پی آئی اے کا المیہ! حل یہ ہے؟

پی آئی اے کا المیہ! حل یہ ہے؟

پی آئی اے کا مسئلہ زیادہ سنگین ہو گیا ہے۔ دو ملازموں کا خون شامل ہونے سے تحریک کی نوعیت ہی بدل گئی اور اب تو یہ احساس ہو رہا ہے کہ شاید یہ قومی اثاثہ جسے بچانے کے لئے فریقین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں ضائع ہی نہ ہو جائے۔ ہڑتال اور آپریشن معطل ہونے سے نقصان میں مزید اضافہ ہوا ہے،جبکہ فریقین کے درمیان دوریاں بھی بڑھی ہیں۔ یہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ کون صحیح اور کون نہیں، اب اس سلسلے میں پڑنے کا وقت ہی گزر گیا کہ خون ناحق تو ہوا، لیکن حالات بتاتے ہیں کہ یہ رائیگاں چلا جائے گا۔ وفاقی حکومت کا موقف رینجرز اور پولیس کے ترجمان کی روشنی میں یہ ہے کہ گولی کسی سیکیورٹی ایجنسی کے کسی اہلکار کی طرف سے نہیں چلی، یہ مظاہرین کے اندر سے چلی جس سے لوگ زخمی ہوئے اور دو اہلکار (کارکن) جاں بحق بھی ہو گئے۔ اس سلسلے میں ایکشن کمیٹی اور ملازمین کا موقف ہے کہ گولی رینجرز کی طرف سے چلی،اِس لئے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا عدالتی تحقیقات سے اسرار سے پردہ اُٹھ جائے گا؟ اگر غور کیا جائے تو الگ الگ موقف کی وجہ سے تحقیقات میں بھی دِقت ہو گی اور مظاہرین شاید اپنی پسند کے مخالف نتیجے کو تسلیم بھی نہ کریں اِس لئے یہ معاملہ بھی پیچیدہ ہے۔ اب بات زیادہ ہنگاموں تک پہنچ گئی، سیاسی جماعتوں اور عناصر نے ملازمین کی حمائت کی اور یہ شاید بڑھے گی بھی، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے6فروری کو مُلک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے، متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلزپارٹی نے مظاہرین کے مطالبات کی حمائت کر دی ہے۔ دوسری جماعتیں بھی حامی ہیں اور جماعت اسلامی نے کھل کر ساتھ دینے کی بات کی ہے۔

یہ صورت حال قومی ادارے، ملازمین اور حکومت میں سے کسی کے لئے بھی اچھی نہیں۔ جہاں تک حکومت کا سوال ہے تو حکمرانوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ طاقت سے مسائل حل نہیں ہوتے اور ملازمین کو بھی خیال کرنا چاہئے تھا کہ ٹریڈ یونین ازم میں سودا کاری بھی ہوتی ہے اور یہاں تو باقاعدہ قانون موجود ہے، جس کے تحت ہڑتال کا نوٹس دیئے جانے کے بعد بھی بات چیت ہوتی ہے۔ اس تنازعہ کا یہ پہلو کہ پی آئی اے بہت بڑے خسارے سے دو چار ہے اور ملازمین کی تعداد ضرورت سے کہیں زیادہ ہے، اسے منافع بخش اور فعال بنانے کے لئے اگر نئے جہازوں کے لئے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تو ملازمین کی رائٹ سائزنگ بھی لازم ہے اور یہی وہ پہلو ہیں جن پر فریقین کو مذاکرات کے ذریعے غور کرنا چاہئے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا، حکومت کی طرف سے نجکاری عمل کو چھ ماہ کے لئے موخر کیا گیا تو یہ بہتر موقع تھا جب مذاکرات ہوتے اور کوئی قابل ِ عمل سمجھوتہ طے پا جاتا، لیکن شوم�ئ قسمت سے بات مظاہروں اور پھر گولی تک آ گئی۔ سنجیدہ فکر حلقوں کی طرف سے مشورہ دیا گیا ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ ادارے کو دیوالیہ ہو کر ختم ہو جانے سے بچانے اور ملازمین کے جائز حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے فریقین مذاکرات پر تیار ہوں، دونوں ایک میز پر بیٹھیں اور ایسی قابل عمل تجاویز تیار کریں جن پر عمل کرنے سے ادارہ بچے، منافع بخش ہو اور ملازمین کا بھی تحفظ ہو جائے۔ ہمارے خیال میں حکومت کو گولڈن ہینڈ شیک کی تجویز پیش کرنا چاہئے اور اسی ذریعے سے رائٹ سائزنگ کر کے اس میں سرمایہ لگا کر اسے قابلِ عمل اور منافع بخش بنایا جائے۔ مظاہرین اور حکومت کے اپنے اپنے دلائل اور موقف ہے، آمنے سامنے بیٹھیں گے تو پرت کھلیں گے۔ بہتر ہو گا کہ فریقین تحفظ کے بغیر جذبہ حب الوطنی کے ساتھ مذاکرات کریں اور قابلِ عمل سمجھوتے پر پہنچ جائیں۔

مزید : اداریہ