دنیا کا وہ ’سکول‘ جہاں ٹیچرز برہنہ طالبعلموں کو انگریزی پڑھاتی ہیں، وجہ بھی ایسی کہ جان کر انسان چکراجائے

دنیا کا وہ ’سکول‘ جہاں ٹیچرز برہنہ طالبعلموں کو انگریزی پڑھاتی ہیں، وجہ بھی ...
دنیا کا وہ ’سکول‘ جہاں ٹیچرز برہنہ طالبعلموں کو انگریزی پڑھاتی ہیں، وجہ بھی ایسی کہ جان کر انسان چکراجائے

  

کراکس (نیوز ڈیسک) انگریزی زبان کی افادیت کے پیش نظر دنیا بھر کے ممالک اسے سیکھنے پر مجبور ہیں۔ جن ممالک کی اپنی زبان انگریزی نہیں ہے وہ اس غیر زبان کو سیکھنے کے لئے طرح طرح کے طریقے اختیار کرتے ہیں، لیکن آج تک کسی کے دماغ میں یہ خیال نہیں آیا تھا کہ برہنہ اساتذہ اس زبان کو سکھانے کے لئے کارگر طریقہ ہوسکتے ہیں۔

یہ شرمناک آئیڈیا پہلی دفعہ وینز ویلا کے ایک برہنہ نیوز چینل کو آیا ہے، جنہوں نے انگریزی زبان سکھانے کے لئے خوبرو برہنہ خواتین کی مدد حاصل کرلی ہے۔ یہ خواتین مکمل طور پر بے لباس ہوکر طلبا و طالبات کو انگریزی زبان کی تعلیم دیتی ہیں اور یہ ویڈیوز آن لائن کورس کے طور پر بھی فراہم کی جارہی ہیں۔

مزید پڑھیں: وہ ایک کام جو ازدواجی فرائض کی ادائیگی سے قبل ہرگز نہیں کرنا چاہیے، ڈاکٹروں نے خبردار کردیا

نیوز چینل ڈیسنو ڈانڈو لاس نوٹی سیاس (عریاں خبریں) پہلے ہی اپنی بے حیائی کی وجہ سے ہدف تنقید بنا ہوا ہے۔ اس چینل پر نیوز کاسٹرز برہنہ ہو کر خبریں پڑھتی ہیں، اور اسی چینل نے اب برہنہ خواتین کے ذریعے انگریزی زبان کی تعلیم کا کورس متعارف کروادیا ہے۔ ”نیکڈ لینگوئج“ کے نام سے شروع کئے گئے پروگرام کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ برہنگی کا مقصد فحاشی پھیلانا نہیں بلکہ طلبا کی 100 فیصد توجہ ٹیچر کی طرف مائل کرنا ہے، تاکہ تعلیم کے دوران ان کا دھیان ادھر اُدھر نہ بھٹکے اور وہ اپنی مکمل توجہ اپنی ٹیچر کی طرف رکھیں۔

اگرچہ اس شرمناک طرز تعلیم پر سخت تنقید کی جارہی ہے لیکن اسے شروع کرنے والا چینل بضد ہے کہ یہ طریقہ انگریزی زبان کی تعلیم میں ایک انقلاب برپا کردے گا۔ چینل کا یہ بھی کہنا ہے کہ کامیابی سے کورس مکمل کرنے والوں کو سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا جو کہ دنیا کے ہر ملک میں تسلیم شدہ ہوگا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس