لاہور آرٹس کونسل کے تمام ہالوں میں قوانین پر سختی سے عمل درامد کیا جاتا ہے

لاہور آرٹس کونسل کے تمام ہالوں میں قوانین پر سختی سے عمل درامد کیا جاتا ہے

لاہور(حسن عباس زیدی )لاہور آرٹس کونسل کے زیر اہتمام چار ہالوں اور اوپن ائیر تھیٹر باغ جناح میں سٹیج ڈرامہ پیش کیا جاتا ہے ان ڈراموں میں پرفارم کرنے والے فنکاروں کو قوانین پر سختی سے عملدرامد کروایا جاتا ہے جب بھی کوئی فنکار اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ذومعنی جملے بولتا ہے یا فحاشی کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کو فوراً وارننگ لیٹر جاری کیا جاتا ہے اور اگر وہ پھر بھی باز نہیں آتا تو اس کو غیر معینہ مدت کے لئے بین کردیا جاتا ہے لاہور آرٹس کونسل کے قوانین کے مطابق فنکاروں کو جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے لیکن گزشتہ 17سال سے کسی فنکار کو ذومعنی جملے بولنے یا فحاشی کے ارتکاب پر جرمانہ نہیں کیا گیا 17سال قبل آخری بار کامیڈین طارق ٹیڈی اور شیبا حسن کو ذومعنی جملے بولنے پر جرمانہ کیا گیا تھا جرمانہ عائد کئے جانے کے بعد دونوں فنکاروں نے الحمراء ہال میں دوبارہ ڈرامہ نہیں کیا۔الحمرا ء نور جہاں آڈیٹوریم کے منیجر حاجی عبد الرزاق کا کہنا ہے کہ الحمراء مال روڈ ،اوپن ائیر تھیٹر اور الحمراء قذافی سٹیڈیم کے دونوں ہالوں میں پیش کئے جانے والے ڈراموں میں قوانین پر سختی سے عمل درامد کروایا جاتا ہے یہاں جو بھی ڈرامے پیش کئے جاتے ہیں وہ فحاشی سے پاک ہوتے ہیں ان میں کسی فنکار کو ذو معنی جملے بولنے کی اجازت نہیں ہوتی ۔دوسری جانب حکومت نے نجی تھیٹرز میں ہونے والے سٹیج ڈراموں سے فحاشی اورعریانی کے خاتمہ کیلئے مانیٹرنگ ٹیموں کو بنایا تھا ۔مانیٹرنگ ٹیم بنانے کا فیصلہ بہت خوش آئند تھا اوراس کو بہت سراہا گیا۔ سٹیج سے وابستہ فنکاروں اورپروڈیوسروں کے علاوہ فنون لطیفہ سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اس فیصلے کو تھیٹرکی بہتری اوربحالی کیلئے حکومت کا احسن اقدام قراردے رہے تھے۔

سٹیج ڈراموں کی مانیٹرنگ کیلئے ڈی سی اوکے ماتحت اداروں کے اہلکاروں پرمشتمل ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ ان ٹیموں میں سرکاری ملازمین شامل تھے لیکن کوئی بھی ایسا شخص نہ تھا جوفنون لطیفہ کے شعبوں کی نزاکت کوسمجھتا ہو۔ نہ توکسی کواداکاری پر مہارت تھی اورنہ ہی کوئی رقص سے آشنا تھا۔ نہ ہی کوئی ڈرامے کی اصل شکل کوسمجھتا تھا اورنہ ہی کسی کا لائیوتھیٹرسے کوئی تعارف تھا۔ اس کے باوجود مانیٹرنگ ٹیموں کوخوش آمدید کہا گیا۔ ٹیم میں شامل اہلکاروں نے تھیٹرکا رُخ کیا اور بیہودہ رقص کرنے والی اداکاراؤں اوررقاصاؤں کے ساتھ ساتھ فُحش گوئی کرنے والے فنکاروں کووارننگ نوٹس جاری کئے۔ جبکہ کچھ کو باقاعدہ بین بھی کیا گیا اوراس طرح سے سٹیج ڈراموں کے معیارمیں کچھ وقت کیلئے بہتری دکھائی دی۔ مگرایک بات جوسمجھ سے باہرتھی کہ اگر مانیٹرنگ ٹیم کے اہلکاروں نے کسی اداکارہ کوہال میں بیٹھے کسی شخص کو اشارہ کرنے پربین کیا تو وہ کیسے اگلے ہی روز دوبارہ تھیٹرمیں پرفارم کرتیدکھائی دیتی تھی ؟۔ لیکن پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ فنکاروں نے اپنی اصلاح کی خود ہی ٹھانی اورروز روز کی ملنے والی وارننگ سے جان چھڑانے کیلئے جہاں انہوں نے اپنے ملبوسات کوبہترکیا ، وہیں رقص اورجملوں کی ادائیگی پربھی خاص توجہ دی۔ یہی نہیں سٹیج ڈراموں کے پروڈیوسروں نے بھی اس حوالے سے خاصی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ اسی لئے توسٹیج ڈراموں میں جو فحش گوئی اوربیہودہ رقص دس ، پندرہ برس پہلے دیکھنے کوملتا تھا آج ایسا نہیں ہے بلکہ اس میں خاصی بہتری آچکی ہے۔ ایک بات جو قابل ذکر ہے کہ اداکارائیں کون سا لباس پہنیں گی اورکس طرح کا رقص کریں گی، یہ ذمہ داری اب سٹیج ڈراموں کے ڈائریکٹراورڈانس ماسٹرکے پاس نہیں رہی بلکہ یہ ذمہ داری اب ڈراموں کو سنسرکرنے کیلئے آنے والی ٹیم کے اہلکاروں نے ’’سنبھال‘‘ لی ہے۔حالانکہ اس ٹیم میں شامل لوگوں کی اکثریت کو بھی فنون لطیفہ کی ’’ الف ب‘‘ کا کوئی علم نہیں ہے۔ مگریہ لوگ اپنی پسند کا گیت اوررقص دیکھنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں دکھاتے۔ اسی لئے تو اداکاراؤں اور فنکاروں کو بین کرنا سراسرغلط ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اگرکوئی فنکارسنسرسرٹیفیکٹ ملنے کے بعد فخش گوئی اوربیہودہ رقص کرتا ہے تواس کی ذمہ داروہ ٹیم ہے۔

مزید : کلچر