بھارتی خونی درندے کی مانند ہے ،کشمیری ہر گز نہیں جھکیں گے:سردار فرحان خان

بھارتی خونی درندے کی مانند ہے ،کشمیری ہر گز نہیں جھکیں گے:سردار فرحان خان

لاہور(جاوید اقبال)کشمیر سوسائٹی فار ہیومن رائٹس آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل سردار فرحان خان نے کہا ہے کہ بھارت ایک درندے کی مانند ہے جو 67سالوں سے نہتے کشمیریوں کا خون پی رہا ہے مگر کشمیریوں نے شکست تسلیم نہیں کی اور نہ ہی آئندہ بھارت کے سامنے جھکیں گے نہ اس کا وجود تسلیم کریں گے وہ گزشتہ روز ان خیالات کا اظہار پاکستان فورم میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے انتہائی ظالمانہ قانون’’آرمڈ فورسز سپیشل پاورایکٹ ‘‘(افسپا)کانفاذ 1990 ء میں کیاجب مسلح تحریک آزادی کے موجودہ دورکے آغازکو دوبرس مکمل ہوگئے تھے۔ افسپاکانفاذکرتے ہوئے وادی میں مزیدہزاروں نئے فوجی دستے تعینات کئے گئے اورسیکورٹی فورسز کو ’’سب کچھ آزادانہ کرنے کا لائسنس ‘‘ تھمادیاگیاجس کامقصد تحریک آزادئ کشمیر کوکچلناتھا۔ اس کے تحت فوجیوں نے ایک جانب مسلح گروپوں کے خلاف کارروائی کا شدت سے آغازکیااوردوسری جانب عام لوگوں کی زندگی اجیرن کرنے کاناپاک مشن شروع کردیا۔ املاک کو آگ لگانا‘ کھڑی فصلوں کو تباہ کرنا‘ روزانہ کی بنیادوں پر کرفیونافذ کرنا‘ ایمبولینسوں کو روک کرمریضوں اورزخمیوں کو تڑپتے تڑپتے موت کے منہ میں دھکیلنا‘ ہسپتالوں پر حملے کرنا‘ خوراک کے ذخیروں کو اپنے قبضے میں لے لینا‘ حریت پسندوں کی تلاش میں گھروں میں گھس جانا‘ نوجوانوں کو گھروں سے اٹھاکرٹارچرسیلوں میں اذیت ناک موت سے ہمکنارکرکے ان کی لاشوں کو جنگلوں میں پھینک دینا اور جسمانی اعضا ء کی قطع وبریدکرناتوشاید ظلم و جبرکی معمولی تصویریں ہوں لیکن اہل خانہ اوردیگرافراد کے سامنے خواتین کے ساتھ اجتماعی بد اخلاقی کے واقعات اس قدر بھیانک اورلرزہ خیز ہیں کہ جن کے سامنے ماضی کی ہوشرباداستانیں بھی کم دکھائی دیتی ہیں۔ اس ضمن میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پورے کے پورے گاؤں کی بوڑھی خواتین سمیت نوجوان لڑکیوں کو اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھایاگیا۔ فرحان خان نے کہا کہ اس قانون کے تحت تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے سب کچھ کیاگیالیکن جسموں کے ساتھ ان جذبوں کو نہ کچلاجاسکاجوکشمیریوں کے دل و دماغ میں کسی آتش فشاں کی مانند ابل رہے تھے۔ اس تحریک کو کچلناتودرکنار زرہ بھرنقصان بھی نہ پہنچایاجاسکا۔انہوں نے کہاکہ یہ کس قدر تعجب انگیز اورحیرت انگیز امر ہے کہ ڈیڑھ لاکھ جانوں کی قربانیاں دینے کے باوجود اب بھی یہی کہاجارہا ہے کہ اہلیانِ کشمیر کو استصواب رائے کا حق دیا جائے۔ فرحان خان نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ اورعالمی برادری کو ڈیڑھ لاکھ کشمیریوں کی شہادتوں سے خود ہی یہ اندازہ لگالیناچاہیے کہ کشمیری صرف اورصرف آزادی چاہتے ہیں

مزید : میٹروپولیٹن 1