چودھری صاب تُسی وی؟

چودھری صاب تُسی وی؟
 چودھری صاب تُسی وی؟

  

یہ وفاقی حکومت کے ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کی طرف سے دیا گیا اشتہار ہے جس میں خوشخبری دی گئی ہے کہ ہم اپنے موبائیل فون سے ڈبل نائین ڈبل ایٹ ڈائیل کر کے پاسپورٹ سے متعلق تمام معلومات، پاسپورٹ کی ٹریکنگ،پاسپورٹ کے دفاتر اورفیس جمع کروانے کے لئے نیشنل بنک کی برانچ کی لوکیشن بارے جان سکتے ہیں۔ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کا حصول ابھی تک بہت مشکل ہے، مگر اسے آسان بنانے کی کوششیں کی جار ہی ہیں اور ان کوششوں کو سراہاجانا چاہئے ۔یہ سروس چوبیس گھنٹے انگریزی اور اردو سمیت چھ زبانوں میں فراہم کی گئی ہے۔ باقی چار زبانوں میں بلوچستانی بھائیوں کی بلوچی، پختون بھائیوں کی پشتو، سندھی بھائیوں کی سندھی کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب کی میٹھی زبان سرائیکی شامل ہے مگر اس میں پنجابی کو شامل نہیں کیا گیا، یہ اقدام باقاعدہ سوچی سمجھی سازش کے تحت بھی ہو سکتا ہے اور سہواً بھی۔ کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ سرائیکی اور پنجابی آپس میں بہنیں ہیں ، پنجابی بولنے والے اگر اردو اور انگریزی جیسی زبانوں پر عبور نہیں رکھتے تو وہ تھوڑی سی کوشش کے بعد سرائیکی میں دی جانے والی معلومات سمجھ سکتے ہیں ۔ ستم یہ ہے کہ دوسری طرف یہی لوگ جب جنوبی اور وسطی پنجاب میں خلیج وسیع کرنے پر آتے ہیں تو کوئی رعائت نہیں دیتے، کوئی لحاظ روا نہیں رکھتے۔

اُردو، انگریزی،پشتو، سندھی اور بلوچی کے مقابلے میں پنجابی زبان کا المیہ یہ ہے کہ اس سے خود پاکستانی پنجاب میں بھی لاتعلقی ظاہر کی جاتی ہے۔ کسی سڑک ، کسی چوراہے پر کوئی بورڈ پنجابی میں نظر نہیں آتا۔ پنجاب کی زبان اور ثقافت کو پروموٹ کرنے کے لئے جو ادارہ بہت محنتی، قابل اور کمٹڈ ڈاکٹرصغریٰ صدف کی سربراہی میں کام کر رہا ہے، اس کانام بھی ’’پلاک‘‘ یعنی پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچرہے، گویا یہ نام بھی پنجابی میں نہیں۔سڑکیں اور دفاتر تو اک طرف رہے ،اس زبان کے ساتھ گھروں میں یہ سلوک ہوتا ہے کہ جو پنجابی ماں باپ پڑھ لکھ جاتے ہیں، وہ بھی اپنے بچوں سے بات چیت کرتے ہوئے اسے گھر سے باہر نکال دیتے ہیں، اگر وہ بچوں سے انگریزی میں بات نہیں بھی کرتے تو کم از کم اردو پر تو ضرور چلے جاتے ہیں، لہٰذا ایسے میں اگر وفاقی وزارت داخلہ کے ماتحت ادارے نے اپنے ہی طاقت ور وزیر کی بولی کو کچرے کے ڈبے میں پھینک دیا ہے توعمومی طور پر نہ تو اس پر تعجب ہونا چاہئے اور نہ ہی کسی کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔میری توجہ اس طرف سینئر صحافی عامر رضا خان نے مبذول کروائی، درست کہا کہ پنجابی صرف پاکستان کے ایک صوبے کی تو زبان نہیں، یہ تو بین الاقوامی سطح پر بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے۔پنجابی بولنے والے آپ کو دنیا بھر میں ملیں گے۔ ہم نے پنجابی کوگرو مکھی اور شاہ مکھی یاتوسیع شدہ عربی زبان میں تقسیم کر کے اس کی حیثیت کو کم زور بھی کیا ہے۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں عار نہیں کہ پاکستانی پنجاب کی نسبت، بھارتی پنجاب میں پنجابی کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ پاکستان میں دی جانے والی اہمیت کا اندازہ تو آپ کو وزارت داخلہ کے اس اشتہار سے ہو ہی گیا ہو گا مگر بھارتی ریاستوں پنجاب اور ہریانہ کے ساتھ ساتھ دہلی میں بطور دفتری اور اقلیتی زبان رائج ہے۔اسے ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، راجستھان اور مغربی بنگال میں دوسری بڑی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ہم اس نسل سے ہیں کہ ہم وارث شاہ، امرتا پریتم، میاں محمد بخش اور بابا بلھے شاہ جیسے شاعروں کا کلام ٹھہر ٹھہر کر مشکل سے سمجھتے ہیں،پنجابیوں کی اولادوں کے لئے پنجابی فرانسیسی یا پشتو کے قریب قریب پہنچ چکی ہے، کیونکہ دوسرے صوبوں کے برعکس ہمارے سکولوں میں یہاں کی ماں بولی پڑھائی ہی نہیں جاتی۔

