چار سدہ امن و امان کی صورتحال پر غور وخوص اور لائحہ عمل مرتب کرنے کیلئے اے پی سی کا انعقاد

چار سدہ امن و امان کی صورتحال پر غور وخوص اور لائحہ عمل مرتب کرنے کیلئے اے پی ...

چارسدہ (بیورو رپورٹ) چارسدہ میں امن و امان کی صورتحال پر غور و حوض اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد۔ چارسدہ سے منتخب ہونے والے 2ایم این ایز اور 6ایم پی ایز میں سے صرف ایک ایم این اے اور ایک ایم پی اے نے شرکت کی ۔ عوامی نیشنل پارٹی ، تحریک انصاف ، مزدور کسان پارٹی ، پیپلز پارٹی ، ڈپٹی کمشنر ، ڈی پی او اور دیگر ریاستی اداروں نے عوامی ایشو پر منعقدہ کانفرنس میں شرکت سے گریز کرکے شکوک و شبہات پیدا کئے۔سینکڑوں منتخب بلدیاتی نمائندوں میں سے نصف درجن سے بھی کم نے شرکت کی۔ سیاسی پارٹیوں ، منتخب بلدیاتی امید واروں اور ریاستی اداروں کا مفاد عامہ کے دعوے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے ۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ باچا خان یونیورسٹی کے بعد چارسدہ میں خوف کی فضا ء ذائل کرنے ، تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کو پر امن ماحول فراہم کرنے او ر سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ایک آل پارٹیز کانفرنس سابق ایم پی اے محمد ارشد خان کے حجرہ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے حوالے سے ضلع بھر کے تمام سیاسی پارٹیوں کے ضلعی رہنماؤں ، چارسدہ سے منتخب ہونے والے دو ایم این ایز ، چھ ایم پی ایز ،ضلع کونسل کے اراکین ، تحصیل ناظمین ، ڈپٹی کمشنر چارسدہ ، ڈی پی اوچارسدہ ، محکمہ تعلیم کے افسران ، وائس چانسلر باچا خان یونیورسٹی اور دیگر سٹیک ہولڈر ز کو دعوت دی گئی تھی مگر چند ایک کے سوا تمام منتخب عوامی نمائندوں اور بیورو کریسی نے اہم ترین نوعیت کی اے پی سی میں شرکت کو ضروری نہ سمجھا۔ ضلع ناظم فہد ریاض خان اے پی سی ختم ہونے کے بعد تشریف لا ئے او رکھانا تناول فرمایا ۔ ضلع کونسل میں اپو زیشن لیڈر قاسم علی خان محمد زئی ، ضلعی نائب ناظم حاجی مصور شاہ کے علاوہ چند ایک منتخب بلدیاتی نمائندوں نے شرکت کی جبکہ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او سمیت کسی بھی ریاستی ادار ے کے افسر نے بھی شرکت ضروری نہ سمجھا ۔ آل پارٹیز کانفرنس میں ان کی غیر حاضری پر سخت رد عمل ظاہر کی گئی ۔ کانفر نس سے خطاب کر تے ہوئے رکن قومی اسمبلی مولانا سید گوہر شاہ ، ایم پی اے سلطان محمد خان ، مولانا محمد ہاشم خان ، مصباح اللہ ، میاں ہمایون شاہ کاکا خیل، قاسم علی خان محمد زئی ، حاجی مصو ر شاہ،محمد ریاض خان، یحیٰ جان اور دیگر نے سانحہ باچا خان یونیورسٹی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اسفندیار ولی خان ، آفتاب احمدن خان شیر پاؤ اور مولانا فضل الرحمان پر خود کش حملے اس بات کی نشاندہی کر تا ہے کہ ضلع چارسدہ ایک حساس ضلع بن چکا ہے ۔ پارلیمنٹ ، فوج اور سیاست دان جب تک دہشت گردی کے خلاف حقیقی معنوں میں اکٹھے نہیں ہو تے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتااور نہ یہ جنگ جیت سکتے ہیں۔ خارجہ اور داخلہ پالیسوں کو عوامی مفادات کے تابع کرنا ہو گا۔تمام سیاسی پارٹیوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر متحد ہونا ہو گا۔ سیاسی پارٹیاں پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ضلع چارسدہ کی سیکیورٹی صورتحال اور سانحہ باچا خان یونیورسٹی کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔ با چا خان یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ایڈمن عاصم بنگش نے کہا کہ باچاخان یونیورسٹی خود مختار ادارہ ہے جو صرف گورنر خیبر پختون خواہ کے ماتحت ہے ۔ اے پی ایس سمیت دیگر حملوں کا کسی نے پوچھا نہیں لیکن صرف ہمیں قربانی کا بکرا بنا یا جا رہا ہے ۔ اس موقع پر ایس ایچ ا و عمر ان خان نے کہا کہ سیکیورٹی خدشات اور ناقص سیکیورٹی کے حوالے سے متعدد بار یونیورسٹی انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا جبکہ واقعہ سے ایک روز پہلے بھی ڈی ایس پی چارسدہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا مگر یونیورسٹی حکام نے غفلت اور لا پر واہی کی نئی مثال قائم کی اور دہشت گردوں کو آسان ہدف فراہم کیا ۔ اے پی سی نے مشترکہ اعلامیہ میں کہا کہ سانحہ باچا خان یونیورسٹی کی عدالتی انکوائری ، یونیورسٹی کے قریب انٹر چینج کی تعمیر ، یونیورسٹی کے طلباء کو ایک سال کی ٹیوشن فیس معاف اور شہداء کے لواحقین کو شہدائے اے پی ایس کے برابر پیکج کی قرارداد یں منظور کی گئی ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر