پنجاب اسمبلی ،پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل سمیت 3ترمیمی بل منظور

پنجاب اسمبلی ،پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل سمیت 3ترمیمی بل منظور

لاہور( نمائندہ خصوصی) کسانوں کو پیداواری اخراجات کے مطابق زرعی اجناس کا مناسب معاوضہ نہ ملنے پر بھر پور آواز اٹھائی گئی ہے لیکن اس مسئلے کا حل کچھ روز بعد تجویز کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاہم بلدیاتی اداروں کے بعض اختیارات واپس لئے بغیر ہی یہ اختیارات وزیراعلیٰ کی سربراہی میں پنجاب انفراسٹرکچر اتھارٹی کو دیدیے گئے ہیں اور اس ضمن میں پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل منظور کرلیا ہے جبکہ بلدیاتی ادارو ں سے متعلق پنجاب لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل آج (جمعرات) کو منظور کیا جائے گا ۔ بدھ کو ڈپٹی سپیکر سردار شیرعلی گورچانی کی صدارت میں اجلاس کے دوران پنجاب اسمبلی نے پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ ساتھ خالص خوراک ترمیمی بل ، پنجاب فوڈ اتھارٹی ترمیمی بل اور پنجاب ریونیو اتھارٹی ترمیمی بل بھی منظور کیے ۔ پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل منظور ہونے کے بعد اب سرکاری اراضی ، سڑکوں اور شہری تعمیرات کے کل اختیارات اس اتھارتی کو منتقل ہوجائیں گے جسکے سربراہ وزیراعلیٰ ہونگے اور اس اتھارٹی کو چلانے کیلئے ایک چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی بھرتی کیا جائے گا اور باقی عملہ اس کے علاوہ ہوگا ۔ اس وقت تک رائج قانون کے تحت تجاوزات کی روک تھام میونسپل کمیٹی کے ذمے ہے جو فٹ پاتھوں تک کے امور دیکھتی ہے لیکن اب یہ تمام اختیارات پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو مل گئے ہیں جو اپنی مرضی سے اس اراضی کو استعمال کرے گی ۔ فٹ پاتھ پر غیر قانونی ٹھیلے لگانے اور ہتھ گاڑی سمیت کسی بھی چیز کی پارکنگ جرم قراردیکر چھ ماہ قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا مقرر کردی گئی ہے۔ اس قانون میں جرمانے کا جو شیڈول جاری یکیا گیا ہے اس کے مطابق فٹ پاتھوں یا سڑکوں کے حقِ راہ گزر پر غیر قانونی کھوکھا( کیاسک) ، عارضی دکان بنانے یا توسیع کرنے ، اشیاء فروخت کرنے کیلئے ہتھ گاڑی یا گدھا گاڑی کھڑی کرنے ،، غرقی ی، سیور ، بدرو کے اجزا ، یا بدبودار مادہ بہانے پر پر پانچ ہزار روپے جرمانہ ہوگا، مویشی رکھنے یا سڑک پر آنے ، نالوں ، الیکٹریکل سسٹم سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے ، نالہ بنانے یا ردو بدل کرنے ، یا کسی نالے میں کوئی گھریلو نالی ڈالنے ، کوڑا پھینکنے ، اور دکان اندر یا باہر کوڑا ٹھکانے کا انتظام نہ کرنے پر ایک ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ اتھارٹی کی اجازت کے بغیر سینٹری فٹنگ کی لیکیج اور اشتہار بازی پر دو ہزار روپے جرمانہ ہوگا ۔ اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے کدسانوں کو فصلون کی مناسب قیمت نہ ملنے کا معاملہ اٹھایا اور حکومتی خواتین کے ماسوا تمام ارکان نے اس کی حمائت کی ۔ اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے شیخ علاؤالدین ، ملک احمد خان ، ملک احمد سعید ، ملک وارث علی کلو ۔ ملک احمد خاں بھچر ، سردار وقاص حسن موکل۔ احسن ریاض فتیانہ ، الیاس چنیوٹی اور دیگر ارکان ان کا کہنا تھا کہ کاشتکار کو ابھی گنے کی قیمت نہیں ملی ، مونجی کے بھی مناسب نرخ بھی نہیں ، اور اب آلو کے کاشتکار خوار ہورہے ہیں ، جس آلو کی پیداواری لاگت ایک پزار روپے فی بوری ہے وہی آلو ہمارا کاشتکاقر چار روپے فی بوری کے حساب سے فروخت کررہا ہے ، کاشتکاروں کے ساتھ سخت زیادتی ہورہی ہے ، ان کی پیداواری لاگت بھی پوری نہیں ہورہی اور ان کے بجلی کے کنکشن بھی کاٹے جا رہے ہیں ۔ ایک طرف یہ حالت ہئے تو دوسری جانب بھارے سے دھڑا دھڑ درآمدات جاری ہیں ، آلو انتہائی کم ریٹ پر بیچا ر جا رہا جبکہ فیکٹری مالکان نے چپس کے نرخ میں ایک پیسے کی کمی نہیں کی۔ سارا فائدہ مڈل مین لے جاتا ہے اور کسان کسمپرسی کا شکار ہے ، ابتر حالات کی وجہ سے کسان خود کشیاں کررہے ہیں ، اس ایوان کی ایک ایسی کمیٹی بنائی جانا چاہئے جو کسان کی ابتر حالت اور فیکٹری مالکان کے بارے میں اصل حالات کا جائزہ لے تاکہ کسان کو خود کشیوں سے بچایا جائے ، ان عوامل کا جاننا اور حل تلاش کرنا ضروری ہے جن کی وجہ سے کاشتلکار روز بروز پس رہا ہے اور اس کا مسلسل استحصال ہورہا ہے ، ایککمیٹی کاشتکاروں کو بھی رہنمائی فراہم کرے کہ انہوں نے کون کونسی فصل پیدا کرنی ہے اور کون سی کم یا اس سے اجتناب کرنا ہے ۔ ڈپٹی سپیکر نے حکومتی موقف سنے بغیر کمیٹی بنانے سے انکار کردیا اور واجح کیا کہ تمام متعلقہ وقزرا کی موجودگی میں ذراعت اور اس کے شعبون پر بحث کروانے کے بعد جائزہ لیا جائے گا ا، اگر ضرورت پڑی تو کمیٹی بھی قائم کر دی جائے ۔ اس موقع پر ایوان کو یہ بھی بتایا گیا کہ کاشتکار زرعی ٹیکس اور زرعی انکم ٹیکس بھی دے رہے ہیں جو آبیانے اور مالئے کے علاوہ ہیں لیکن کاشتکاروں کو سننے والا کوئی نہیں۔ وزیر زراعت ڈاکٹر فرخ جاوید نے تسلیم کیا کہ کاشتکاروں کے بارے میں اس ایوان میں حقیقی مسائل بیان کیے گئے ہیں ، ٹیکس کا معاملہ بھی حقیقی ہے اور یہ ابہام دور کرنے کیلئے محکموں کی باہمی بات چیت جاری ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بعض ملکون میں بھارت کا آلو پر پابندی ہے لیکن پاکستانی آلو تمام ملکوں میں پسند کیا جاتا ہے اور اس پر کوئی پابندی ہے ، پاکستانی آلو کی برآمد پر حکو مت نے ڈیوٹی ختم کردی ہے اور سری لنکا بھیجا جارہا ، پندرہ فروری تک روس سمیت دوسرے ملکون کو برآمد بھی شروع ہوجاسئے گی جس پر ارکان نے کہا کہ آلو کی برآمد سے کاشتکار کو نہیں برآمدکنندگان کو فائدہ ہوگا ۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف مظاہرے کے دوران ریاستی کارروائیوں میں تین افراد کی ہلاکت اور درجنوں افراد زخمی ہونے پر احتجاج کیا اور کہا کہ اس بربریت کی زمہ داری وفاقی وزیر قانون و اطلاعات پرویز رشید پر عاید ہوتی ہے جنہوں نے دھمکی دی تھی اور پھر اس پر عمل بھی کردیا۔ اس معاملے پر اپوزیشن نے کچھ دیر کیلئے اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ بھی کیا ۔دریں اثناء پنجاب حکومت نے بلا واسطہ طور پر خواجہ سراؤں کو بھی پورا مرد اور پوری عورت تسلیم کرتے ہوئے صنفی تخصیص کے بغیر اوپن میرٹ پر ملازمتیں حاصل کرنے کا اہل قراردیدیا ہے اور پنجاب اسمبلی کو بتایا ہے کہ تمام اداروں کو خواجہ سراؤں کو اوپم میرٹ پر ملازمتیں دینے کیلئے نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے ۔ حکومتی رکن شیخ علاؤلدین نے خواجہ سراؤں کا معاملہ تھریکِ التوا میں اٹھایا اور کہا کہ خواجہ سراؤں کو ان کا جائز حق دینا ضروری ہے ۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہسپتالوں کے گائنی وعارڈز ، کواتین کے تعلیمی اداروں میں خواجہ سراؤں کو ملازمتوں میں کم از کم پچیس فیصد ھسہ دیا جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے اداروں اور وارڈوں میں خواجہ سرایؤں کی تعیناتی سے خواتین کی بے پردگی کا عنصر بھی ختم ہوجائے گا ۔ اس تحریک، التواکے جواب میں پارلیمانی امور کے پارلیمانی سیکرٹری نزر گوندل نے بتایا کہ خواجہ سراء اوپن میرٹ پر کسی بھی ادارے میں ملازمت حاسصل کرسکتے ہیں ، انہوں نے بتایا کہ خواجہ سراؤں کو مختلاف اداروں میں اوپن میرٹ پر ملازمت دینے کے ضمن میں مراسلہ جاری کیا جاچکا ہے۔

مزید : صفحہ اول