تمام اشارئیے مثبت ،مجموعی قومی پیداوار 5 فیصد سے اوپر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، پی آئی اے معاملہ اچھالنے میں سیاسی ہاتھ کارفرما ہے: اسحاق ڈار

تمام اشارئیے مثبت ،مجموعی قومی پیداوار 5 فیصد سے اوپر لے جانے کی کوشش کر رہے ...
تمام اشارئیے مثبت ،مجموعی قومی پیداوار 5 فیصد سے اوپر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، پی آئی اے معاملہ اچھالنے میں سیاسی ہاتھ کارفرما ہے: اسحاق ڈار

  

دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مجموعی قومی پیداوار 5 فیصد سے اوپر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں ، اقتصادی راہداری منصوبے سے ملک کی معیشت میں اضافہ ہو گا، تمام معاشی اشارئیے مثبت اور آئی ایم ایف حکومتی اقدامات سے مطمئن ہے، افراط زر کی شرح گزشتہ 12 برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ ایل این جی درآمد کیلئے شفاف طریقہ کار پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔ پی آئی اے کے معاملے کو اچھالنے میں سیاسی ہاتھ کارفرما ہے۔

تفصیلات کے مطابق دبئی میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان رواں برس 4.5 فیصد کی شرح نمو کا ہدف حاصل کر لے گا۔ ہمارا معاشی سیکٹر مسلسل پروفارم کر رہا ہے اور پاکستان کا ترقیاتی بجٹ دگنا کر دیا گیا ہے، حکومتی اقدامات کے باعث وقت سے پہلے معاشی اہداف حاصل کر رہے ہیں اور آئی ایم ایف بھی حکومتی اقدامات سے مطمئن ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت مالیاتی نظم و نسق پر سختی سے عمل کرتے ہوئے مالیاتی شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے جس کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، گزشتہ تین سال میں مالیاتی خسارہ نصف کر دیا گیا جبکہ افراط زر کی شرح 12 سال کی کم ترین سطح 1.2 پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، حال ہی میں تاجروں کیلئے ٹیکس ایمنسٹی سکیم متعارف کرائی گئی ہے اور امید ہے کہ ٹیکس اہداف کے حصول کیلئے ایف بی آر مزید بہتر پرفارم کرے گا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ خطے میں چیلنجز کے باوجود پاکستانی معیشت ترقی کر رہی ہے۔ توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے دن رات کام جاری ہے اور اس وقت صنعتوں کیلئے لوڈشیڈنگ صفر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کام اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے تاہم اس وقت صنعتوں کیلئے لوڈشیڈنگ صفر ہے اور 2018ءتک ملک میں مزید 10 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبے میں بہتری کیلئے اصلاحات کرنے کیساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے بھی کام کر رہے ہیں اور حکومت کے ہائر ایجوکیشن پروگرام سے ہزاروں لوگ مستفید ہو رہے ہیں ۔ حکومت نے پسے ہوئے طبقے اور سماجی ترقی کیلئے بھی زیادہ فنڈز مختص کئے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ پی آئی اے ملازمین کے احتجاج میں سیاسی لوگ کارفرما ہیں، سب پر واضح کیا تھا کہ کسی بھی ملازم کو برطرف نہیں کیا جائے گا لیکن لوگوں کو نوکریاں چھن جانے کے خوف میں مبتلا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ناخوشگوار واقعے کی تحقیقات کیلئے حکومت نے تفتیش کیلئے کمیٹی بنا دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو ایک کارپوریٹ ادارے میں بدلنا اچھا اقدام تھا کیونکہ پی آئی اے کئی سالوں سے اربوں روپے کا نقصان کر رہی ہے اور اس کے خسارے میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس لئے خسارے میں چلنے والے اداروں کو بہتری کی طرف لے جا رہے ہیں۔ دوسرے ادارے بھی جہاں قوم کے اربوں روپے ضائع ہو رہے ہیں، ہمارا فرض ہے کہ اسے بچائیںاور انہیں ترقی کی طرف لے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ معلوم ہے کہ بغیر میرٹ کے بھرتی ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن ملازمین کو گھر بھیجنا ہمارا مقصد نہیں، صرف بزنس کو بڑھانا چاہتے ہیں جبکہ ملازمین پر یہ واضح کیا تھا کہ کسی کو فارغ نہیں کیا جائے گا لیکن کچھ چیزوں کو غلط رنگ دے کر معاملے کو ہوا دی گئی۔

مزید : قومی /اہم خبریں