بلوچستان۔۔۔ عالمی اور علاقائی طاقتوں کی پراکسی وار کا گڑھ

بلوچستان۔۔۔ عالمی اور علاقائی طاقتوں کی پراکسی وار کا گڑھ

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو باہر سے فنڈنگ اور اندر سے حمایت مل رہی ہے، خاتمہ کر کے دم لیں گے۔مختلف مفادات نے بلوچستان کو مسائل سے دوچار کیا، بیرونی مداخلت سے معاملات مزید پیچیدہ ہوئے، باہر بیٹھے ہوئے دشمن پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے دہشت گردوں کو تربیت، پناہ اور مالی امداد فراہم کرتے ہیں، بلوچستان علاقائی اور عالمی طاقتوں کے لئے پراکسی وار کا گڑھ بن چکا ہے اور اس پراکسی وار کا سامنا ہم سب کو ہے،ہم بلوچستان کے طول و عرض میں امن کے قیام تک لڑتے رہیں گے۔ عوام کی امنگوں کے مطابق آپریشن ضربِ عضب منطقی انجام تک پہنچے گا۔ پاک فوج، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور دوسرے سیکیورٹی اداروں نے پاکستان کی سلامتی کے لئے جس غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا ہے اس پر وہ خصوصی تحسین کے حق دار ہیں، بلوچستان میں ہم آہنگی کو فروغ دینے پر تمام سیاسی جماعتیں بھی تعریف کی مستحق ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ کی تعمیر سے صوبے کی حالت بدل جائے گی۔ امن اور خوشحالی کی حقیقی بنیادیں پاکستانی عوام کی فعال شرکت کے ذریعے ہی رکھی جاسکتی ہیں۔ کوئٹہ اور بلوچستان کی رونقیں واپس لائیں گے۔انہوں نے اِن خیالات کا اظہار بلوچستان میں امن و خوشحالی کے امکانات کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

جنرل راحیل شریف نے بلوچستان کو درپیش مسائل کی بالکل درست تشخیص کی ہے اِس لئے اب امید کی جا سکتی ہے کہ مرض کا شافی علاج بھی ممکن ہو گا،کیونکہ جب تک مرض کے اسباب معلوم نہ ہوں اُس وقت تک درست علاج ممکن نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی تو دیرپا ثابت نہیں ہوتا، بلوچستان وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا ہے،اِس کی سرزمین کے اندر معدنیات کے خزانے دفن ہیں، سونے،چاندی اور تانبے جیسی قیمتی دھاتیں بھی اِن میں شامل ہیں اب تک پاکستان کے طول و عرض میں جو گیس توانائی اور گھریلو استعمال کا ذریعہ بنی رہی وہ بلوچستان میں ہی نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے دریافت ہوئی تھی، لیکن اس کے بے دریغ استعمال کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب اس کے ذخائر ختم ہونے کے قریب ہیں اور مختلف ملکوں سے گیس درآمد کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے، جس کے بارے میں ابھی یہ تک معلوم نہیں کہ کِس قیمت پر آ رہی ہے، بلوچستان کی معدنیات سے بہترین استفادہ اِسی صورت ہو سکتا ہے جب پاکستان میں کان کنی کے جدید طریقے اپنائے جائیں اور قدرت کی مہربانی سے جو ذخائر زمین میں دفن ہیں اُن کو زمین کے اوپر لایا جائے۔

