آلو کا بھاؤ اور مرغی؟

آلو کا بھاؤ اور مرغی؟
 آلو کا بھاؤ اور مرغی؟

  

گزشتہ دِنوں وزیراعظم محمد نواز شریف نے اطمینان سے مسکراتے ہوئے کہہ دیا کہ اشیاء سستی ہوئی ہیں۔ آلو پانچ سے سات روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، ان کی اس بات پر کیا کیا کالم باندھے اور تبصرے کئے گئے کہ مزہ آ گیا۔ ایک سینئر نے تو آلوؤں کی سیاسی تاریخ بھی بیان کر دی۔ اس میں آلو کے ساتھ ساتھ بعض اور سیاسی استعاروں کا بھی ذکر تھا۔ اس سلسلے میں یا تو نظر سے اُوجھل ہوا یا پھر آلو خان کا ذکر ہی نہیں کیا گیا کہ یہ نہ صرف بہت مشہور ہوا، بلکہ ایک مظاہرے کے دوران پیپلزپارٹی کے وکلاء نے چھڑیوں پر آلو لگا کر ’’آلو، آلو، آلو خان‘‘ کے نعرے بھی لگائے اور پھر ایک دور یہ بھی آیا کہ ایک سیاسی اتحاد میں نعرے لگانے والے اور جن صاحب کے خلاف نعرے لگے وہ ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوئے یہ پی ڈی اے تھا اس میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور ائر مارشل (ر) اصغر خان ایک ہی جگہ موجود تھے اور دونوں جماعتوں کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فارمولا بھی طے پایا تھا۔ یہ اتحاد1996ء میں بنا اور انتخابات میں حصہ بھی لیا گیا۔ ’’پاکستان جمہوری اتحاد‘‘ بھی پاکستان جمہوری پارٹی کے بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان کی کاوش تھی۔

یہ تو خیر سیاسی عمل تھا،آج تو آلو کی بات کرنا تھی کہ وزیراعظم نے جو نرخ بتایا اس پر طنز کی گئی اور عام لوگوں نے حقیقتاً دریافت کیا کہ اس بھاؤ میں آلو کہاں فروخت ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وزیراعظم کو جھٹلانا درست نہیں ہو گا کہ ان کو جس ذریعے سے معلوم ہوا وہ ان کی اپنی کلاس ہے کہ ان کی جماعت کے کسی بڑے زمیندار نے یہ رونا رویا ہو گا کہ اس مرتبہ تو بہت زیادہ نقصان ہو گیا کہ آلو کے نرخ پانچ سے سات روپے فی کلو سے زیادہ نہیں ملے اور غالباً یہ برآمد کرنے کی سہولت دینے کے حوالے سے کہا گیا ہو گا۔ بہرحال ہم آج ماہانہ عادت کے مطابق گھر کے لئے سبزیاں خریدنے علامہ اقبال ٹاؤن کی سبزی منڈی گئے تو یہ بھی تجسس تھا۔ ہم چندٹکوں کی بچت کے لئے اِس سبزی منڈی ضرور جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ منڈی کے نام پر تہمت ہی ہے تاہم پرچون فروشوں کی نسبت سبزی قدرے سستی مل جاتی ہے۔ اسے ہمارا اتوار یا سستا بازار کہہ لیں کہ یہاں زمین پر تھڑے بنا کر بے شمار سبزی فروش بیٹھے ہیں جو عرف عام میں ’’پھڑیئے‘‘ کہلاتے ہیں۔ یہاں صبح اور پھر عصر کے بعد قریب کے بیوپاری یا زمیندار سبزیاں لے کر آتے اور یہاں جو حضرات آڑھتی کہلاتے ہیں وہ بولی لگا کر بیچ دیتے ہیں،اس تھوک کے سودے کو یہ پھڑیئے بولی لگا کر خریدتے اور پھر اپنی دکانیں سجا لیتے ہیں، جن سے ہم جیسے ضرورت مند پرچون سودا لے لیتے ہیں۔

ہماری عادت ہے کہ ہم دوسروں پر اعتبار کرتے ہیں، اس لئے یہاں کے دو تین دکانداروں سے ہی سودا لیتے ہیں کہ بھاؤ تاؤ کے چکر میں پڑنے سے بچ جائیں۔ آج تجسس تھا تو نرخوں کا موازنہ بھی کیا، ہم نے آلو، پیاز، ادرک، لہسن اور ٹماٹر تو اسی دکاندار سے لئے جس سے ہمیشہ لیتے ہیں تاہم ہمارے صاحبزادے نے ایک دو دوسرے دکانداروں سے بھی نرخ پوچھ لئے۔ ہمیں یہاں آلو16روپے فی کلو، پیاز40روپے،ادرک اور لہسن 200روپے اور ٹماٹر 60روپے فی کلو کے حساب سے ملے،جبکہ یہیں بعض دکان والے آلو 14سے15 روپے کلو بھی فروخت کر رہے تھے۔ ہم نے دکاندار سے فرق کے بارے میں پوچھا تو اس کا دعویٰ تھا کہ ایک دو روپے فی کلو سستے آلو میٹھے ہیں، جب اس سے وزیراعظم والے نرخ کی بات کی گئی تو وہ ہنسنے لگا اور کہا کہ یہ نرخ تو منڈی میں تھوک کا بھی نہیں۔البتہ یہ ممکن ہے کہ زمیندار سے خریدنے والا آڑھتی اسی نرخ پر خرید کر منڈی لاتا ہو اور یہاں یہ دس سے بارہ روپے فی کلو تک بِک کر 15سے 16روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں جبکہ یہی آلو علاقائی دکانوں پر20سے25روپے فی کلو فروخت کئے جاتے ہیں، گلبرگ اور ڈیفنس کی دکانوں پر اس کے نرخ 30روپے فی کلو تک بھی ہوتے ہیں۔ یوں معلوم ہوا کہ وزیراعظم تک اطلاع غلط نہیں تھی، تاہم زمیندار گھاٹے میں رہا، شائد آلو سابقہ روائت کی طرح برآمد نہیں ہو سکا یا پھر عالمی مارکیٹ میں مندا ہو گیا کہ برآمد کنندگان اس نرخ پر برآمد کر کے نقصان نہیں کرنا چاہتے تھے۔اب اگلے سیزن کے لئے خبردار رہئے کہ آلو کی بوائی کم ہو گی تو قیمت زیادہ ہو جائے گی۔

