گاڑیوں اور موٹرسائیکل کی غیر نمونہ نمبر پلیٹ استعمال قابل دست اندازی جرم بنانے کا فیصلہ

گاڑیوں اور موٹرسائیکل کی غیر نمونہ نمبر پلیٹ استعمال قابل دست اندازی جرم ...
گاڑیوں اور موٹرسائیکل کی غیر نمونہ نمبر پلیٹ استعمال قابل دست اندازی جرم بنانے کا فیصلہ

  

لاہور (ویب ڈیسک) محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب نے امن و امان کی صورتحال اور ٹریفک نظام کی بہتری کیلئے غیر نمونہ اور غیر کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹ کے استعمال اور تیاری کو مجرمانہ اقدام قرار دے کر اسے قابل دست اندازی پولیس جرم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مجرم کو گاڑی یا بس کی صورت میں 5 ہزار جبکہ موٹرسائیکل کی صورت میں 1 ہزار روپے جرمانے کے علاوہ زیادہ سے زیادہ 2 برس تک قید بامشقت کی سزا بھی دی جاسکے گی۔ محکمہ ایکسائز موٹروہیکل آرڈیننس 1965 ءمیں ترمیم کیلئے سمری صوبائی کابینہ کو ارسال کرے گا۔ اخبار روزنامہ ایکسپریس کے مطابق اس وقت پنجاب بھر میں محکمہ ایکسائز کے پاس 1 کوڑ15 لاکھ گاڑیاں ، موٹر سائیکل اور دیگر ٹرانسپورٹ رجسٹرڈ ہے جس میں سے تقریباً 90 لاکھ سے زائد موٹر وہیکل قابل استعمال حالت میں سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔ محکمہ نے 2006 ءسے جدید سکیورٹی فیچرز کی حامل نمبر پلیٹ کی تیاری شروع کر رکھی ہے۔ محکمہ ایکسائز پنجاب قانون نافذ کرنےو الے اداروں اور آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر اس منصوبے پر بھی کام کر رہا ہے کہ مستقبل قریب میں شہروں کے داخلی و خارجی راستوں کے علاوہ اہم مقامات پر ایسے سکینر نصب کئے جائیں گے جو کہ کمپیوٹر ائزڈ نمبر پلیٹ کو سکین کر کے چند سیکنڈ میں اس سے متعلقہ تمام کوائف ظاہر کر دے جبکہ یہ تجویز بھی طویل عرصہ سے زیر غور ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرح بڑے شہروں کے اہم چوراہوں کے ٹریفک سگنلز پر بھی ایسا نظام نصب کیا جائے کہ اگر کوئی سگنل ٹورتا ہے تو اس کی نمبر پلیٹ سکینگ سے اس کی نشاندہی ہو سکے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے طویل عرصہ سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ دہشت گردی اور دیگر جرائم میں جعلی نمبر پلیٹ استعمال کی جاتی ہے جبکہ فینسی اور غیر کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹوں کی وجہ سے کسی حادثہ ، ڈکیتی ، چوری یا دیگر جرم کی صورت میں گاڑی یا موٹر سائیکل کا رجسٹریشن نمبر نوٹ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ موجودہ قوانین کے تحت ”کریمنل ایکٹ “نہیں ہے اور صرف چند سو روپے کا چالان کیا جاتا ہے۔ ان تمام عوامل کے سبب سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب ڈاکٹر احمد بلال اور ڈائریکٹر جنرل اکرم اشرف گوندل نے موٹروہیکل آرڈیننس 1965 میں ترمیم کی سفارش حکومت کو ارسال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایکسائز حکام کی تیار تجاویز کے مطابق غیر نمونہ اور غیر کمپیوٹر ائزڈنمبر پلیٹ کی تیاری اور استعمال کو فوجداری جرم قرار دیا جائے گا جس کی باضابطہ ایف آئی آر درج ہوا کرے گی اور ملزم کو دوسال تک کی قید بامشقت کی سزادی جاسکے گی جبکہ گاڑی یا کمرشل ٹرانسپورٹ کی نمبر پلیٹ کی صورت میں مجرم کو پانچ ہزار روپے اور موٹرسائیکل سوار کو ایک ہزار روپے جرمانہ کی سزا ہو گی ۔ جرمانہ اور قید کی سزا بیک وقت بھی ہو سکے گی۔ ترمیم کے بعد محکمہ ایکسائز عوام کو کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹ کے حصول کیلئے مخصوص مہلت دے گا جس کی تشہیر میڈیا میں کی جائے گی۔

مزید : لاہور