مسئلہ کشمیر حل نہ ہواس تو پاک بھارت ایٹمی جنگ کا خطرہ برقرار رہیگا ،برجیس طاہر

مسئلہ کشمیر حل نہ ہواس تو پاک بھارت ایٹمی جنگ کا خطرہ برقرار رہیگا ،برجیس ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر امور کشمیر چوہدری برجیس طاہر نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیاء میں سلگتی ہوئی چنگاری بن چکا، مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کے خطرات منڈلاتے رہیں گے، وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری آگے بڑھ کر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم رکوائے اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت حق خود ارادیت دلوائے، اگر ایسٹ تیمور اور مشرقی سوڈان میں استصواب رائے ہو سکتا ہے تو کشمیر میں کیوں نہیں،5فروری کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا دن ہے، صبح10بجے پورے ملک میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی، کوہالہ پل پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائے گی، وزیراعظم نواز شریف کشمیر کونسل اور قانون ساز اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے، وزارت خارجہ میں غیر ملکی سفراء کو کشمیر بارے بریفنگ دی جائے گی،5فروری کی رات کشمیری قیادت کے اعزاز میں حکومت کی طرف سے ظہرانہ دیا جائے گا۔ بدھ کو اسلام آباد میں یوم یکجہتی کشمیر کے حکومتی سطح پر پروگرامات کے حوالے سے خصوصی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان چوہدری برجیس طاہر نے کہا کہ 5فروری کا دن پاکستان کے اندر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیلئے بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے، اس دن یہ عزم کیا جاتا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی، اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے ذریعے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 5فروری کو مختلف تقریبات کے ذریعے کشمیریوں کے ساتھ بھرپور یک جہتی کا اظہار کیا جائے گا اور آنے والی نسلوں کو آگاہی فراہم کریں گے، 5فروری کو منانے کا مقصد یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی دنیا اور اقوام متحدہ کو بتائیں کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اتنی پرانی قرارداد پر عملدرآمد نہیں کرا سکے۔جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور میں رائے شماری ہو سکتی ہے تو ہندوستان کے قبضہ میں مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کیوں نہیں کرائی جا رہی، کشمیریوں کے حق خود ارادیت کیلئے پاکستان اپنی بھرپور حمایت جاری رکھے گا، 5فروری 2016ء یک جہتی کشمیر کے دن ملک بھر میں عام تعطیل ہو گی، 5فروری کو صبح 10بجے پورے ملک میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔ صدر پاکستان اور وزیراعظم کے خصوصی پیغامات نشر کئے جائیں گے۔ وزیراعظم جوائنٹ سیشن سے خطاب کریں گے، تمام صوبائی دارالحکومتوں میں بھی یوم کشمیر کے حوالے سے خصوصی تقاریب منعید کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ 1997ء میں بھی نواز شریف نے بھارتی وزیراعظم واجپائی کو لاہور بلا کر مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب پیش رفت شروع کی تھی مگر کارگل کے ذریعے ان کوششوں کو سبوتاژ کیا گیا اور منتخب وزیراعظم کو گرفتار کر کے جلا وطن کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2013 میں نواز شریف نے برسر اقتدار آنے کے بعد پھر تمام تر تنقید کے باوجود امن کوششوں کا آغاز کیا اور تمام تر تنقید کے باوجود مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی، بھارت کے جارحانہ روپے کے باوجود ہماری سفارتی پیش قدمی نے بھارت کو مذاکرات کی بحالی پر آمادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ سمیت ہر جگہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان 3جنگیں ہو چکی ہیں اور اگر مسئلہ حل نہ کرایا گیا تو دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے خطرات منڈلاتے رہیں گے، اب دونوں ملک ایٹمی طاقت ہیں اس لئے مسئلہ کشمیر ایٹمی فلیش پوائنٹ بن چکا ہے، گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے بارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے جی بی کی آئینی حیثیت کے تعین کیلئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی ہے، کمیٹی کا کام جاری ہے، اس کی جو بھی رپورٹ سامنے آئے گی وہ میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچائی جائے گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر