پی آئی اے مسئلہ سنگین ہو گیا، تمام فریق سیاست سے گریز کریں!

پی آئی اے مسئلہ سنگین ہو گیا، تمام فریق سیاست سے گریز کریں!

تجزیہ: چودھری خادم حسین

بلوچستان کے وزیراعلیٰ ثنا اللہ زہری نے کوئٹہ میں پاکستان کانفرنس کے عنوان سے امن کانفرنس بلا کر جو کارنامہ انجام دیا اس کی داد دی جا رہی ہے اور شرکاء کانفرنس کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان کے حالات میں بہت بہتری آئی ہے۔ اس کانفرنس میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے شرکت اور خطاب کیا۔ حسب روائت انہوں نے بڑی سادگی اور عزم کے ساتھ اپنی بات کی اور کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا، پاکستان میں باہر سے مداخلت اور اندر سے تعاون کی وجہ سے حالات خراب ہوتے ہیں، جنرل راحیل شریف کی گفتگو فوج کی صبرآزما قربانیوں کے پس منظر میں ہے اور اسے اسی حوالے سے دیکھا جانا چاہیے کہ انہوں نے صاف بات کی اس لئے اسے کوئی اور معنی نہ پہنائے جائیں تو بہتر ہو گا۔

آج بات شروع کرتے ہوئے یہ ذکر یوں کرنا پڑا کہ پی آئی اے کے ملازمین کی تحریک میں خون شامل ہو گیا جبکہ حکومت تو حکومت ہی ہے۔ اس کے ترجمان پرویز رشید کی بات تو بعد میں خود وزیراعظم نے غصہ بھرے لہجے میں کہا کہ مظاہرین کو سیاسی حمائت حاصل ہے اور جو ہڑتال کرے گا وہ گھر جائے گا اور جیل بھی جانا ہوگا، اس سے قبل وزیر اطلاعات پرویز رشید بھی ایسے ہی لہجے میں یہ بات کر چکے تھے۔ اب وزیراعظم اور وزیراطلاعات کی بات کو لیا جائے تو یہ سچ ہے کہ مظاہرین کو سیاسی حمایت حاصل ہے اور ایسا ہر ایسی تحریک میں ہوتا ہے کہ حکومت سے باہر جماعتیں اپنے اپنے مفاد یا پروگرام کے حوالے سے حمایت کرتی ہیں، اب تو واضح طور پر جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے ہڑتالیوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے تو تحریک انصاف کے عمران خان پرسوں (ہفتہ 6فروری) کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کر چکے ہیں۔

یہ سب تو ایسی تحاریک میں ہوا ہی کرتا ہے لیکن یہاں صورت حال میں تھوڑی تبدیلی ہو گئی اور اس پر غور بھی کر لینا چاہیے ، اس وقت پی آئی اے میں سودا کاری ایجنٹ (سی بی اے)ائر لیگ ہے جو مسلم لیگ (ن) کی حمایت یافتہ ہے۔ پی آئی اے میں پیپلز یونٹی اور پیاسی بھی ہیں جو بالترتیب پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی حمایت یافتہ ہیں اور یہاں متحدہ کی حمایت یافتہ تنظیم بھی ہے۔ تاہم جو تحریک ملازمین کی طرف سے چلی وہ مشترکہ مجلس عمل کے تحت ہے اور اس میں تمام تنظیمیں شامل ہین، اب جو اموات ہوئی ہیں، ان میں سلیم اکبر کا تعلق جماعت اسلامی کی حمایت یافتہ پیاسی سے ہے اور وہ جماعت اسلامی پنجاب کے امیر میاں مقصود احمد کے برادر نسبتی تھے، جبکہ دوسرے مقتول عنایت رضا اپر لیگ کے رکن تھے ، یوں قدرتی طور پر یہاں سیاست تو داخل ہے تاہم مجلس عمل کے سربراہ سہیل بلوچ نے ہر قسم کی سیاست سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی اراکین کا فرمان اپنی جگہ، لیکن ان کو یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ وہ خود تو سیاست نہیں کر رہے، محترم پرویز رشید نے اس ہنگامے سے قبل سخت لہجے میں (ان سے توقع نہیں ہوتی) انتباہ کیا کہ جو ہڑتال کرے گا، گھر جائے گا، پھر نوکری پر بحال نہیں ہوگا اور جیل بھی جائے گا، پھر انہوں نے فرمایا ہم نے سب انتظام کر لیا، فلائٹ آپریشن متاثر نہیں ہوگا، یہ سب کچھ نہیں ہوا، بندے مارے گئے اور اب یہ کنفیوژن کہ کیسے مرے کس نے مارے۔ پرویز رشید کہتے ہیں ، قائم علی شاہ پتہ کرکے دیں کہ گولی کس نے چلائی اور بندے کس نے مارے، اب آپ ہی کہیں کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے اور وہ بھی محترم پرویز رشید کے منہ سے ،جبکہ ان کے منہ سے تو پھول جھڑتے ہیں۔

ہماری التجا پہلے بھی تھی اور اس خون سے پہلے عرض کی تھی کہ فریقین مذاکرات کریں اور کسی درست نتیجے پر پہنچیں کہ ادارہ بھی بچے، ملازمین کا بھی تحفظ ہو، لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز والا مسئلہ ہوا، اب اموات کو مخالف اور حامی الگ الگ پیمانے میں ماپ رہے ہیں، نئی الزام تراشی شروع ہو گئی، بیلوں کی اس لڑائی میں گھاس کی تباہی ہو رہی ہے، کہیں دو ملاؤں کی لڑائی میں مرغی ہی حرام نہ ہو جائے۔ ادارے کو بچانا دونوں فریقوں اور ہر حامی اور مخالف کا فرض ہے اور یہ صرف اس طرح بچے گا کہ مذاکرات ہوں۔ رائٹ سائزنگ کے لئے گولڈن ہینڈ شیک کا فارمولا تیار کرکے اس پر اتفاق کر لیا جائے۔ حکومت اس ادارے میں بھی سرمایہ لائے اور ایک ہی مرتبہ بھرپور اخراجات کے ذریعے ہمیشہ کے نقصان سے نجات حاصل کی جائے۔ یہ طریقہ کار منظور ہو جائے تو حصص کی فروخت پر بھی بات ہو سکتی ہے یہ انا کا نہیں ادارے اور کارکنوں کی بقاء کا مسئلہ ہے۔ اگر ادارہ ہی نہ رہا تو کس کے حصص بکیں گے اور نجکاری ہوگی اور ملازمین بھی تنخواہیں اور مراعات کس سے لیں گے؟ جوش پر ہوش کو غالب آنے دیں۔ یوں بھی حکمران اگر اسے سازش سمجھتے ہیں تو اس سے بچنے کی کوشش بھی انہی کو کرنا ہے۔ ہم حساب کتاب کے چکر میں نہیں پڑتے جو بالکل ظاہر ہیں۔ ورنہ بات سہیل بلوچ کی سن لیں کہ ادارے کو منافع بخش بنائیں۔ خواجہ سعد رفیق جیسا منظم8 دے دیں انہوں نے ریلوے کی مثال دی تھی ۔

مزید : تجزیہ