بخشالی بلین ٹری پراجیکٹ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

بخشالی بلین ٹری پراجیکٹ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

بخشالی ( نمائندہ پاکستان ) بیلین ٹری پروجیکٹ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف، نرسری فارم کے کاروبار سے وابستہ افراد کی مشترکہ پریس کانفرنس، بااثر افراد کو لاکھوں پودے جاری، ایک ہی خاندان کے کئی افراد کے ناموں پر نرسریاں جاری، پودوں کی تقسیم میں محکمہ جنگلات کے ملازمین کا امتیازی سلوک، وزیراعلی اور عمران خان سے نوٹس لینے کا مطالبہ، احتجاج کی دھمکی، تفصیلات کے مطابق بخشالی کے علاقے گلی باغ،موسیٰ خٹ و مضافات سے تعلق رکھنے والے نرسری فارم کے کاروبار سے وابستہ افراد نے بخشالی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے بے روزگار نوجوانوں اور ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانے کیلئے شروع کیا گیا منصوبہ اقرباء پروری اور بااثر افراد کی جاگیر بن چکا ہے، اس منصوبے کے تحت ایک یونٹ نرسری میں میں 25000پودے دیئے جاسکتے ہیں لیکن چند بااثر افراد نے محکمہ جنگلات کے عملے کی ملی بھگت سے ایک ہی خاندان کے کئی افراد کے نام لاکھوں پودے جاری کرائے جن کی پیمنٹ بھی ایک ہی شخص وصول کرتا ہے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ مردان کے بعد اب ضلع بونیر میں بھی یہی کام جاری ہے اور ضلع مردان کے لوگ بونیر میں وہاں کے عوام کا شناختی کارڈ استعمال کرکے پودے لے رہے ہیں، پریس کانفرنس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ جب ایک عام شہری نرسری حاصل کرنے کے لئے متعلقہ دفتر جاتا ہے تو اسے مختلف طریقوں سے ٹال دیا جاتا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ فارم میں لکھا ہے کہ یہ جو پودے نرسری کی شکل میں لگا رہے ہیں مستقبل میں آپ یہی پودے جنگل کی صورت میں فی کنال 54پودے لگانے ہوں گے، جس پر مجسٹریٹ کے دستخط بھی ہوں گے، تو غریب آدمی کے پاس کتنی زمین ہوگی اور دوسروں جانب ایک ہی شخص کو لاکھوں کی تعداد میں پودے /نرسری حاصل کرلیتا ہے۔انہوں نے وزیراعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور عمران خان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس منصوبے کو اقرباء پروری اور سرمایہ داروں کی اجارہ داری سے بچاتے ہوئے ان بڑے مگرمچھوں کا ساتھ احتساب کیا جائے، اس موقع پر تحریک انصاف کے مقامی رہنما سعید خان کا کہنا تھا کہ میں اس بات کو خوش ہوں کہ اس علاقے کے عوام نے اپنے حق کے لئے اکھٹے ہوئے اور جس طرح عمران خان کہتے ہیں کہ اپنا حق مانگو اس طرح آپ کو اپنا حق ملے گا اور آپ لوگوں کی آواز بنی گالا تک پہنچا دینگے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر