پولیس افسران کو نقد انعام دینے کا معاملہ بھی ذاتی پسند کی بھینٹ چڑھ گیا

پولیس افسران کو نقد انعام دینے کا معاملہ بھی ذاتی پسند کی بھینٹ چڑھ گیا

لا ہور (شعیب بھٹی )خطرناک ملزما ن کو گرفتار کرنے والے پولیس افسران کو (ہیڈ منی ) دینے کا معاملہ بھی ذاتی پسند نا پسند کی بھینٹ چڑھ گیا،حکومت پنجاب اپنے ہی احکامات کی لاج نہ رکھ سکی خطرناک دہشت گرد گرفتار کرنے وا لے پولیس افسروں کو نقد انعام دینے کے معاملے پر دوہری پالیسی اپنا لی گئی ، ذرا ئع کے مطا بق پنجاب حکومت نے ایک افسر کونقد انعام دینے کی منظوری دی لیکن دو کو سرخ جھنڈی دکھا دی۔تفصیلات کیمطابق پنجاب حکومت نے محکمہ خزانہ کی مخالفت کے باوجود 42پولیس افسران و ملازمین کو 4کروڑ53لاکھ روپے کے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دیدی خطرناک ملزما ن کی گرفتاری پر ایس پی سی آئی اے عمر ورک کو 3کروڑ روپے نقد انعام کی منظوری دی گئی تو سابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لا ہور ذوالفقار حمید اورسابق سی سی پی او شفیق احمد کا 60لاکھ روپے کیش انعام روک لیا گیا ہے۔ذرا ئع کا کہنا ہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب نے 30دسمبر 2004کو گزیٹیڈ پولیس افسران کو اعلیٰ کارکردگی پر نقد انعام دینے پر پابندی عائد کی جبکہ نقد انعام صرف گریڈ1تا 16کے پولیس اہلکاروں کو دینے کی پالیسی جاری کی گئی۔پالیسی کے تحت گریڈ17اور اس سے اوپر کے پولیس افسران کو بہتر کارکردگی پر میڈلز تو دئیے جائیں گے لیکن نقد انعام نہیں دیا جائے گا پالیسی کے برعکس ایک پولیس افسر کیلئے قوانین میں رعایت دی گئی۔ واضح ر ہے ایس پی سی آئی اے عمرورک کی سربراہی میں ٹیم نے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث لشکر جھنگوی کا نیٹ ورک پکڑااور اس تاریخی کامیابی پر انہیں اور ان کی ٹیم کیلئے حکومت پنجا ب نے انعامات کا اعلان کیا گیا تھا۔فہرست کے مطابق عمر ورک کو 3کروڑ روپے سابق سی سی پی او لاہور شفیق احمد کو 30لاکھ سابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذوالفقار حمید کو 30لاکھ روپے سمیت دیگر اکتالیس افسر و ملازمین کیلئے نقد انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ ذرا ئع نے د عویٰ کیا ہے کہ پنجا ب حکومت کی جانب سے جاری لیٹر میں سابق ڈی آئی جی ذوالفقار حمید اورسابق سی سی پی اولا ہور شفیق احمد کا انعام روک لیا گیا ہے دیگر کو رقوم جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔

نقد انعام

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر