تمباکو ؍ سگریٹ بنانے والی کمپنیاں تمباکو ؍ سگریٹ کی تشہیر نہیں کر سکیں گی،سپریم کورٹ کا حکم جاری

تمباکو ؍ سگریٹ بنانے والی کمپنیاں تمباکو ؍ سگریٹ کی تشہیر نہیں کر سکیں ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ کے دو رکنی بینج نے آج پاکستان میں تمباکو نوشی ؍ شیشہ کے استعمال کے سوموٹو کیس کی سماعت کی ، جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹس پر غور کیا گیا۔ یاد رہے کہ فلپس مورس پاکستان نے سگریٹ کے اشتہارات پر پابندی کے جاری کردہ SRO کو 2014 میں سندھ ہائی کورٹ کراچی میں چیلنج کیا تھا جس میں وفاقی وزارت قومی صحت کے قانونی استحقاق کو چیلنج کیاتھا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد وفاقی وزارت قومی صحت انسداد تمباکو نوشی کی قانون سازی نہیں کر سکتی۔ جس پر سندھ ہائی کورٹ نے 2014 میں اسٹے آرڈر جاری کیا تھا۔ جس کی وجہ سے اس قانون پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا اور سگریٹ کی ترویج کے لیے بڑے پیمانے پر اشتہار سازی کی جاری رہی تھی اور نوجوان نسل کو تمباکو نوشی پر راغب کیا جا رہا تھا۔ گزشتہ سماعت میں وفاقی ٹوبیکو کنٹرول سیل کی درخواست پر سپریم کورٹ نے اس پٹیشن کا تمام تفصیلی ریکارڈ سند ھ ہائی کورٹ سے منگوانے کی حکم جاری کیا تھا۔ آج سپریم کورٹ نے اس پٹیشن پر وفاقی ٹوبیکو کنٹرول سیل کی درخواست پر حکم جاری کردیا ہے کہ وفاقی وزارت قومی صحت کو قانون سازی کا مکمل استحقاق حاصل ہے۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے فلپس مورس پاکستان کے حق میں جاری کردہ اسٹے آرڈر کو بھی ختم کر دیا ہے اس کے ساتھ ساتھ سندھ ہائی کورٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ 2 ماہ کے اندر اس پٹیشن پر غور کرکے اپنا فیصلہ جاری کریں۔ اب تمباکو ؍ سگریٹ بنانے والی کمپنیاں تمباکو ؍ سگریٹ کی تشہیر نہیں کر سکیں گی۔ مزید برآں یہ کہ وفاقی ٹوبیکو کنٹرل سیل صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر تمباکو نوشی کے قانون پر عمل درآمد کرنے کے لیے پورے ملک میں اس ماہ سے خصوصی مہم کا آغاز کر رہا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر