آتشزدگی یاغربت کی وجہ سے بچوں کا قتل،پولیس کی نڈھال باپ سے پوچھ گچھ

آتشزدگی یاغربت کی وجہ سے بچوں کا قتل،پولیس کی نڈھال باپ سے پوچھ گچھ

لاہور(وقائع نگار) سبزہ زار کے علاقہ میں آتشزدگی اور سلنڈر دھماکہ کے باعث جاں بحق ہونے والے چار بچوں کے باپ انور سے پولیس نے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے اور پولیس کا خیال ہے کہ شاید والدین کہیں بچوں سے تنگ نہ ہوں یا یہ غربت کی وجہ سے سانحہ پیش نہ آیاہو ۔غم سے نڈھال والد اپنی بے گناہی کی صفائی دیتا رہا مگر پولیس کو اس پر ترس نہیں آ رہا تھا اور وہ اس سے مسلسل سوال کرتے رہے ۔آخر میں تنگ آ کر والد بولا آپ مجھے کیوں پریشان کر رہے ہیں کیا میں بچوں کا قاتل ہوں ایک تو میرا گھر اجڑ گیا ہے دوسرا آپ مجھے پریشان کر رہے ہیں اس سے بہتر تو تھا کہ میں بھی مر جاتا اور یہ دن مجھے دیکھنا نہ پڑتا غم سے نڈھال والد نے روتے ہوئے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ وہ بہت پریشان ہے اور سوچ رہا ہے کہ شاید اس کی قسمت میں ہی ایسا لکھا تھا ہو سکتا ہے کہ اگر میں گھر سے باہر نہ جاتا تو ان بچوں کو بچا لیتا وہ پاگلوں کی طرح مسلسل رو رہا تھا کبھی اپنے بچوں کی لاشیں دیکھتا اور کبھی اپنی بے بسی کا رونا روتا ۔والد کے مطابق شارٹ سرکٹ سے آگ کا لگنا آسان کام نہیں وہ تو خود پریشان ہے کہ آگ کیسے لگی ۔اس کے چاروں پھول جیسے ننھے منے بچے جب وہ رات کو گھر آتا تھا تو وہ اس کے گرد جمع ہو جاتے تھے تو انہیں بچوں کی شرارتیں بڑی اچھی لگتی تھیں اب وہ سوچ رہا ہے کہ اب اس کے بچے جو ابدی نیند سو گئے ہیں وہ تو کبھی واپس نہیں آئیں گے ۔اس سے شرارتیں کون کرے گا وہ اگر بچوں کو بھول جانا بھی چاہے تو یہ ممکن نہیں ۔غم زدہ والدہ نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ تو بچوں کے بغیر کھانا نہیں کھاتی تھی وہ پچھتا رہی ہے کہ وہ اپنے معصوم بچوں کو اکیلا چھوڑ کر گھر سے باہر کیوں گئی یہ قیامت جیسی رات وہ کبھی بھی بھول نہیں پائے گی اس کے ننھے منے بچے اس سے بہت پیار کرتے تھے اب وہ ان کی تصویریں دیکھ کر عمر بھر کے لیے روتی رہے گی اس سے تو بہتر تھا کہ اس کو موت آ جاتی اور یہ دن اسے دیکھنا نہ پڑتا ۔اس نے تو ننھے منے بچوں کو بڑی شکل سے پالا تھا ۔

مزید : صفحہ اول