کینسرویکسین کو نیشنل امیونائزیشن پروگرام میں شامل کیا جائے،ماہرین

کینسرویکسین کو نیشنل امیونائزیشن پروگرام میں شامل کیا جائے،ماہرین

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ماہرین صحت نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین کو نیشنل امیونائزیشن پروگرام میں شامل کرے۔ پاکستان دنیا کے دس سرفہرست ملکوں میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ اموات سروائیکل کینسر کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ پروگرام کے حصہ بنانے سے قیمتی زندگیوں کو بچایا جاسکتا ہے۔یہ بات یونائٹڈ ایگینسٹ سرویکل کینسر (UACC) کے زیر انتظام کراچی پریس کلب میں کینسر کے عالمی دن کے تناظر میں سرویکل کینسر سے آگہی کے بارے میں منعقد کی جانے والی ایک پریس بریفنگ میں بتائی گئی۔پاکستان کا شمار سرویکل کینسر سے متاثرہ دنیا کے پہلے دس ممالک میں ہوتا ہے۔ سرویکل کینسر کی وجہ سے 7311 اموات کے بوجھ کے ساتھ 2013میں سرویکل کینسر گلوبل کرائسس کارڈ کے مطابق پاکستان ،سرویکل کینسر سے متاثرہ 50ممالک میں سے ساتویں درجے پر موجود ہے۔خواتین کے امراض و زچگی کے سینئر ماہر ڈاکٹر شیر شاہ سید نے پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرویکل کینسر دیگر اقسام کے کینسروں سے مختلف ہے؛ یہ ایک وائرس کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس وائرس کو Human Papillomavirus (HPV) کہا جاتا ہے جو عام ہے اور آسانی سے منتقل ہو جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے سرویکل کینسر کی روک تھام کے لئے ویکسین دستیاب ہے تاہم ابھی تک اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے پاکستان میں ہر روز تقریباً 20 خواتین سرویکل کینسر کی وجہ سے موت کے منہ میں جا رہی ہیں۔ یہ خواتینمیں کینسر کی وجہ سے ہونے والے اموات میں دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اس مرض کے درجے میں بلندی سنگین صورت حال کی غمازی ہے۔ ’’ہماری آبادی سے سماجی اور ثقافتی رکاوٹوں کی وجہ سے اس مرض کے بارے میں آگہی نہیں رکھتی۔ لہٰذا، حکومت ، پالیسی سازوں اور والدین کے لئے کڑا وقت آن پہنچا ہے کہ وہ پہلے تو اس مرض کے بارے میں درست اقدامات کے بارے میں آگہی پیدا کریں اور پھر اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہماری عورتیں اس مہلک لیکن قابل علاج مرض کے خلاف اپنی اسکریننگ اور ویکسی نیشن کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی ایک اسٹڈی سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2002 میں ایک لاکھ میں سے سرویکل کینسر کے 9 سے بھی کم تعداد میں واقعات رپورٹ ہوتے تھے جو 2008 میں بڑھ کرا یک لاکھ میں سے 13.6 ہو گئے تھے۔ ان اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک خطرے کی کم سطح سے اعتدال پسند سطح کے جانب گامزن ہوتے ہوئے ایک خطرناک زون میں داخل ہو رہا ہے جہاں نوجوان لڑکیوں کو پہلے کی نسبت اس موذی مرض کے زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’اب ہم 2016میں پہنچ چکے ہیں اور مرض کے اس بڑھتے ہوئے رحجان کو دیکھ رہے ہیں۔ تشویش میں مبتلا ہر فرد اس مرض کے موجودہ خطرے کا تصور کر سکتا ہے۔ ڈیٹا ریسرچ رپورٹس کی کم دستیابی کی وجہ سے مشکلات اور خطرے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘پارک لین اسپتال کے سینئر ماہر بچگان ، ڈاکٹر ایم۔ این لال نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کی جانے والی ایک اسٹیڈی کے مطابق سرویکل کینسر کی روک تھام کے لئے بہتات سے ٹولز اور ٹیکنالوجیز موجودہیں۔ ان کی بڑی حد تک ان لڑکیوں اور عورتوں کو رسائی حاصل نہیں ہے جنہیں ان کی سخت ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ مرض ایک وائرس سے پیدا ہوتا ہے،اس لئے ہر عورت کو اس کا خطرہ لاحق ہے۔ ویکسی نیشن کروانے کا سب سے بہترین وقت ازدواجی زندگی کا آغاز ہے۔ تاہم، 9 سال اور اس کے اوپر عمر کی تمام عورتیں سرویکل کینسر کے خلاف ویکسی نیشن کے فوائد سے فیض یاب ہو سکتی ہیں۔ جلد سے جلد ویکسی نیشن کروانے سے مستقبل کو محفوظ بنانے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’اپنی ثقافت کے احترام میں ہم اپنی بیٹیوں کے جہیز اور شادیوں پر بے پناہ خرچ کرتے ہیں لیکن جب ان کی صحت کا مسئلہ آتا ہے تو ہم اپنی جاہلانہ توضیحات پیش کرنے لگ جاتے ہیں۔ عورتوں کے لئے ان کی شادی پر اس موذی مرض کے خلاف ویکسی نیشن سے بہتر کوئی اور تحفہ نہیں ہو سکتا کیوں کہ سرویکل کینسر سے متاثر ہونے والی عورتوں میں سے 60فی صد سے زائد موت کا شکار ہو جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرویکل کینسر کی کیسز میں اضافے کا رحجان ہے جن کی عموماً آخری سطح پرتشخیص ہوتی ہے جب عورت اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ گزار چکی ہوتی ہے، اوراپنے بچوں اور خاندان کی دیکھ بھال کر رہی ہوتی ہے۔تقریب سے خطاب کرنے والے ڈاکٹروں کے پینل نے اس بات پر زور دیا کہ کینسر کا عالمی دن تقاضہ کرتا ہے کہ ہم ان کینسروں کے خلاف جنگ کریں جو ہماری ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں کے زندگیوں کو نگل رہے ہیں۔ ہمیں چھاتی کے سرطان اور سرویکل کینسر جیسے امراض کو روکنے کے لئے توہمات اور رسم ورواج کے جھمیلوں سے نکلنا ہوگا تاکہ اپنی عورتوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ UACC کا قیام اس مرض کے خلاف جنگ اور اپنی ان عورتوں کو محفوظ بنانے کے لئے عمل میں لایا گیا ہے جن پر ہماری نسلوں کی پرورش کی ذمہ داری عائد ہے۔ ہمیں یہ بالکل نہیں بھولنا چاہیئے کہ اسکریننگ کے ساتھ ساتھ ویکسی نیشن سے سرویکل کینسر کے واقعات میں 94 فی صد کمی لائی جا سکتی ہے اور اسکریننگ کا عمل ویکسی نیشن کے بعد بھی جاری رہناچاہیے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر