انتشار کا کمبل کب جان چھوڑے گا؟

انتشار کا کمبل کب جان چھوڑے گا؟
 انتشار کا کمبل کب جان چھوڑے گا؟

  

پاکستان وہ ملک ہے کہ جہاں ہر روز ایک نیا منظر طلوع ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر جی رہے ہیں اور جو مسئلہ ہر نئے دن میں سر ابھارتا ہے، اسے حل کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں، باقی مسائل پس پشت ڈال دیتے ہیں، اب یہی دیکھئے کہ چند روز پہلے تک دہشت گردی کے بعد سکولوں کی سیکیورٹی اور بچوں کی حفاظت کا معاملہ سرفہرست تھا، لیکن اب پوری نظریں اور حکومت کی تمام تر توجہ پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال، کراچی میں فائرنگ سے دو اموات اور اس کے بعد سیاسی جماعتوں کی جانب سے حکومت پر شدید تنقید کے شورشرابے نے باقی تمام ایشوز کو قصہ ء ماضی بنا دیا ہے۔ یہ ہماری جمہوریت میں کسی خرابی کا نتیجہ ہے، طرزِ حکمرانی میں کسی کوتاہی کا شاخسانہ ہے یا پھر ہماری سیاسی اشرافیہ کی سوچ میں موجود انسانیت کی دین ہے کہ ہم قوم کو یکجا نہیں کر سکے اور آئے روز کے واقعات بتاتے ہیں کہ ہمارے اندر ایک گہری خلیج موجود ہے جو ہمیں اکٹھا نہیں ہونے دیتی۔

اس تناظر میں ایک سوال جس کا مجھے تو باوجود کوشش کے آج تک کوئی جواب نہیں مل سکا اس نکتے پر مرکوز ہے کہ آخر اسلام کے نام پر قائم ہونے والا ملک، تمام تر قدرتی وسائل سے مالامال خطہ ارضی آخر ایک فلاحی معاشرے میں کیوں نہیں ڈھل سکا۔ کیوں ہم پر ایک کرپٹ اور استحصالی معاشرے کا لیبل لگ چکا ہے۔ اگر آئین پاکستان پر نظر دوڑائیں تو اس میں سراسر فلاح کا سامان ہی بکھرا نظر آتا ہے۔ اس کی ایک ایک شق سے ٹپکتا ہے کہ اس کی بنیاد مساوات اور فلاحی نظام پر رکھی گئی ہے۔ اس کے کسی پہلو سے نہیں لگتا کہ وہ کہیں اسلام سے متصادم ہے۔ اس سے اوپر دیکھیں تو ہمارے پاس اسلام کا فلاحی تصورِ حیات موجود ہے۔ وہ تصور کہ جس نے دنیا میں انسانیت کے اعلیٰ معیارات کو یقینی بنایا، وہ مذہب کہ جو ہر مسئلے کا عملی حل پیش کرتا ہے، کیا یہ افسوسناک امر نہیں کہ ہم ایسے ارفع و اعلیٰ دین کو اپنے آئین کا سپریم لاء اور اپنے ملک کے نام کا حصہ بنانے کے باوجود اسے اپنی منزل اور فلاح کا ذریعہ نہیں بنا سکے۔ اس حقیقت کو اب تسلیم کرنے کا وقت آ گیا ہے کہ ہمارے نظام میں ایسی بڑی خرابیاں موجود ہیں، جنہوں نے ہمیں اس حال تک پہنچایا ہے۔ ریاست کی ذمہ داریاں سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہیں۔ فلاحی معاشرہ ایک خواب کی شکل اختیار کر گیا ہے، جس کی تعبیر کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔ ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ اسلام اور جمہوریت دونوں کے حقیقی ثمرات سے محروم ہے۔ حالانکہ جن ممالک نے صرف جمہوریت کو حقیقی معنوں میں اپنا لیا،وہ آج فلاحی مملکتوں میں ڈھل چکے ہیں، ہمارے پاس تو جمہوریت کے ساتھ ساتھ اسلام جیسا عظیم نظریہ ء حیات بھی موجود ہے۔ پھر ہم ایک بے کل اور پر انتشار معاشرے میں کیوں ڈھل گئے ہیں؟

جب مَیں یہ کہتا ہوں کہ شر سے خیر اُبھر رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بالآخر ہم اس نکتے پر سوچنے لگے ہیں کہ آخر خرابیاں ہیں کہاں کہاں کہ جن کی وجہ سے ہم اس حال کو پہنچے ہیں۔ چندفیصد طبقوں نے اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کے لئے جو ہتھکنڈے اختیار کر رکھے ہیں، وہ شاید اب مزید نہ چل سکیں، جس طرح کہا جاتا ہے کہ چور کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا ہے، اسی طرح وہ قوتیں حالات کی بدترین صورت حال کے باعث اب پکڑی گئی ہیں کہ جنہوں نے صحیح معنوں میں آئین کو نافذ ہونے دیا اور نہ ملک میں مساوات اور عدل و انصاف کو یقینی بنایا۔ ان کا مقصد و منشا آج بھی یہی ہے کہ کسی طرح اس ملک کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ کر چلایا اور لوٹا جائے۔ اس رویے کے باعث حالات آج اس نہج پر ہیں کہ اگر اصلاح نہ کی گئی تو بڑی تباہی ہمارا مقدر بن جائے گی۔ پاکستانی معاشرے میں جو انارکی نظر آرہی ہے، وہ ایک دن میں پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے پیچھے سال ہا سال کی وہ منفی کاوشیں شامل ہیں، جن کے ذریعے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو ایک مذاق سمجھا گیا۔ جمہوریت کو عوام کے ساتھ دھوکہ بازی کا ذریعہ بنایا گیا۔ تمیز بندہ و آقا کو ایک باقاعدہ دستور کی شکل دی گئی۔ عوام سے کہا گیا کہ وہ اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ عوام سے قربانی مانگنے والے ہمیشہ خود قربانی دینے کو گناہ سمجھتے ہیں۔ معیشت چاہے سسکیاں لے رہی ہو، ان کے اللے تللے جاری رہتے ہیں۔ دفتروں کی آرائش و زیبائش اور نئی گاڑیوں کی خریداری پر کروڑوں اُڑا دیئے جاتے ہیں، جس کسی پرسرکار کا ٹھپہ لگ جائے وہ پانی تک سرکاری وسائل سے پینے لگتا ہے۔ گویا وہ عوام کے سروں پر سوار ہو جاتا ہے اور ان سے منتخب کرنے کا خراج مانگتا ہے۔

ہماری سیاست وہ کالی چادر ہے کہ جس کے پیچھے سب کچھ چھپ جاتا ہے۔ پاکستان میں سب سے آسان نسخہ یہی ہے کہ آپ اپنی لوٹ مار یا لاقانونیت کو سیاست میں چھپا دیں۔ پھر جب کوئی سرکاری محکمہ یا حکومت آپ کے خلاف کارروائی کرے تو سیاسی انتقام کا شور مچا کر جمہوریت کو خطرے میں ڈال دیں۔ یہ وہ تیر بہدف نسخہ ہے جسے پچھلی کئی دہائیوں سے بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔۔۔ ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی چوکھا آئے۔۔۔ کے مصداق اس نسخے کے ذریعے نہ صرف قانون کو بے بس کیا جا سکتا ہے، بلکہ عوام کی نظروں میں ہیرو بننے کا سو فیصد چانس بھی موجود ہوتا ہے۔ یہ کیسی سیاست اور کیسی جمہوریت ہے جو کرپشن کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ کس آئین میں لکھا ہے کہ سیاست دان کے خلاف قانون شکنی پر کارروائی نہیں ہو سکتی۔ دور جانے کی ضرورت نہیں، اگر حکومت مختلف شہروں سے نوگوایریاز ختم کرنے کا اعلان کر دے تو آج ہی اس کے خلاف انتقامی کارروائی کا واویلا شروع ہو جائے گا۔ ہر طرف سے آوازیں اٹھیں گی کہ حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔ اگر آپ کسی کی زمین پر قبضہ کرکے سیاسی جماعت کا دفتر بنا لیں اور اس پر جھنڈا لگا دیں تو کوئی مائی کا لال آپ کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکے گا۔ اسی طرح کی سیاسی شخصیت کے گھر کے سامنے سے گزرنے والی سڑک کو سیکیورٹی کے نام پر بند کر دیں تو اسے کھلوانے کی ہرکوشش جمہوریت دشمنی شمار ہوگی۔ سپریم کورٹ نے کراچی سے نوگوایریاز ختم کرنے کا حکم دیا تھا، مگر سندھ حکومت اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی کیسے مارتی ، سو بلاول ہاؤس کو جانے والی سڑکیں کھل سکیں اور نہ ہی نائن زیرو یا لیاری کے راستے کھل سکے۔ جب جمہوریت اور سیاست کا نام لاقانونیت پڑ جائے تو پھر کہاں کی گڈ گورننس اور کہاں کا مہذب معاشرہ؟

جن ممالک نے سیاست اور سیاست دانوں کو مقدس گائے نہیں سمجھا، وہ آج ایک بہتر معاشرے کا نقشہ پیش کررہے ہیں۔ امریکہ میں اگر جان کیری کو گھر کے آگے پڑی برف نہ ہٹانے پر جرمانہ ہو سکتا ہے تو وہاں کا عام شہری اس حرکت کا کیسے سوچے گا۔ یہاں سیاستدان صرف اپنے لئے ہی نہیں، بلکہ اپنے حواریوں کے لئے بھی قانون سے مکمل چھوٹ مانگتے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے جب تک یہ عمل سامنے نہ آئے ،کوئی حکومتی ادارہ ان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا۔ ان کے اسلحہ بردار شادیوں اور جلسوں کے موقعوں پر بے دریغ فائرنگ کرکے قانون توڑتے ہیں۔ پولیس کے تھانے اور سپاہی سامنے کھڑے ہوتے ہیں، مگر ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ کسی میڈیا چینل کی نظر ان پر پڑ جائے اور وہ خبر کو نشر کر دے تو وزیراعلیٰ نوٹس لیتے ہیں، جس کے بعد پولیس کے تنِ مردہ میں جان پڑتی ہے اور وہ ملزموں کے خلاف قانون کے بستے اٹھا کر کارروائیاں کرنے کا قصد کرتی ہے، کیا اسے قانون کی عملداری قرر دیا جا سکتا ہے؟ ایک تو ریاست نے اپنے تمام اختیارات وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی ذات میں بند کر دیئے ہیں۔ وہ جب تک نوٹس نہ لیں ریاستی ادارے ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ ممکن ہے وہ اس بات پر خوش ہوتے ہوں، لیکن میرے نزدیک یہ کوئی احسن صورت حال نہیں، اس بات سے فائدہ اٹھانے والے عوام کا جینا دوبھر کر دیتے ہیں۔ کئی بار یوں لگتا ہے کہ جیسے ہماری قیادت قومی مسائل پر ایک ہو گئی ہے۔ خوشگوار ہوائیں آنے لگتی ہیں، یکجہتی کا احساس ابھرتا ہے؟ مگر جلد ہی کوئی ایک ایشو، کوئی ایک واقعہ کوئی ایک گولی سب کچھ تتربتر کر دیتی ہے۔ یہ سب کیوں ہوتا ہے اور ہم اتنی آسانی سے اپنا اصل راستہ کیوں چھوڑ دیتے ہیں، کاش اس نکتے پر بھی کوئی سوچے وگرنہ تو ہر روز کی ایک نئی مشق ہمیں ایک گہرے انتشار کی طرف کھینچتی رہے گی۔

مزید : کالم