پاکستانی اپنے جامد اور ساکت ماضی سے چمٹے رہے۔ اقبال نے اس لئے سوال کیا تھا۔

آسمانِ تازہ پیدا بطنِ گیتی سے ہوا

آسماں ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک؟

لیکن افسوس ہم ڈوبے ہوئے تاروں ہی کا ماتم کرتے رہے۔ آفتابِ تازہ کو نہ دیکھ سکے اور دیکھتے بھی کیسے؟ جب آپ کی نگاہیں آفتاب کو دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کریں اور سورج کے سامنے دیوار کھڑی کر دیں تو آپ کے آنگن میں دھوپ کہاں سے آئے گی؟۔۔۔ ایک فارسی شاعر کا کیا لاجواب شعر ہے:

پیشِ خورشید بر مکش دیوار

خواہی ار صحنِ خانہ نورانی

(ترجمہ اگر گھر کا آنگن نورانی دیکھنا چاہتے ہو تو سورج کے سامنے دیوار نہ اٹھاؤ)

آپ جانتے ہیں کہ لاہور میں تاریخی آثاروں کی کمی نہیں۔۔۔ چوبرجی، شالا مار باغ، مقبرہ جہانگیر، شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد، بدھو کا آوا، جنرل پوسٹ آفس اور لاہور ہائی کورٹ کا ایک حصہ، اندرون شہر کا سارا الا بلا جس کے سبب لاہور کو ’’فصیلی شہر‘‘ (Walled City) کہا جاتا ہے، یہ سب کے سب سینکڑوں برسوں سے قائم ہیں اور ہم ان کو ماضی کا گرانقدر ورثہ سمجھ کر سنبھال سنبھال کر رکھ رہے ہیں۔ کسی آثار سے اگر کوئی پلستر کا ٹکڑا بھی اکھڑے تو ہم دوبارہ چونا اور سیمنٹ لگا دیتے ہیں۔ لیکن کیا ایسا کرنے سے ہماری اس کارگزاری پر ’’ماضی پرستی‘‘ کا لیبل نہیں لگ سکتا؟۔۔۔ کیا ہم نئی چوبرجیاں اور نئے شالا مار تعمیر نہیں کر سکتے ہیں؟۔۔۔ ہم کب تک ان کو اہرامِ مصر، سکندریہ کا لائٹ ہاؤس، دیوار چین، توتخ آمون کا مقبرہ اور بابل کے معلق باغات گردانتے رہیں گے؟۔۔۔ کیا ہمیں معلوم نہیں کہ دنیا میں نت نئے ’’ہفت عجائبات‘‘ بنتے اور مسمار ہوتے رہتے ہیں؟۔۔۔ کیا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے ماضئ بعید کو حنوط کر کے اپنے سامنے بتوں کی طرح بنا سنوار کے اور سجا کے رکھنا ہے؟۔۔۔ کیا ہم نے تازہ آفتاب نہیں دیکھنا؟

ذرا تصور کیجئے اگر جنگ عظیم اول یا دوم میں سے کسی ایک جنگ میں ہمارا یہ پاکستان بھی کسی فریقِ جنگ کی بمباری کا نشانہ بن جاتا اور اس میں چوبرجی، بارہ دری اور شالا مار وغیرہ نشانہ بن جاتے تو ہم کیا کرتے؟۔۔۔ فرض کریں ،خدا نہ کرے، کل کوئی زلزلہ آ جاتا ہے یا سیلاب چڑھ آتا ہے یا کوئی اور آفت ارض و سماء ہم پر ٹوٹ پڑتی ہے تو کیا یہ بے جان آثار وصنا دید سلامت رہیں گے؟ ۔۔۔اگر کبھی آپ کو یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ یا تو بارہ دری کو بچا لو یا فلاں آبادی کے مکینوں کو بچا لو تو آپ کا فیصلہ کیا ہوگا؟۔۔۔ کیا ہم اینٹ، پتھر اور چونے کو بچائیں گے؟۔۔۔ کیا ہم نے مولانا رومی کا وہ مشہور شعر نہیں پڑھا یا سنا؟

ہر بنائے کہنہ کآ باداں کنند

اول آں بنیاد را ویراں کنند

(ترجمہ: جب بھی کوئی پرانی عمارت ڈھائی جاتی ہے تو اس کی بنیادیں اکھیڑنی پڑتی ہیں)

اگر ہم نے نیا پاکستان بنانا ہے تو نئی سڑکیں نئی شاہراہیں، نئی عمارتیں اور نئی ٹرینیں بھی بنانی ہوں گی۔ پاکستان کے محل وقوع کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کئی ہمسایہ ممالک کے مشہور شہروں میں نئی عمارات اور شاہراہیں اور ٹرینیں تعمیر کرنے کی غرض سے پرانی، بوسیدہ اور قدیم وکہنہ عمارتوں کو مسمار کیا گیا ہے یا نہیں؟ اگر ہم نے بھی شہر لاہور کو جدید خطوط پر تعمیر کرنا ہے تو اس سے پہلے کہ کوئی چوتھی پاک بھارت جنگ ان آثار و مقامات کو منہدم کر دے، ہمیں خود ہی ان کو گرا کر ایسی جدید تعمیرات بنانی چاہئیں جو عوام کے دیکھنے کی غرض سے اپنی جگہ پر ’’ساکت و صامت‘‘ نہ رہیں بلکہ استعمال ہو کر متحرک ہوں، بارونق ہوں اور عوامی خوشحالی اور ترقی میں معاون ہوں۔ اگر باہر سے کوئی سیاح پاکستان دیکھنے آئے تو اس کو صدیوں پرانا لاہور نہ دکھائیں۔ اپنے فصیل دار (Walled City) ہونے پر نہ اترائیں۔ جدت و ندرت کا ثبوت دیں، قدامت اور کہنگی کا نہیں۔۔۔۔ لاہور کو زندگی آمیز اور حیات آموز بنائیں، مرگ آمیز اور موت آموز نہیں! ہم زندہ دلان لاہور کہلاتے ہیں اس لئے خدارا حنوط شدہ بتوں کو بغلوں میں نہ دبائیں ۔زندہ انسانوں کی فلاح کے لئے بے جان عمارتوں کو اورنج لائن جیسے متحرک منصوبوں کی راہ میں حائل نہ ہونے دیں۔۔۔ خدا کا کچھ خوف کریں:

مندر ڈھا دے مسجد ڈھا دے، ڈھا دے جو کجھ ڈھیندا

اک بندے دا دل نہ ڈھاویں، تے رب دلاں وچ رہندا

مزید : کالم