ریونیو اتھارٹی ترمیمی بل کی منظوری سے پچھلی تاریخوں میں کئے تمام فیصلے قانونی قرار

ریونیو اتھارٹی ترمیمی بل کی منظوری سے پچھلی تاریخوں میں کئے تمام فیصلے ...

لاہور(شہباز اکمل جندران) صوبائی اسمبلی نے پنجاب ریونیو اتھارٹی (ترمیمی ) ایکٹ2015منظور کرتے ہوئے انتظامیہ کی طرف سے پچھلی تاریخو ں میں کئے جانے والے تمام فیصلوں کوقانونی قرار دیدیا ہے۔ترمیمی ایکٹ کی منظور ی کے بعدپی آر اے کی انتظامیہ اور ملازمین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔عدالت عالیہ کے روبرو آج ہونے والی سماعت میں ریلیف ملنے کا امکان پیدا ہوگیا۔معلوم ہواہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے 25جنوری کو اپنے ایک فیصلے کے ذریعے پنجاب ریونیو اتھارٹی ایکٹ2012کو کالعدم قرار دیدیاتھا۔ جس پراتھارٹی کے چیئرمین سے لیکر چھوٹے ملازمین اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت بھی تشویش کا شکار ہوگئی۔ذرائع کے مطابق عدالت عالیہ نے پی آر اے کی انتظامیہ کی طرف سے پچھلی تاریخوں میں کئے جانے والے بعض فیصلوں کو ایک آرڈیننس کے تحت تحفظ دینے اور اس آرڈیننس کے بھی غیر موثر ہونے پراتھارٹی کے تمام فیصلوں اور 2012کے ایکٹ کو کالعدم قرار دیدیا تھا۔عدالتی فیصلے کے فوری بعد عدالت عالیہ کے فیصلے کے خلاف ڈویژن بینچ میں اپیل دائر کی گئی۔ جس کی سماعت آج ہوگی۔جبکہ اسی دوران پی آر اے کی انتظامیہ ، فنانس ڈیپارٹمنٹ اور صوبائی حکومت کی کاوشوں سے گزشتہ روز پنجاب اسمبلی نے پی آر اے (ترمیمی ) ایکٹ 2015کی منظوری بھی دیدی ہے۔ اسمبلی سے قانونی کی منظوری کے بعد اتھارٹی کی انتظامیہ اور ملازمین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اور امکان پیدا ہونے لگا ہے کہ ترمیمی قانون کی منظوری کے بعد عدالت عالیہ کی آج کی سماعت میں بھی پی آر اے کو ریلیف مل سکتا ہے۔ اور عدالت عالیہ پچھلی تاریخو ں میں اتھارٹی کے افسران کی طرف سے کئے جانے والے فیصلوں کو نئے ترمیمی ایکٹ کے تحت تحفظ فراہم ہونے پر اپیل منظور کرسکتی ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب ریونیو اتھارٹی صوبے میں ریونیواکٹھا کرنے والا سب سے بڑا محکمہ ہے۔رواں سال 72ارب روپے کے حد ف کے جواب میں پہلے چھ ماہ کے دوران 32ارب روپے وصول کرلیے۔اتھارٹی پہلی بار ریسٹورنٹس ، شادی ہالز ،ڈیزئنرز ،بیوٹی پارلرز، آٹو کارڈیلرز ، مین پاور سپلائرز،کارگوایجنٹس، ود ہولڈنگ ایجنٹس اور کنسٹرکشن سروسز کو ٹیکس نیٹ میں لائی پنجاب ریونیو اتھارٹی صوبے بھر 59قسموں اور ان کی ایک سو 15ذیلی قسموں پر سروسز پر 16فیصد کے تناسب سے جی ایس ٹی وصول کرتی ہے۔اور ٹیکس نیٹ میں شامل سروسز فراہم کرنے والے یونٹس کو ریونیو ادا نہ کرنے پر بحق سرکاری سربمہر کردیا جاتا ہے۔2012سے قائم پنجاب ریونیو اتھارٹی سردست صرف لاہور اور عموماً راولپنڈی ، ملتان ، فیصل آباد ، گوجرانوالہ اور مری میں باقاعدہ فعال ہوسکی ہے۔ البتہ چھوٹے شہروں میں پی آر اے کو فعال کرنے اور انفراسٹرکچر قائم کرنے کے لیے کوششیں جاری تھیں۔ کہ عدالتی حکم کے بعد یہ تمام کوششیں روک دی گئی ہیں۔معلوم ہواہے کہ اپریل 2010میں منطور ہونے والی 18ویں آئینی ترمیم سے قبل فیڈرل بورڈ آف ریونیو ملک بھر سے سیلز ٹیکس وصول کرتی تھی۔تاہم آئینی ترمیم کے بعد سیلز ٹیکس کی وصولی صوبوں کو دیدی گئی ۔جس پر پنجاب حکومت نے 2011میں پی آر اے قائم کی اور 2012میں پنجاب ریونیو اتھارٹی ایکٹ لایا گیا۔جس کے تحت صوبے میں سروسز پر زیادہ سے زیادہ 16فیصد ٹیکس عائد کردیا۔ جبکہ بعض سروسز پر ٹیکس کی شرح اس سے کم بھی رکھی گئی۔یہ بھی علم میں آیا ہے کہ پی آر اے کو صرف ایف بی آر کے سیلز ٹیکس کی وصولی کا ہی اختیار نہ دیا گیا۔ بلکہ صوبائی محکمہ ایکسائز اینڈٹیکسیشن کی طرف سے وصول کئے جانے والے ہوٹل ٹیکس اور بعض دیگر ٹیکسوں کی وصولی کا اختیار بھی دیدیا گیا۔اور اتھارٹی نے رواں مالی ساسل کے 72ارب روپے کے حدف کے جواب میں پہلے 6ماہ کے دوران 32ارب روپے کی ریکوری کرلی ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ اتھارٹی نے صوبے میں پہلی باررمز(ریسٹورنٹ انوائس مانیٹرنگ سسٹم ) نافذ کیا۔ جس کے تحت ریسٹورنٹوں میں روزانہ کی سیل کا نہ صرف ریکارڈ رکھنا ممکن ہوا بلکہ ٹیکس چوری پر بھی بڑی حد تک قابو پا یا جاسکا۔

مزید : صفحہ آخر