جب پنجاب اور پنجابیوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو اس پر کوئی احتجاج نہیں کرتا۔ پنجاب کو ہمیشہ ایک غاصب صوبے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اگر خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ اپنے صوبے کے حقوق کے نام پر ملک بھر میں آگ لگا دینے کا بیان دے تو اسے صوبائی خودمختاری کے نام پر شوگر کوٹڈ کر دیا جاتا ہے۔کیا یہ کہا جائے کہ پنجاب کو صوبہ سمجھا ہی نہیں جاتا، اس سے معاملہ اسے وفاق سمجھتے ہوئے طے کیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں پنجاب کو اکثرو بیشتر نقصان ہوتا ہے،اس کی بہترین مثال کالاباغ ڈیم کی صورت بھی دی جاسکتی ہے۔ جاگ پنجابی جاگ کے نعرے کو گالی قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ پنجابی صرف سنٹرل اور اپر پنجاب کی زبان نہیں،دنیا بھر میں اسے بولنے والوں کی تعداد کسی طور بھی پندرہ، سولہ کروڑ سے کم نہیں ہے۔ یہ وہ زبان ہے جسے ہندو، مسلمان، عیسائی اور سکھ سب بولتے ہیں۔ پنجاب کی قومی سطح پراپنے مفادات کے تحفظ کے لئے نمائندگی کی ذمہ داری وزیراعلیٰ شہباز شریف پر ہے، مگر وہ صوبائی کی بجائے اپنے قومی سطح کے کردار کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ شہباز شریف تو اک طرف رہے، اس وقت نواز شریف اگر وزیراعظم بنے بیٹھے ہیں تو ان کے پیچھے اصل طاقت اور مینڈیٹ پنجابیوں کے ووٹ کی صورت میں ہی ہے، انتخابی نتائج کی گواہی لے لیجئے کہ انہیں سندھیوں، بلوچیوں اور پٹھانوں نے پنجابیوں جیسی فقید المثال محبت اور مینڈیٹ سے نہیں نوازا ۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کو صرف پنجاب بارے سوچنا چاہئے ،مگر میں یہ تو کہہ سکتا ہوں کہ انہیں دوسروں کے ساتھ ساتھ پنجاب بارے بھی سوچنا چاہئے۔ پنجاب بجلی سے محروم رہا، پنجاب اب گیس سے محروم ہے۔پنجاب میں تعمیر میں تمام تر آسانیوں کے باوجود اقتصادی راہداری میں ترجیحی بنیادوں پر مشکل روٹ کوپہلے بنایا جا رہا ہے، کیونکہ وہاں چھوٹے صوبوں کا دباو ہے۔ پنجاب اس پر بھی شکوہ کناں نہیں ہے، اس پر کوئی آل پارٹیز کانفرنس نہیں، اس پر کوئی احتجاج نہیں، مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں لیا جانا چاہیے کہ اگر کوئی چار جوتے خوشی سے کھا رہا ہے تو آپ اسے آٹھ مارنا شروع کر دیں،وجہ یہ بیا ن کریں کہ اسے جوتے کھانے میں مزا آ رہا ہے۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک معمولی ایشو ہے، لیکن میرا کہنا ہے کہ امیگریشن اور پاسپورٹ بارے اس ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے ایسا ’’جرم ‘‘کسی دوسرے صوبے کے ساتھ کیا گیا ہوتا تو اسے ردعمل مل چکا ہوتا۔ اسے پنجابی اسٹیبلشمنٹ کی سازش قرار دیا جا رہا ہوتا۔ یہ کسی طور بھی معمولی ایشو نہیں،پنجابی زبان کو اس وفاقی ادارے کی طرف سے فراہم کی جانے والی سروس میں نظرانداز کرناجس کے سربراہ چودھری نثار علی خان ہیں، محب وطن پاکستانیوں کی توہین ہی نہیں، بلکہ بڑے بھائی سے مسلسل کی جانے والی زیادتیوں کا تسلسل ہے جو شریکے والے ہی نہیں،خود پنجاب سے عزت ،دولت اور اقتدار پانے والے بھی کر رہے ہیں۔

مزید : کالم