، لینڈ ریکارڈانفارمیشن سسٹم ،493 ملین روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع

، لینڈ ریکارڈانفارمیشن سسٹم ،493 ملین روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع

لاہور (عامر بٹ سے) لینڈ ریکارڈانفارمیشن سسٹم کے تحت چلنے والے پنجاب بھر میں کمپیوٹر سروس سنٹر زمیں فردات کی مد 23ملین روپے اور انتقالات کی مد میں 471 ملین روپے جبکہ مجموعی طور پر493 ملین روپے کی رقم حکومتی خزانے میں جمع کروا دی گئی ،ریکوری رپورٹ حکومت پنجاب کو ارسا ل کر دی گئی ،معلومات کے مطابق پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ انتظامیہ کی جانب سے پنجاب بھر میں قائم کمپیوٹر کیاسک سروس سنٹر نے آن لائن موضع جات کی جاری کردہ فردات کی مد میں گزشتہ سال 2015 میں 23ملین روپے جبکہ انتقالات کی مد میں471ملین روپے ریونیو قومی خزانے میں جمع کروا کر بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ افسران اور محکمہ ریونیو کے ماہرین کو بھی دنگ کر دیا،ابتداء میں اس پراجیکٹ پر تنقید اور اس کو ایک ناکام منصوبہ کہنے والے بھی حیرت انگیز طور پر کمپیوٹر سروس سنٹر ز کی کارکردگی کے قائل ہو گئے ہیں ، کمپیوٹر کیاسک سسٹم کو فلاپ اور غیر ضروری قرار دیتے دینے والے ریونیو ماہرین نے سروس سنٹر سے ایک سال میں اکٹھی ہونے والی اس آمدن کو لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ سسٹم کی بڑی کامیابی قرار دیدیا ہے ریونیو ماہرین کا کہنا ہے کہ فردات کی مد میں اتنی بڑی رقم کا اکٹھا ہونا بڑی بات ہے حالانکہ کہ جن موضع جات کی فردات جاری ہو رہی ہیں وہ تمام چھوٹے موضع جات ہیں اور دیہاتی گاؤں ہیں دوسری جانب کمپیوٹر کیاسک سنٹر زکے انچارجز بھی پبلک ڈیلنگ کے ساتھ جاری پریکٹس اور اخلاقی فضا قائم کرنے پر شہریوں کے دل جیت لئے ہیں بلکہ اگلے سال 2016 اس سے بھی زائد ررقم سرکاری خزانے میں جمع کروانے کا عزم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ2016 سال کے دوران سیٹلمنٹ کے تمام موضع جات کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہونے کی وجہ سے اس آمدن میں دو گنا نہیں بلکہ چار گنا اضافہ ہو جائے گا دوسری جانب مینوئل ریکارڈ کو سنبھالنے والے ریونیو سٹا ف نے دعوٰی کیا ہے کہ پی ایم یو انتظامیہ تو صر ف انتقالات اور فردات کے حوالے سے ریونیو اکٹھا کر رہی ہے، جبکہ ہماری جانب سے حکومت کے خزانے میں ناصر ف فرد ،انتقالات بلکہ زرعی انکم ٹیکس کی مد میں بھی کروڑوں روپے کی ریکوری بھی ریونیو سٹاف خزانے میں جمع کر وا رہا ہے اس کے علاوہ مینوئل ریکارڈ کے ذریعے اکٹھا ہونے والا ریونیو اور کمپیوٹرائزیشن سسٹم کے تحت اکٹھے کئے جانے والے ریونیو کا موازنہ کیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا،کارکردگی کھل کر سامنے آجائے گی۔

مزید : کراچی صفحہ آخر