سری نگر کی تاریخی جھیل ڈل کو تجاورات سے بچانے کی کوشش

سری نگر کی تاریخی جھیل ڈل کو تجاورات سے بچانے کی کوشش

سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ نے سری نگر کی تاریخی جھیل ڈل کو تجاورات سے بچانے کے لیے دو سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے ۔ عدالت عالیہ نے جھیل ڈل کے آس پاس غیر قانونی تعمیرات پر پلیوشن کنٹرول بورڑ اور لیکس اینڈ واٹر ویز ڈیولپمنٹ اتھارٹی سمیت محکمہ مال کو زبردست جھاڑ پلائی عدالت نے چیئرمین پی سی بی اور سیکریٹری کے خلاف توہین عدالت کے تحت کارروائی شروع کی ہے اور انہیں اگلی سماعت پر ازخود حاضر عدالت رہنے کا حکم صادر کیا ہے ساتھ ہی ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ ان دونوں افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی جائے ۔عدالت عالیہ نے جھیل ڈل کے تحت آنے والے گرین بیلٹ میں سرکاری و نجی تعمیرات کھڑی کئے جانے سے متعلق سرینگر میونسپل کارپوریشن اور لاڈا سے جواب طلب کیا ہے۔جسٹس مظفر حسین عطار اور جسٹس علی محمد ماگرے پر مشتمل عدالت عالیہ کے ڈویژن بنچ کے سامنے ڈل جھیل بچا سے متعلق مفاد عامہ عرضی پر سماعت ہوئی ۔

اس موقعے پر سابقہ احکامات کی رو سے انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر،ڈپٹی کمشنر سرینگر ،لیکس اینڈ واٹر ویز ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے علاوہ سرینگر میونسپل کارپوریشن نے مختلف اشوز پر اپنے عذرات پیش کئے اور ڈل جھیل کے تحت آنے والے گرین بیلٹ میں غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں کے حوالے سے عدالت عالیہ کو آگاہ کیا ۔عدالت عالیہ نے جموں وکشمیر پلیوشن کنٹرول بورڑ کی جانب سے عدالتی احکامات کی تعمیل میں رپورٹ پیش نہ کرنے کا سنگین نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین و سیکریٹری پی سی بی کے خلاف توہین عدالت کے تحت کارروائی شروع کی اور دونوں افسران کو حکم دیا کہ وہ اگلی سماعت پر عدالت حاضر رہ کر اس بات کا جواب دیں کہ انہیں توہین عدالت کے ارتکاب میں کیوں نہ سزا دی جائے ۔عدالت عالیہ نے پلیوشن کنٹرول بورڑ کے حوالے سے سنگین الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہاکہ ڈل کو تحفظ فراہم کرنے اور اسکی ماحولیات کو آلودگی سے متعلق پلیوشن کنٹرول بورڑ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں غفلت شعاری کا مرتکب ہورہا ہے اور اس کی واضح مثال عدالت عالیہ کے ان احکامات کو سرسری طور لینے سے سامنے آتی ہے ۔ڈویژن بنچ نے اس معاملے میں عدالت عالیہ کے معاون (AMICUS CUIRE) ایڈوکیٹ ظفر احمد شاہ کے تاثرات کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہاتھا کہ پلیوشن کنٹرول بورڑ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں غفلت شعاری کا مرتکب ہورہا ہے اور حد یہ ہے کہ اب یہ بورڑ عدالت عالیہ کے احکامات کو بھی سرسری لینے لگا ہے ۔اس کیس میں عدالت عالیہ کے معاون وکیل کے ان تاثرات کو صحیح مان کر ڈویژن بنچ نے چیئرمین و سیکریٹری پی سی بی کے خلاف توہین عدالت کے تحت کارروائی کی ۔اس حوالے سے ریاستی چیف سیکریٹری کو ہدایت دی گئی کہ وہ دونوں پی سی بی افسران کے خلاف محکمانہ سطح پر کارروائی کریں اور انہیں اس اہم ذمہ داری سے فارغ کرنے کے حوالے سے اقدامات کریں ۔اس موقعے پر عدالت عالیہ نے ڈل کے متصلات و مفصلات میں سرکاری اراضی پر تعمیرات کھڑی کئے جانے سے متعلق شکایات کا بھی نوٹس لیا اور اس میں مخصوص علاقے میں عمارتیں کھڑی کئے جانے سے متعلق محکمہ مال کو ہدایت دی کہ وہ اس مخصوص اراضی کی اصل ملکیت کے بارے میں وضاحت کریں اور بتائیں کہ سرکاری اراضی کو کس طرح منتقل کرکے کسی فرد کی ملکیت میں دی گئی۔اس معاملے میں ایک سابق لاڈا آفیسر کے بیان کو بھی ریکارڑ کیا گیا ۔دریں اثناڈل کے کنارے پر تعمیرات کھڑی کئے جانے سے متعلق متعلقہ لاڈا آفیسر کے بیان کو بھی اعترافی بیان مانا گیا کہ محکمہ نے غیر قانونی طور سے تعمیرات کھڑی کئے جانے کی کارروائی کو جان بوجھ کر نہیں روکا جس پر متعلقہ آفیسر کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے ۔عدالت عالیہ نے معاون وکیل ایڈوکیٹ ظفر احمد شاہ سے اگلی سماعت پر اپنی طرف سے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت دی تاکہ ڈل اور اسکے مضافات کو غیر قانونی تعمیرات کے جال سے محفوظ رکھا جاسکے اور اس حوالے سے موثر اکامات جاری کئے جاسکیں ۔کیس کی اگلی سماعت15فروری کے بعد آنے والے ہفتے میں مقرر کی گئی ہے ۔

مزید : عالمی منظر