عذیر بلوچ کی گرفتاری ،پی پی رہنماؤں کے گرد گھیرا تنگ کرنیکا فیصلہ

عذیر بلوچ کی گرفتاری ،پی پی رہنماؤں کے گرد گھیرا تنگ کرنیکا فیصلہ

کراچی (رپورٹ: راجہ عمران) لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر جان بلوچ کی گرفتاری کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے گرد گھیرا مزید تنگ کردیا گیا ہے۔ پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی کا پاسپورٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے جبکہ لیاری سے تعلق ایک رکن اسمبلی کی اسمبلی کی گرفتاری کسی بھی وقت متوقع ہے۔ عذیر بلوچ کے حمایت یافتہ رکن اسمبلی سمیت متعدد رکن اسمبلی اور سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات بیرون ملک فرار ہونے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ امن کمیٹی خواتین ونگ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون رہنما چند روز قبل بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب ہوچکی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لیاری گینگ وار کے کارندوں سمیت کالعدم جماعتوں اور سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے حتمی لائحہ عمل طے کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کے انکشافات کے خوف سے متعدد ارکان اسمبلی کا پاسپورٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اور ایک گھنٹے تک ان سے تفتیش بھی کی تھی جبکہ لیاری کے ایک اور رکن اسمبلی کو بھی اپنی گرفتاری کا خوف ہے۔ ادھر کراچی میں گزشتہ روز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران کی قیادت میں ایک اہم اجلاس ہوا جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہم افسران نے شرکت کی۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق عذیر بلوچ کے قریبی ساتھی استاد ناجو، غفار زکری، شیراز، وصی لاکھو، شکیل، بادشاہ خان، زاہد لاڈلہ، فیصل پٹھان، سردار آصف عرف مٹھل، جمیل، سلیم، ملا نثار، آغا شوکت ایرانی، سنی اور شیراز کامریڈ کی گرفتاری کا فیصلہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ عذیر بلوچ کے مفرور ساتھیوں سمیت اہم ملزمان کی گرفتاری میں مدد کرنے والے افراد کے لئے دس لاکھ سے 50لاکھ تک کا انعام دیا جائے گا جبکہ جو ملزمان بیرون ملک فرار ہیں انہیں انٹرپول کی مدد سے ملک واپس لایا جائے گا۔

مزید : کراچی صفحہ اول