تربت ،ہوشاب M8سیکشن کا افتتاح ،قوموں کی تعمیر کھیل تماشا نہیں ،حقیقی انقلاب لائیں گے:نواز شریف

تربت ،ہوشاب M8سیکشن کا افتتاح ،قوموں کی تعمیر کھیل تماشا نہیں ،حقیقی انقلاب ...

ہوشاب (اے پی پی) وزیراعظم محمد نواز شریف نے بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گوادر ۔ تربت ۔ ہوشاب شاہراہ (M-8) کی تعمیر سے ایک خواب شرمندہ تعبیر ہوا ہے، شاہرات کے منصوبوں سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کو فائدہ ہوگا، دنیا کا مستقبل تقریباً تین ارب کی آبادی کے حامل اس خطے سے منسلک ہے، پاکستان اس حوالے سے جتنی زیادہ سرمایہ کاری کرے گا اتنے زیادہ ثمرات حاصل ہوں گے۔ وسطی ایشیائی ریاستیں گوادر کے ذریعے تجارت کی خواہش مند ہیں، ٹھوس کام کرنے کے لئے نعرے نہیں بلکہ وژن اور حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے، قوموں کی تعمیر کوئی کھیل تماشا نہیں، حقیقی انقلاب لائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو ہوشاب ۔ تربت ۔ گوادر شاہراہ (M-8) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 193 کلو میٹر طویل ہوشاب ۔ تربت ۔ گوادر شاہراہ پر ساڑھے 13 ارب روپے کی لاگت آئی ہے اور اسے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے تعمیر کیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی، وزیراعلیٰ بلوچستان سردار ثناء اﷲ زہری، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف، وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ، قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، سینیٹر میر حاصل خان بزنجو،چیئرمین این ایچ اے شاہد اشرف تارڑ،سینیٹر آغا شہباز ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ اس اہم شاہراہ کی تعمیر کو قوم بالخصوص بلوچستان کے عوام کے لئے ایک عظیم تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شاہراہ گوادر سے کے پی کے تک اور پاکستان کے مختلف حصوں سے منسلک ہوگی۔ یہ نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی ملائے گی اور پاکستان میں سرمایہ کاری لانے کا ذریعہ بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک محیط انتہائی اہمیت کے حامل اس منصوبے سے لوگوں کو سفر کے دورانیہ میں کمی کی سہولت حاصل ہوگی۔ کسی زمانے میں یہ ایک خواب تھا جو آج اﷲ کے فضل و کرم سے تعبیر کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی وقت پر صرف کاغذوں میں تھا اس پر صرف بات ہوتی تھی، کسی نے اس پر عمل کرنے کے بارے میں قدم نہیں اٹھایا لیکن اﷲ کے فضل و کرم سے یہ پہلی حکومت ہے جس نے ایف ڈبلیو او اور فوج کی مدد سے یہ منصوبہ مکمل کیا جو پاکستان کی خوشحالی کے لئے بہت بڑا قدم ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے بلوچستان کی ترقی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں آج برابری کی سطح پر رقوم مختص ہو رہی ہیں، ترقیاتی کام بھی ہو رہے ہیں اور اس سڑک سے آگے کئی سڑکیں بنیں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دیگر شعبوں میں بھی ترقیاتی کام جاری ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے، ایسے کام صرف دعووں سے نہیں ہوتے، ان کے لئے وژن اور حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے اور پاکستان کو حقیقی انقلاب کی ضرورت ہے، یہ کوئی کھیل تماشا نہیں ہے، قوم کی تعمیر کھیل تماشا نہیں ہوتی یہ عمل غور و فکر اور یکسوئی کا متقاضی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 193 کلو میٹر طویل گوادر ۔ تربت ۔ ہوشاب بنائی گئی ہے جس کی لمبائی 193 کلو میٹر ہے۔ وزیراعظم نے بلوچستان میں دیگر شاہراتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہوشاب پنجگور نارتھ بسیمہ سوراب اس کی لمبائی 450 کلو میٹر ہے اس پر 23 ارب روپے لاگت آئے گی جبکہ 151 کلو میٹر طویل خصدار ۔ شہداد کوٹ منصوبے پر 8 ارب روپے خرچ ہوں گے اور یہ دونوں منصوبے اسی سال مکمل ہوں گے۔ قلعہ سیف اﷲ ۔ لورہ لائی منصوبہ 128 کلو میٹر طویل ہے اور اس پر ساڑھے 17 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ ژوب ۔ مغل کوٹ 9 ارب روپے کا منصوبہ ہے81 کلو میٹر کا منصوبہ ہے، اس پر کام شروع ہو گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ شاہرات کی تعمیر کے دیگر کئی منصوبے بھی ہیں جو جلد شروع کئے جائیں گے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے بالخصوص تین منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ ۔ خضدار ہائی وے کی دو رویہ کیا جائے گا، بسیمہ ۔ خضدار ۔ شہداد کوٹ منصوبے کو شروع کیا جائے گا اور بیلا ۔ آواران ۔ ہوشاب ہائی وے بھی شروع کی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پہلی مرتبہ سڑکوں کا اتنا بڑا جال پھیلایا جا رہا ہے، اس میں سے کئی سڑکیں چار رویہ ہیں جن کو انشاء اﷲ وقت آنے پر ہم چھ رویہ کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان شاہراتی منصوبوں سے بلوچستان کی صورتحال بالکل تبدیل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ذریعے نہ صرف پاکستان کے دیگر حصوں کو ملانا چاہتے ہیں بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی منسلک کرنا چاہتے ہیں۔ اکثر وسطی ایشیائی ممالک گوادر کے ذریعے تجارت کے خواہشمند ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایف ڈبلیو او پشاور سے جلال آباد تک سڑک بنا رہا ہے، جب یہ مکمل ہو جائے گی تو افغانستان اور پاکستان مل کر کابل تک بھی سڑک بنائیں گے اس کا نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے خطے کو فائدہ ہوگا۔ اس خطے میں دنیا کی تین ارب کے قریب آبادی رہتی ہے، دنیا کا مستقبل اس خطے سے منسلک ہے، اس لئے ہم یہاں جتنی بھی سرمایہ کاری کریں گے اتنا ہی فائدہ ملے گا۔ وزیراعظم نے بجلی کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں توانائی کی قلت کو دور کرنے کے لئے بجلی کے منصوبے تیزی سے مکمل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ساہیوال کول پاور پراجیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز انہوں نے اس منصوبے پر پیشرفت کا جائزہ لیا، اس سے پہلے پورٹ قاسم کے منصوبے کا جائزہ لیا تھا، ساہیوال میں چینی ماہرین نے مجھے بتایا کہ اتنی تیزی کے ساتھ چین میں منصوبے نہیں بنائے گئے جتنے پاکستان میں بن رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے منصوبے کی رفتار دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کو ستر سال ہونے کو ہیں، آج تک سندھ میں کوئلے کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا، یہ پہلا دور ہے کہ ہم اس کوئلے کی کان سے کوئلہ حاصل کریں گے جس سے بجلی پیدا کریں گے، کوئلہ وہاں سے فراوانی کے ساتھ آئے گا، کوئلہ سستا بھی ہوگا اور ہمارا مقصد نہ صرف بجلی پیدا کرنا بلکہ سستی بجلی پیدا کرنا ہے جو ہم کاشتکاروں، گھریلو صارفین اور صنعتوں کو دیں گے۔ پاکستان اﷲ کے فضل و کرم سے 2018ء تک بجلی کی کمی کو بھی پورا کر لے گا، پاکستان انشاء اﷲ سستی بجلی بھی بنائے گا اور ہم دریائے سندھ پر بڑے بڑے منصوبے بھی بنانا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے دیامر بھاشا، بونجی اور داسو کے منصوبوں کا ذکر کیا جن سے ہزاروں میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی۔ وزیراعظم نے ملک کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی اشاریئے مثبت سمت میں گامزن ہیں، پاکستان کے بارے میں، میں یہ نہیں کہہ رہا بلکہ دنیا کے ادارے اس کا اعتراف کر رہے ہیں۔ بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ اس خطے میں بلوچستان میں ترقی کا سفر تیز ہے، گوادر پاکستان کا بہت اہمیت کا حامل شہر بنے گا اور وہاں پر ترقیاتی کام بھی ہوں گے پاکستان کا سب سے خوبصورت اور جدید ترین ایئر پورٹ بھی گوادر میں بنایا جا رہا ہے۔ گوادر میں یونیورسٹیاں، اسکول، کالج اور ہسپتال بھی بنائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کراچی سے لاہور موٹر وے پر بھی کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے اندر معدنیات کے خزانے ہیں، ماضی میں ان سے استفادہ نہیں کیا گیا، ہم ان منصوبوں کو نیک نیتی سے دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں خوشحالی آئے گی اور یہ بلوچستان اس سے بہت فیض یاب ہوگا۔ وزیراعظم نے اس ضمن میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اس ضمن میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ لاہور ۔ اسلام آباد موٹر وے 1998ء میں بنی تھی اور 2013ء تک اس کی مرمت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، آج ہماری حکومت نے اس پر دوبارہ توجہ دی اور یہ منصوبہ بھی ایف ڈبلیو او کر رہا ہے اور مجھے خوشی ہے کہ یہ ٹیکنالوجیز ایف ڈبلیو او فراہم کر رہا ہے پہلے ہم باہر سے کر رہے تھے۔ اس سڑک کو ایف ڈبلیو او کے علاوہ کوئی نہیں بنا سکتا تھا، پرائیویٹ سیکٹر بھی آگے آئے اور ایف ڈبلیو او کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ پاکستان کی ترقی کا کام تیزی سے آگے بڑھے، غربت کا خاتمہ ہو پاکستان کے اندر ہم سب ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔ وزیراعظم نے M-8 ہوشاب ۔ تربت ۔ گوادر شاہراہ کے منصوبے کے حوالے سے ڈی جی ایف ڈبلیو او اور ان کی ٹیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ جس جوانمردی کے ساتھ انہوں نے اور ان کی ٹیم نے یہ کام کیا ہے اور جن مشکل حالات میں اس سڑک کو مکمل کیا ہے، میں دل کی گہرائیوں سے ان کو اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ میں چیف آف آرمی اسٹاف کو بھی مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اس کام میں خصوصی دلچسپی لی اور اس کو مکمل کرانے میں ایک بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سیکورٹی کی صورتحال پچھلے دنوں میں جب سے اس سڑک کی تعمیر شروع ہوئی ہے انتہائی ناگفتہ بہ تھی اور یہاں پر ہمارے نوجوانوں نے قربانیاں دیں اور شہادتیں دیں اور ایف ڈبلیو او کے بھی جوانوں نے اور سول انجینئرز نے بھی اس میں قربانیاں دی ہیں میں ان تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے قربانیاں دیں اور ان خاندانوں سے بھرپور ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں جن کے پیارے اس میں شہید ہوئے۔ قبل ازیں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل محمد افضل نے ہوشاب ۔ تربت ۔ گوادر شاہراہ کے نمایاں خدوخال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس اہم شاہراہ کو مختلف مراحل میں مکمل کیا گیا ہے۔ ہوشاب ۔ تربت ۔ گوادر شاہراہ پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ ہے جسے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے تعمیر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شاہراہ روشن اور خوشحال بلوچستان کے وژن کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شاہراہ کے ذریعے گوادر کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے کے ساتھ ساتھ گوادر کا افغانستان اور چین سے رابطہ بھی قائم ہو جائے گا۔ یہ شاہراہ 19 ماہ کی ریکارڈ مدت میں تعمیر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود یہ منصوبہ تیزی سے مکمل کیا گیا۔ اس کی تعمیر کے دوران دہشت گردی کے 207حملے ہوئے اور عملے کے 26 جوان شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی پسماندگی صیغہ ماضی بن چکی ہے، اس اہم شاہراہ کا افتتاح صوبے اور اس کے عوام کے لئے نہایت خوش آئند ثابت ہوگا۔ اس سے پاکستان بالخصوص صوبے کی ترقی کے نئے راستے کھلیں گے، معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور غربت میں کمی آئے گی۔ وزیراعظم نے ہوشاب ۔ تربت ۔ گوادر شاہراہ کا باضابطہ افتتاح کیا اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ہمراہ اس شاہراہ پر سفر بھی کیا۔

مزید : صفحہ اول