بی جے پی نے مقبوضہ کشمیر میں حکومت سازی کیلئے گورنرسے 10دن کی مہلت مانگ لی

بی جے پی نے مقبوضہ کشمیر میں حکومت سازی کیلئے گورنرسے 10دن کی مہلت مانگ لی

سری نگر(کے پی آئی)بھارتیہ جنتا پارٹی نے مقبوضہ کشمیر میں حکومت سازی کیلئے گورنر این این ووہرہ سے 10دن کی مہلت مانگی ہے ۔

اس دوران پارٹی نے پی ڈی پی کی طرف سے گزشتہ برس طے پائے گئے معاہدہ کے علاوہ کوئی بھی نئی شرط سامنے رکھے جانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مفتی محمدسعید کے ساتھ پایا جانے والا ایجنڈاہر طرح سے مکمل تھا۔

اور اس میں کسی بھی رد و بدل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ گورنر کے ساتھ ملاقات کے بعد سابق نائب وزیر اعلی ڈاکٹر نرمل سنگھ اور پارٹی کے ریاستی صدر ست شرما نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ انہوں نے گورنر سے 10دن کی مہلت طلب کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز ایک وفد دہلی میں پارٹی کی اعلی قیادت سے ملاقی ہوا اور انہیں موجودہ سیاسی صورتحال کے بارے میں بتایا ۔پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں پی ڈی پی کے ساتھ کوئی شکایت نہیں ہے ۔پی ڈی پی کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے حوالہ سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں نرمل سنگھ نے کہا کہ اول الذکر جماعت نے ابھی تک اپنا لیجسلیچر پارٹی لیڈر منتخب نہیں کیا ہے ، جوں ہی پی ڈی پی اپنا لیڈر منتخب کر کے ہمیں حکومت تشکیل دینے کے بارے میں کوئی اشارہ دے گی تو اس پر غور کیا جائے گا۔ پی ڈی پی کی طرف سے گزشتہ 10ماہ کے دوران ایجنڈا آف الائنس کی عمل آوری سنجیدگی سے نہ کئے جانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے نر مل سنگھ نے کہا کہ بی جے پی اس کا جائزہ لے رہی ہے علاوہ ازیں پی ڈی پی نے اس بارے میں کبھی کوئی شکایت نہیں کی ۔محبوبہ مفتی کی طرف سے مرکزسے اعتمادسازی کے مزید اقدامات کئے جانے کے مطالبات کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ اتحاد کیلئے طے پائے گئے ایجنڈا میں سب کچھ درج ہے اور اس پرمرحلہ وار عملدرآمد ہوگاکیوں کہ یہ ایجنڈا پورے 6برس کے لئے طے پایا گیا تھا۔ پی ڈی پی کی طرف سے سیاسی پیکیج دئیے جانے یا علاحدگی پسندوں کے ساتھ گفت و شنید کی مانگ کئے جانے کی صورت میں بی جے پی لیڈر نے کہا کہ پی ڈی پی یا بی جے پی ایجنڈ اسے ہٹ کر کسی بھی معاملہ پر بات نہیں کر سکتی ۔

مزید : عالمی منظر