کشمیر پر سودے بازی کی اجازت نہیں دینگے: صدر تحریک کشمیر یورپ

کشمیر پر سودے بازی کی اجازت نہیں دینگے: صدر تحریک کشمیر یورپ

لندن (بیورورپورٹ)تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب نے کہا ہے کہ 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقعہ پر جہاں اہل پاکستان بھارت کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستانی قوم کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضہ کو تسلیم نہیں کرتی اور اہل کشمیر کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی اس موقع پر پاکستان کے حکمرانوں پر بھی واضع کیا جاتا ہے کہ کشمیریوں کی قربانیوں پر کسی کو سودے بازی کی اجازت نہیں دی جا سکتی مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کرنا ہوگا بھارت اور پاکستان کے درمیان دیرپا تعلقات کے راستے میں اصل رکاوٹ مسلہ کشمیر ہے اور امن کے تمام راستے کشمیر سے گزرتے ہیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ 5 فروری کا آغاز 1990 میں قاضی حسین احمد کی اپیل پر ہوا تھا اس وقت بینظیر بھٹو وزیراعظم اور میاں نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلی تھے اور پھر حکومت کی طرف سے سرکاری سطح پر یہ دن منانے کا اعلان ہوا تھا۔ البتہ پرویز مشرف کے دور میں جو یو ٹرن لیا وہ تسلسل آج بھی پالیسیوں کا حصہ ہونے کی وجہ سے حکمرانوں کی ترجیحات میں کمی ضرور ہوئی ہے آصف علی زرداری کے دور میں بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دیا گیا پاکستانیوں اور آزاد کشمیر کے عوام کو بھارت کے آلو، ٹماٹر اور پیاز کھلایا جا رہا ہے اور میاں نواز شریف نے جس طرح نریندر مودی جیسے دہشت گرد کو رات کے اندھیرے میں چور دروازے سے لاہور لایا گیا اور بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کر رہے ہیں۔ اس سے کشمیریوں کے اندر شدید رد عمل پایا جاتا ہے۔ محمد غالب نے کہا کہ پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملے کی ذمہ داری کشمیری مجاہدین نے قبول کر لی جس پر بھارت اور پاکستان اس وقت خاموش ہیں جو دونوں ممالک کے لیے لمحہ فکریہ ہے اگر اس طرح کا کوئی اور واقع ہوا تو بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگی تصادم کا خطرہ ہے اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو مجبور کرے کہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے تاکہ خطے کو کسی تباہی اور بربادی سے بچایا جا سکے تحریک کشمیر برطانیہ نے لندن سے گلاسگو تک ملک بھر میں ہفتہ یکجہتی منانے کو پروگرام تشکیل دیے ہیں اور یورپ کے مختلف ممالک میں بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے مظاہرے اور کانفرنسیں منعقد ہونگی اس سے کشمیری پاکستانی کمیونٹی کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ وابستگی کو مضبوط کرنے اور دنیا کو اس کی اہمیت پر توجہ مرکوز کرانے میں مدد ملے گی۔

مزید : عالمی منظر