یہ تو آلو ، پیاز کی بات تھی،اب اسی منڈی میں مٹر 40روپے اور گھیا بھی40روپے بِک رہا تھا۔ یوں عمومی طور پر سبزیوں کے نرخ معمول کے مطابق ہی تھے کہ یہ سیزن ہے اور پنجاب کی سبزیاں دستیاب ہیں، جب مٹر کا سیزن شروع ہوا تھا تو یہ160روپے فی کلو تھے تب یہ کوئٹہ اور سوات سے آتے تھے۔

قارئین لگے ہاتھوں ذرا مرغی کی بھی بات ہو جائے کہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق بچی کے لئے ایک دیسی مرغی لینا تھی۔ اب دکان والے سے رجوع کیا تو اس نے دیسی مرغی کے نرخ600روپے فی کلو(زندہ) بتائے، جب ہم نے اصلی اور نقلی دیسی کا سوال کیا تو دکاندار نے اطمینان سے بتایا کہ پنجرے کے اوپر والے خانے میں سب خالص دیسی اور نیچے والے میں مصری ہیں، ان کا نرخ 400روپے فی کلو(زندہ) ہے۔ حیرت سے دیکھا تو ہمیں دونوں اقسام میں کوئی خاص فرض نظر نہ آیا۔ اگرچہ ہمارے دوست خواجہ طارق صاحب نے بتایا تھا کہ دیسی مرغی ٹانگوں سے پہچانی جاتی ہے یہ خاصی لمبی ٹانگوں والی ہوتی ہیں اور پھر اس کے رنگ ڈھنگ بھی دیکھے جاتے ہیں۔ بہرحال600روپے فی کلو مرغی تلوائی تو وہ 970 روپے کی بنی، جب ذبح ہو کر صاف ہوئی تو گوشت قریباً نو سو گرام تھا، یوں آپ خود اندازہ لگا لیں کہ دیسی مرغی کا گوشت قریباً1100روپے فی کلو ملتا ہے،مصری مرغی بھی بہت تیز طرار اور دیکھنے میں دیسی لگتی ہے اس کا گوشت قریباً800روپے فی کلو پڑتا ہے، تو حضرات ہم نے ڈاکٹر کے نسخے کے مطابق ایک ہی مرغی پر اکتفا کیا کہ مجبوری تھی اور یہ دوا کے طور پر خریدی گئی۔

یہیں ایک دوسرا انکشاف بھی ہوا کہ جس کو مصری مرغی کہا جاتا ہے یہ اصلی برائلر ہے، اس کے تیار ہونے کی مدت سات سے آٹھ ہفتے یا اس سے بھی زیادہ ہے جبکہ اس کے انڈوں اور پھر پرورش کے لئے الگ ہیچری اور مرغی خانے ہوتے ہیں اور فیڈ بھی بالکل اصلی ڈالا جاتا ہے۔ یہ اصلی برائلر دیسی کر کے کھلایا جا رہا ہے، اب آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ ہمارے ساتھ کیا کیا ہو رہا ہے کہ آج جو مرغی برائلر کے نام پر بِک رہی ہے اس کا گوشت 160روپے فی کلو تھا اور یہ تین سے پانچ ہفتوں کے درمیان تیار ہو جاتی ہے، لیکن اس میں جان نہیں ہوتی، اس سے ہمیں یاد آ گیا کہ جب پاکستان اور یہاں پنجاب میں برائلر متعارف کرایا گیا تو لائیو سٹاک والوں نے اس کی صفات بیان کرنے اور اس کی تشہیر کے لئے کئی بار میڈیا والوں کو بلایا تب ایسی ہی مرغیاں ہوتی تھیں جو تیز طرار تھیں اب جو برائلر بِک رہی ہے معلوم نہیں یہ کس کی ایجاد ہے۔ اسی کے حوالے سے یہ بھی سُن لیں کہ اسی مرغی کے انڈے بھی دیسی کہہ کر بِک رہے ہیں جو اصلی دیسی انڈے کی نسبت نصف ہوتا ہے اور یہ 120سے 140روپے درجن بیچے جا رہے ہیں جبکہ اصلی دیسی انڈے 280سے320 روپے فی درجن ہیں۔ قارئین آپ کو بہت بور کر لیا یقیناًآپ کو بھی یہ تجربہ ہر روز ہوتا ہو گا۔ بہرحال کسی تحریر پر نہ جائیں وزیراعظم نے جو کہا درست کہا البتہ یہ ’’اشرافیہ‘‘ کا مسئلہ ضرور ہے۔

مزید : کالم