سنہری پستول کا معمہ , قذافی کا پسندیدہ کھلونا آج کل کس کے پاس ہے اور اس تک کیسے پہنچا؟ انتہائی حیران کن انکشاف مںظر عام پر

سنہری پستول کا معمہ , قذافی کا پسندیدہ کھلونا آج کل کس کے پاس ہے اور اس تک ...
سنہری پستول کا معمہ , قذافی کا پسندیدہ کھلونا آج کل کس کے پاس ہے اور اس تک کیسے پہنچا؟ انتہائی حیران کن انکشاف مںظر عام پر

  

لندن (ویب ڈیسک) جب لیبیا میں باغیوں نے معمر قذافی کی موت کا جشن منایا تو ان کے سونے کا پانی چڑھی پستول فتح کی علامت کے طورپر سامنے آئی۔ و ہ ان سب کے ہاتھوں میں گھوم رہی تھی۔ بی بی سی نے اس حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جن جنگجوﺅں نے کرنل قذافی کو پکڑنے کے بعد انھیں ہلاک کیا تھا ایک تصویر میں ان سب کے ہاتھوں میں گھومتی سنہرے رنگ کی پستول واضح طور پر دکھائی گئی تھی۔ کرنل قذافی کی یہ ذاتی پستول باغیوں کی فتح اور لیبیا میں اقتدار کی منتقلی کی ایک علامت بن گئی۔ پستول کی تلاش میں صحافی گبر یئل آخر کار محمد البیبی نامی جنگجو سے جا ملے جس کا کہنا تھا کہ اسے یہ پستول ایک جگہ گری ہوئی ملی جہاں قریب ہی کرنل قذافی کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ اس وقت محمد البیبی کے پاس وہ پستول دیکھ کر دیگر باغیوں کو یہ لگا کہ اس نے ہی کرنل قذافی کو ہلاک کیا ہے، وہ اس انقلاب کا حادثاتی ہیروبن گیا ۔ ’البیبی نے بتایا کہ وہ پستول اب بھی اس کے پاس ہے ۔ یہ ایک نائن ایم ایم براﺅزنگ دستی پستول ہے جس پر سونے سے کام کیا گیا ہے اور اس پر پھول کندہ ہیں۔ محمد البیبی کے مطابق قذافی کے وفاداروں کی جانب سے اسے قتل کی دھمکیاں ملتی ہیں ۔ محمد البیبی کا کہنا تھا ‘ مہربانی کرکے دنیا کو بتائیں کہ جس نے قذافی کو مارا وہ میں نیں تھا۔

مزید : بین الاقوامی