بلوچستان کی یہی دولت ہے جس کی وجہ سے غیر ملکی طاقتیں یہاں پراکسی وار لڑ رہی ہیں اگر اس سرزمین کے اندر خزانے چُھپے ہوئے نہ ہوتے تو ان خشک پہاڑوں کی خاطر غیر ملکی طاقتیں اپنے وسائل کیوں جھونک رہی ہوتیں اور کوئی رسک لینے پر آمادہ نہیں ہوتیں، غیر ملکی طاقتوں نے اپنے مفادات کے لئے اِس خطے کو اپنی آماج گاہ بنا رکھا ہے۔اسی وجہ سے یہاں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، باہر سے فنڈنگ بھی اسی لئے ہوتی ہے۔عوام کو گمراہ کر کے انہیں ریاست سے جنگ کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے، تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کے بعد اب بلوچستان کا منظر بدل رہا ہے، مقامی لوگ معروضی حقائق کا بہتر ادراک کرنے لگے ہیں، اپنے نفع و نقصان کو بہتر طور پر سمجھنے لگے ہیں اور جن لوگوں نے اُنہیں اپنے مقاصد کے لئے گمراہ کرنے کی روش اختیار کر رکھی تھی اب وہ اُن کے عزائم کو سمجھنے لگے ہیں اور اُن میں سے بعض میں تو اتنا حوصلہ بھی تھا کہ انہوں نے ہتھیار رکھ دیئے اور پُرامن زندگی گزارنے پر تیار ہو گئے۔بلوچستان کے حالات کو بہتری کی راہ پر گامزن کرنے میں کوئٹہ کی سدرن کمان کے سابق کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ کا بہت کردار تھا، اُن کی انہی خدمات کے صلے میں اُنہیں ریٹائرمنٹ کے فوری بعد قومی سلامتی کا مشیر بنا دیا گیا اور اب وہ اس حیثیت میں بھی شاندار کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب اُن کی جگہ سدرن کمان کے کمانڈر کا عہدہ سنبھالنے والے لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا خیال ہے کہ صوبہ بلوچستان سات سے دس برس کے اندر نہ صرف اپنی، بلکہ مُلک کی اقتصادیات کو بھی سنبھال سکتا ہے۔ صوبے کا یہی پوٹینشل ہے جس کو پیشِ نظر رکھ کر عالمی طاقتوں نے یہاں پراکسی وار شروع کر رکھی ہے اور اِسی بات کی نشاندہی آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کھل کر کر دی ہے کہ بیرونی طاقتوں کے عزائم کیا ہیں اور وہ دہشت گردوں کی فنڈنگ کیوں کر رہی ہیں؟

بلوچستان کے حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں اور اس میں تمام سیاسی جماعتوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے، سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ڈھائی سال تک ایک ایسے صوبے کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھالے رکھا جہاں سرداری روایات بہت پختہ ہیں اور جہاں کبھی کوئی عام آدمی اس عہدے پر فائز نہیں ہو سکا تھا، لیکن یہ جمہوری سوچ اور جمہوری طور طریقوں کا اعجاز ہے کہ سیاسی اور پارلیمانی جدوجہد کے ذریعے ایک عام آدمی صوبے کے اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچا اور مختصر عرصے میں عسکری قیادت کے تعاون سے صوبے کے حالات بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ورنہ کوئٹہ جیسے صوبائی دارالحکومت کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ لوگ سرِ شام دکانیں بند کرنے پر مجبور تھے اور غروبِ آفتاب کے بعد گھروں سے نکلنا ناممکن ہو گیا تھا، اب انہی جمہوری روایات کے طفیل نواب ثنا اللہ زہری کو یہ عہدہ ملا ہے تو انہوں نے مصالحت کے اس عمل کو مزید آگے بڑھانے کی بات کی ہے اور کہا ہے کہ پارلیمانی الیکشن جیت کر جو بھی جماعت یا رہنما آگے آئے وہ اُنہیں قبول ہے۔البتہ ہتھیاروں کے ذریعے کسی کو اس کا مستحق نہیں سمجھا جائے گا یہ سلسلہ اگر چلتا رہتا ہے اور نواب ثنا اللہ زہری کی کوششیں بار آور ہوتی ہیں تو کہا جا سکتا ہے کہ صوبے کے حالات بہت جلد تبدیل ہو جائیں گے، امن قائم ہو گا، نیا دور آئے گا اور ماضی کے درد ناک حالات قص�ۂ پارینہ بن جائیں گے۔۔۔آرمی چیف نے عوام اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا ہے اور اُن کا خیال ہے کہ عوام کی فعال شرکت کے ذریعے ہی امن و خوشحالی کی حقیقی بنیادیں استوار کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ صوبے کے چپے چپے میں امن کے قیام کے لئے لڑتے رہیں گے۔ انہوں نے سالِ رواں کے اختتام تک دہشت گردی کے خاتمے کا جو ہدف اپنے پیشِ نظر رکھا ہے اس کی وجہ سے امید ہے کہ سال رواں کے خاتمے سے پہلے پہلے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے مُلک سے دہشت گردی قص�ۂ ماضی بن جائے گی اور ایک نئے خوشحال دور کا آغاز ہو گا۔

مزید : اداریہ