آپ دفن کہاں ہوں گے

آپ دفن کہاں ہوں گے
آپ دفن کہاں ہوں گے

  

ملک کے اندر آبادی کے بڑھنے کے ساتھ جہاں انسانی ضروریات زندگی کے مسائل میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے وہاں میت کے تجہیز اور تدفین کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ مرنے والے کی رْوح اس دنیا فانی سے اپنے اعمال کے ساتھ اللہ ربّ العزت کے حضور چلی جاتی ہے۔ مرنے کے بعد لواحقین میت کوقبرستان میں اس کی آخری آرام گاہ میں منوں مٹی کے نیچے دفن کر دیتے ہیں، بظاہر یہ بہت ہی آسان مرحلہ ہے لیکن لواحقین کواس میں بہت سے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔

میت کا خاندان جو بہت ہی اپنے عزیز واقارب کی وفات پر دکھ و مصیبت اور کرب میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے دل پر پتھر رکھ کر میت کے سفر آخرت کی تیاری میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ میت کے جنازہ کا اعلان ، مہمانوں کوبیٹھانے کے لئے شامیانے ، کرسیوں کا انتظام ، میت کے غسل کا اہتمام ، مسجد سے چارپائی کا حصول، مولوی حضرات سے نماز جنازہ کا وقت اور معمولات،نماز جنازہ کے لئے جنازہ گاہ کا اہتمام ، قبرستان کا انتخاب، قبرستان میں قبر کی تیاری، جنازہ گاہ پہنچنے کے لئے ٹرانسپورٹ کا انتظام اور آخر میں تدفین کے بعد مہمانوں و عزیز اقارب کو کھانا کھلانا، یہ وہ مسائل ہیں جن کا آئے روز عام آدمی کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔اور اس میں ہم سب شامل ہیں۔کسی روز ہمارے لئے بھی اپنوں کو اس ’’مشقت ‘‘سے گزرنا ہوگا۔

اسلامی معاشرے کے اندر سوسائٹی کے تمام افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ بڑھ چڑھ کر ایسی رسومات میں فرض کفایہ سمجھ کر اپنا حصہ ڈالیں ، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری روایات کے ساتھ اخلاقیات میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ شہریوں کے ساتھ عزیز و اقارب بھی روپیہ ، پیسہ ، عزت و شہرت کی بناء پر ایسی تقریبات میں شرکت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ایک غریب متوسط فیملی کے لئے تجہیز و تدفین کے لئے اچھی خاصی رقم درکار ہوتی ہے جس کے بغیر تمام مراحل کا حل نکلنا ممکن نہیں ہے۔ اسلام سادگی کا درس دیتا ہے ، اسلامی طرز عمل میں تمام رسم و رواج کی ممانعت کی گئی ہے۔

ملک کے بڑے شہروں میں اکثر قبرستانوں کی حالت زار دیکھ کر انسانیت کے روٹھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔حکومتی اور انتظامیہ کی کوتاہی و غفلت کے باعث قبرستانوں کے اندر بہت سے مافیاو گروہ کا قبضہ ہے۔ غریب کا کوئی ولی وارث نہیں ہے ، غریب کو قبرستان میں قبر کے حصول کے لئے پیسہ کے ساتھ سفارش اور اپروچ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اکثر قبرستان کی انتظامیہ اور گوور کن ملے ہوتے ہیں اوررشوت اور نا جائز مال بنانے کے لئے عوام کو بتاتے ہیں کہ قبرستان میں گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ آپ کسی دوسرے ایریا اور علاقے کا رخ کریں۔ کئی علاقوں کے اندر لینڈ مافیا نے قبرستانوں کو بھی نہیں چھوڑا جو لواحقین سے قبر کے مہنگے دام وصول کرتے ہیں۔

ملک کے اکثر قبرستانوں میں انتظامیہ نے ٹھیکیداری نظام رائج کر رکھا ہے اور یہ ان کی نا جائز کمائی کا بڑا ذریعہ ہے ،سرکاری نرخ ادا کرنے کے باوجود قبر کا حصول ناممکن ہے۔ہمارے سامنے آئے روز کئی رپورٹ اور واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں ، رشوت اور کرپشن کا اصول دیگر محکموں کی طرح یہاں بھی لاگو ہے، پیسہ، سیاسی وابستگی اور اپروچ کے زور پر قبر ستان میں چاردیواری کے ذریعے اپنے خاندان کے لئے جگہ پر قبضہ کر لیا جاتا ہے۔ پرانی قبروں اور ایسی قبریں جن کے لواحقین قبرستان نہیں آتے ان کو ختم کرکے نئی قبریں بنا دی جاتی ہیں۔ قبرستان سے مردوں کی ہڈیوں کے ساتھ ساتھ کفن بیچنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ کئی واقعات میں گورکن قبر سے مرْدے کو نکال کر میڈیکل کالجز کی انتظامیہ کو مہنگے داموں فروخت کرتے پکڑے گئے ہیں ۔ قبرستان میں منشیات فروشوں کا اثر روسواخ بھی دیکھنے میں اکثر آتا ہے۔ اکثر جگہوں پر انتظامیہ کی سرپرستی میں یہ مکروہ دھندہ ہو رہا ہے۔ قبرستانوں میں پالتوں اور جنگلی جانوروں کی بھرمار پائی ہے ،مرغیاں، بکریاں ، بلیوں کے ساتھ کتوں کا ٹھکانہ دیکھنے میں آیا ہے۔ آبادی کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جہاں شہروں میں مکانوں، کالونیوں اور ٹاؤنز میں اضافہ دیکھنے میں آیا وہاں قبرستانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ یہ تمام مسائل کا جنم محکمہ اوقاف اور بلدیات کی ہٹ دھرمی ، غفلت، لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے جو عوام سے ٹیکس لینے کے باوجود سہولیات فراہم نہیں کرپاتی۔

ان حالات میں خادم پنجاب نے ماڈل قبرستان بنانے کے لئے ایک اتھارٹی قائم کی ہے جو ابھی نوزائیدہ ہے اور کئی مسائل میں دفن ہوئے پڑی ہے۔قبرستانوں کی زمینیں وا گزار کرانا اور قبرستانوں سے مافیاؤں کا خاتمہ کئے بغیر ماڈل قبرستان بنانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے لیکن یہ ناممکن نہیں ہے۔کل کو آپ نے اور ہم سب نے ان قبرستانوں میں دفن ہونا ہے ۔کیا ہی اچھا ہو اگر ہم سب اس کاز کا حصہ بن جائیں کہ اپنے گھروں اور دفتروں کی سجاوٹ و بناوٹ کی طرح قبرستانوں میں بھی توجہ دینی شروع کردیں ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -