ایم 8کے افتتاح سے پاک چین اقتصادی راہداری کا کام عملا شروع ہو گیا

ایم 8کے افتتاح سے پاک چین اقتصادی راہداری کا کام عملا شروع ہو گیا

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

وزیراعظم نواز شریف نے بدھ کو گوادر ، تربت، ہوشاب موٹروے (ایم 8) کا افتتاح کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) نے کتنے مشکل حالات میں کام کیا، تب کہیں جاکر اس منصوبے کی تکمیل ممکن ہوسکی، ایف ڈبلیو او کے 26ہنرمندوں اورکارکنوں نے اس کے لئے اپنی جانیں قربان کیں جس طرح شاہراہ ریشم کی تعمیر میں بہت سے چینی انجینئروں کا خون بھی شامل ہوا اور جن کی یادمیں شاہراہ ریشم پر تختیاں نصب ہیں اسی طرح اس 193کلومیٹر لمبی موٹروے کی تعمیر میں بھی 26کارکنوں کا خون شامل ہے چینی کارکنوں کی جانیں تو سینہ سنگ کو چیر کر ریشم کا رستہ بناتے ہوئے گئیں لیکن ایم 8بنانے والے ان دہشت گردوں کا نشانہ بنے جو پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر کتنا مشکل کام ہے اور ابھی سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جب اس کی تعمیراگلے مرحلوں میں شروع ہوگی تو راہ میں کیا کیا سنگ گراں آئیں گے، انجینئروں اور فنی ماہرین کے اغوا کے خدشات موجود ہیں انہیں تاوان کے لئے اغوا کیا جاسکتا ہے اور ساتھیوں کو خوفزدہ کرنے اور تعمیر میں مصروف لوگوں کو بے حوصلہ کرنے کے لئے اغوا شدگان کو موت کے گھاٹ بھی اتارا جاسکتا ہے، ایسے ہی خدشات کے پیش نظر فوج کی ایک خصوصی فورس تشکیل دی گئی ہے جو سی پیک کی تعمیر میں سیکیورٹی کے امور انجام دے گی، چینی صدر شی چن پنگ کو ان کے دورۂ پاکستان کے موقع پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے یہ یقین دہانی کرادی تھی کہ چینی انجینئروں اور فنی ماہرین کی حفاظت کا فول پروف انتظام کیا جائے گا ، ہماری تجویز ہے کہ ایف ڈبلیو او کے جن کارکنوں نے اس سڑک کی تعمیر میں اپنی جانیں قربان کی ہیں، ان کی شایان شان یادگار اس سڑک کے کسی اہم مقام پر بنائی جائے تاکہ اہل وطن ان کی قربانیاں یادرکھیں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ آنے والی نسلوں کو محفوظ اور ہموار راستے فراہم کرنے کے لئے انہوں نے اپنی جان تک کی پرواہ نہ کی تھی ۔

ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستاں میں

ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے

جب سڑک کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا تودہشت گردوں نے باربار حملے کرکے اس کام کو روکنے کی کوشش کی لیکن فوج کے شہیدوں نے شرپسندوں کی یلغار کے سامنے اپنے خون کی دیوار کھڑی کردی اور آج 193کلومیٹر سڑک ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔

بلوچستان آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے لیکن اس کا رقبہ تمام صوبوں سے زیادہ ہے۔ آبادی کم ہے اور فاصلے بہت زیادہ ہیں اس لئے دوریاں ختم کرنے کے لئے صوبے میں شاہراؤں کا جال بچھانا ضروری ہے۔ جس منصوبے کا آغاز آج گوادر سے ہوا ہے، یہ نہ صرف کاشغرتک وسیع ہوگا بلکہ وسطی ایشیا کے لوگ بھی اس سے استفادہ کریں گے جیسا کہ وزیراعظم نواز شریف نے افتتاح کے موقع پر بتایا کہ ازبکستان ، تاجکستان اور کرغزستان ، گوادر بندرگاہ کو استعمال کرنا چاہتے ہیں پاکستان پشاور سے جلال آبادتک جدید شاہراہ تعمیر کررہا ہے جس پر تیز رفتار سفر ممکن ہوگا، افغانستان اور پاکستان مل کر اس شاہراہ کو کابل تک پہنچائیں گے اور وہاں سے وسطی ایشیائی ریاستوں کو جائے گی ۔ اس لحاظ سے یہ ایک سنگ میل منصوبہ ہے جس کے ذریعہ پاک چین اقتصادی راہداری کا عملاً آغاز ہوگیا، یہ موٹروے اقتصادی راہداری کے مغربی مشرقی اور وسطی تینوں روٹوں کا حصہ ہے اس سڑک کی تکمیل سے گوادر بندرگاہ کے استعمال میں اضافہ ہوگا۔ اس سڑک کی تکمیل سے بلوچستان کا صوبائی دارالحکومت گوادر سے مل گیا ہے اور کوئٹہ سے چمن کے راستے افغانستان تک گوادر سے آمدورفت ممکن ہوگئی ہے۔ سخت ترین ’جغرافیائی محل وقوع اور نازک ترین سیکیورٹی صورت حال کے باوجود ایف ڈبلیو اونے قومی اہمیت کے اس منصوبے کی تعمیر کے چیلنج کو قبول کیا، تعمیر کا کام بروقت مکمل کرلیا گیا ہے اور منصوبے پر 13ارب سے زیادہ لاگت آئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ منصوبہ بلوچستان کی ترقی وخوشحالی میں کس طرح ممدو معاون ثابت ہوسکتا ہے ؟ جس صوبے میں بے روزگاری عام ہے روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، اسی وجہ سے بلوچستان اور ایرانی صوبے سیستان کے درمیان سمگلنگ ہوتی ہے۔ گزشتہ دنوں سیستان کے ڈپٹی گورنر نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور سمگلنگ روکنے کی تدابیر پر غور کیا گیا تھا لیکن اگر روزگار نہیں ہوگا تو لوگ اپنی روزی کمانے کے لئے کیا کریں گے، اس لئے اگر روزگار کے مواقع پیدا کئے جاتے ہیں تو یہ سمگلنگ روکنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتے ہیں، سیستان کے گورنر اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب ثنااللہ زہری کے درمیان گو ادر اور ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کو ملانے کے لئے ریلوے لائن بچھانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا اگرچہ یہ تجویز ابھی محض سوچ بچار کے مرحلے میں ہے تاہم تجویز اپنی جگہ بہت مفید ہے، گوادر اور چاہ بہار کا فاصلہ زیادہ نہیں ہے اور ریلوے کی پٹڑی بچھانے کا اگر فیصلہ ہوجاتا ہے تو بہت کم وقت میں ایسا کرنا ممکن ہو جائے گا ۔ اسے ایک لحاظ سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی توسیع سمجھا جائے گا کیونکہ اس طرح پاکستان چاہ بہار کی بندرگاہ سے مستفید ہوسکتا ہے اور ایران گوادر کی بندرگاہ سے استفادہ کرسکتا ہے۔ اور چین دونوں بندرگاہوں کے ذریعے اپنی درآمدات اور برآمدات کو ممکن بناسکتا ہے یعنی کاشغر سے چینی مال سی پیک راہداری کے ذریعے گوادر آئے، وہاں سے ریل کے ذریعے چاہ بہار تک پہنچایا جائے اور وہاں سے پورے ایران اور مشرق وسطیٰ تک مال کی رسائی ممکن بنائی جائے ۔وزیراعظم نے درست کہا تھا کہ گوادر اور چاہ بہار ’’بہنیں‘‘ ثابت ہوں گی۔

بلوچستان میں روزگار کے وسائل پیدا کرنے کے لئے اگرچہ راہداری کے ساتھ مختلف مقامات پر اقتصادی زون بنانے کی پلاننگ پہلے سے موجود ہے تاہم ایم 8کی تعمیر چونکہ مکمل ہوچکی ہے اس لئے ہماری تجویز یہ ہے کہ اس کے چند مقامات منتخب کرکے صنعتی گاؤں بسادیئے جائیں جہاں منتخب قسم کی کاٹیج انڈسٹری لگادی جائے، یہاں صرف وہ ہنر مند اور کاریگر رہائش رکھیں جو کاٹیج انڈسٹری میں کام کریں۔ ہنر مندوں کے یہ چند گاؤں بسانا بہت مشکل کام بھی نہیں اور نہ ہی یہ مہنگا سودا ہے ،چند ہزار کی آبادی کا ایک گاؤں بساکر یہاں اگر ساری سہولتیں دے دی جائیں تو کاٹیج انڈسٹری ملکی صنعتوں کو پرزے مہیا کرسکتی ہے، جاپان میں موٹرسائیکل انڈسٹری کو مختلف نوعیت کے پرزے فراہم کرنے کے لئے جگہ جگہ اس طرح کی چھوٹی صنعتیں قائم ہیں جنہوں نے جاپان کی صنعتی ترقی کو ممکن بنایا بلوچستان میں میلوں تک ایسے علاقے پھیلے ہوئے ہیں جو بے آب و گیاہ ہیں ، پانی نہ ملنے کی وجہ سے زراعت بھی ممکن نہیں لیکن جس طرح متحدہ عرب امارات نے ان علاقوں کو جہاں ریت اڑتی تھی اور گردوغبار کے طوفان اٹھتے تھے گل و گلزار میں تبدیل کردیا ہے اس طرح ان علاقوں میں بھی ایسی زراعت شروع کی جاسکتی ہے جسے پانی کی ضرورت کم سے کم ہو۔ زرعی سائنسدان ایسی فصلوں کے تجربات بھی کرسکتے ہیں، بعض عرب ملکوں کے خوشحال سرمایہ کاروں نے پنجاب میں ایسی بنجرز زمینیں پٹے پر حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی یہ سرمایہ کار ان زمینوں کو جدید ترین مشینری ، ٹیکنالوجی اور مصنوعی بارش برسا کر زرعی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے لیکن ملک میں ایک شور مچ گیا اور اس شوروغوغے میں بنجرزمینیں آباد کرنے کا یہ منصوبہ دب کر رہ گیا، آج تک کسی نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا کہ یہ کتنا مفید منصوبہ تھا اور کس طرح جذباتی بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ گیا، لیکن ہم بلاسوچے سمجھے ایسے بہت سے منصوبے اس طرح دفن کرچکے ہیں، بلوچستان میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی انقلاب لانا ممکن ہے لیکن اس کے لئے جذباتیت ذرا کم اور دانش ذرا زیادہ ہونی چاہئے۔ کیا ہم اس کے لئے تیار ہیں؟

مزید : تجزیہ