ہائیکورٹ بار کا اجلاس، سیاست کو وکالت سے الگ رکھنے کی قرار داد مسترد

ہائیکورٹ بار کا اجلاس، سیاست کو وکالت سے الگ رکھنے کی قرار داد مسترد

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورہائیکورٹ بار نے سیاستدانوں کو بار میں مدعو کرنے سے روکنے اورسیاست کو وکالت سے الگ رکھنے کی قرار داد مسترد کردی ۔یہ قرار داد اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی طرف سے پیش کی گئی تھی ۔ہائی کورٹ بار نے ایک دوسری قرار داد متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیریوں کو ہندو بربریت اور وحشیانہ سلوک سے نجات اور غلامی سے آزادی کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دیا جائے۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدرپیر مسعود چشتی کی سربراہی میں اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی قرارداد اور کشمیر ڈے کے حوالہ سے جنرل ہاؤس کا اجلاس منعقد ہوا۔ اعظم نذیر تارڑ سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکالت اور سیاست کو الگ کرنا نا انصافی ہے۔ ملک میں یکے بعد دیگرے مارشل لاء لگے تو بار ایسوسی ایشنز نے آواز اٹھائی اور سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ وکلاء کو اپنے ساتھ کھڑا کیا۔ پیر محمد مسعود چشتی نے کہا کہ مارچ 2015ء میں جنرل ہاؤس کے پہلے اجلاس میں معزز اراکین نے بار کے مفاد میں حکومت سے رابطہ کرنے اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے خطاب کی اجازت دی تھی۔ جس کے تحت سیاسی رہنماؤں کو بار میں خطاب کی دعوت دی گئی۔پیر محمد مسعود چشتی نے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کی قرارداد رائے شماری کے لئے پیش کی جسے وکلاء نے نا منظور کر دیا۔

مزید : صفحہ آخر