پی آئی اے کے معاملات مزید گھمبیر ہوگئے ،کروڑوں کا نقصان

پی آئی اے کے معاملات مزید گھمبیر ہوگئے ،کروڑوں کا نقصان

تجزیہ :نعیم الدین

پی آئی اے کے معاملات الجھتے ہی جارہے ہیں ،یونین اور حکومت کے درمیان چلنے والی ضد کہاں جا کر رُکے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یونین اور حکومت کے درمیان اس اہم معاملے پر جس میں ادارے کاکروڑوں کا روزانہ کا نقصان ہورہا ہے، ایک بار پھر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ خسارے والا ادارہ کروڑوں روپے روز کا مزید خسارہ ہڑتالوں کی وجہ سے کررہا ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پی آئی اے کا بورڈ ہے ، وہ آکر تمام معاملات کو عوام کے سامنے رکھیں کہ نقصان ہونے کی وجوہات کیا ہیں اور اس نقصان کو دور کرنے کیلئے کیا تدابیر اختیار کیجاسکتی ہیں۔ کیونکہ خسارے والے ادارے کو کوئی بھی پارٹی کوڑیوں کے مول ہی خریدے گی۔ اگر اس ادارے کو مضبوط، مستحکم اور منافع بخش ادارہ بنا کر فروخت کیا جائے تو یہ ادارہ حکومت کو بہت زیادہ منافع بھی دے سکے گا اور حکومت کی نجکاری کی خواہش بھی پوری ہوجائے گی۔ کیونکہ یہ ادارہ ملک کا بڑا قومی ادارہ ہے جس کو نجکاری کے تحت فروخت کرنا آسان نہیں ہے ۔ادھرپی آئی اے کے تین ملازمین جو کہ احتجاج کے دوران فائرنگ سے ہلاک ہوگئے تھے، کے قتل کامعمہ تاحال حل نہیں ہوسکا ہے۔ نہ ہی پولیس مقدمہ درج کرسکی تھی۔بعض تجربہ کار ریٹائرڈ پولیس افسران کاکہنا ہے کہ اس بات پر بھی غور کیا جارہا ہے کہ تہرے قتل کی واردات کسی دہشتگردی کا شاخسانہ تو نہیں۔ کیونکہ جس جگہ یہ واردات ہوئی ہے، وہاں اسلحہ لے کر چلنا سخت منع ہے۔ لہذا کسی مشاق قاتل کا ہی یہ کارنامہ ہوسکتا ہے کیونکہ اتنے پرہجوم ماحول میں گولی کے چلنے کا تعین نہیں کرسکا کہ گولی کہاں سے آئی ؟ ان ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کیس کی نوعیت بالکل اس طرح سے ہوتی جارہی ہے جیسے محترمہ بینظیر بھٹو پر گولی چلائی گئی اور فوری طور پر جگہ کا تعین نہ ہوسکا ۔بلکہ کئی روز تک پتہ نہیں چل سکا تھا۔ تاہم لیبارٹری اور پوسمارٹم رپورٹ کے آنے کے بعد ہی صورتحال کا صحیح معنوں میں اندازہ ہوسکے گا کہ گولی کس نے چلائی ؟

مزید : تجزیہ