معلوماتی سفرنامہ۔۔۔ چوتھی قسط

معلوماتی سفرنامہ۔۔۔ چوتھی قسط
معلوماتی سفرنامہ۔۔۔ چوتھی قسط

  

نظرےۂ اضافت 

نیو یارک سے جہاز حسبِ دستور گھنٹے بھر کی تاخیر سے روانہ ہوا مگر اب اس کی عادت ہوچکی تھی۔ٹورنٹو پہنچے تو اےئرپورٹ میں ہیٹر چل رہا تھااور محسوس ہی نہیں ہوا تھا کہ میں برفستان میں آگیا ہوں۔ مگر باہر نکلا تو ٹھنڈی اور تیز ہوا نے ریفریجریٹر کا سا سماں پیدا کردیا اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو، براؤن سوٹ کی مناسبت سے، چاکلیٹ آئسکریم سمجھنے لگا۔ میں نے اس خیال سے دستی سامان میں کوئی گرم کپڑا نہیں رکھا تھا کہ اول تو ٹمپریچر پانچ چھ ڈگری ہوگا جو زیادہ نہیں تھا، اور دوسرے اےئرپورٹ سے نکلتے ہی گاڑی کے ہیٹر میں بیٹھنا ہوگا۔ مگر سوئے اتفاق کہ میرے میزبان کی گاڑی پارکنگ سے باہر لاتے ہوئے ٹریفک میں پھنس گئی۔ میں پندرہ منٹ تک باہر یخ بستہ ہوا میں کھڑا ہوکر ان کا انتظار کرتا رہا۔ اندر اس لیے نہیں جاسکتا تھا کہ اگر وہ آگئے تو دروازے کے سامنے مجھے نہ پاکر پریشان ہوں گے۔

معلوماتی سفرنامہ، ٹورنٹوبراستہ سری لنکا۔۔ ۔تیسری قسط کیلئے یہاں کلک کریں۔

اس وقت میں نے نظرےۂ اضافت کا ایک نیا اطلاق دیکھا جو بعد میں بھی مسلسل دیکھتا رہا۔ نظرےۂ اضافت کے مطابق ہر شے مطلق طور پر نہیں بلکہ کسی دوسری چیز کے اعتبار سے حرکت یا سکون کی حالت میں ہوتی ہے۔ مثلاََ چلتی ہوئی گاڑی میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے کے اعتبار سے ساکن لیکن باہر کھڑے ہوئے لوگوں کے اعتبار سے حرکت میں ہوتے ہیں۔اس وقت ٹورنٹو اےئر پورٹ کے باہر کھڑے ہوکر میں نے یہ دیکھا کہ سردی لگنا بھی اضافی عمل ہے۔ کیونکہ جس سرد ہوا نے مجھے کاٹ کر رکھ دیا تھا اس میں بعض روسی خواتین، بنیان اور منی اسکرٹ پہنے، ہنس ہنس کر منہ سے بھاپ کے گولے نکال رہی تھیں۔ سائیبیریا کے ا ن پڑوسیوں کے لیے ماہِ اپریل کی ابتدا کا یہ موسم انتہائی خوشگوار تھا۔ کینیڈا آنے کے بعد یہ تجربہ مجھے بار بار ہوا کہ جب میں لوگوں سے ٹھنڈ کا رونا روتا تو جواب ملتا کہ ٹھنڈ تو ختم ہوگئی۔بات یہ تھی کہ تیس ڈگری اور منفی تیس ڈگری سے آنے والوں میں سے کوئی بھی غلط نہ تھا بشرطیکہ نظرےۂ اضافت کی روشنی میں اس اختلاف کی وضاحت کی جائے۔

ڈوریاں ہلانے والا

کینیڈا آنے سے پہلے لوگ مجھ سے اکثر پوچھتے تھے کہ آیا کینیڈا میں میر اکوئی جاننے والا ہے ؟ میں جواب دیتا کہ ہاں ایک ہے۔ بعض لوگ اگلا سوال بھی کردیتے کہ وہ کون ہے اور کیا کرتا ہے ؟ میں کہتاکہ جاننے والے کا نام اللہ ہے اور وہ اتنے سارے کام کرتا ہے کہ گنوائے نہیں جاسکتے۔تاہم انسانوں کے حوالے سے وہ غیب کے پردے میں بیٹھا اسباب کی ڈوریاں ہلاتا رہتا ہے۔

لوگ جس پس منظر میں سوال کرتے وہ اپنی جگہ بالکل درست تھا۔ ایک اجنبی شہر میں ، جہاں انسان پہلی دفعہ قدم رکھ رہا ہو ، اگر کوئی جاننے والا نہ ہو تو نووارد کو کسی بھی مشکل مرحلے اور مسئلے کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ لیکن میرے’’ ایک‘‘ ہی جاننے والے نے ہر مرحلے پر دوسرے جاننے والے پیدا کردیے اور وہ سارے انتظامات کرادیے جن کی مجھے کسی بھی موقع پر ضرورت پڑی۔

بلاشبہ یہ اسباب کی دنیا ہے۔ اس میں کامیابی کی شرط منصوبہ بندی اور منظم عمل ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسباب پیدا کرنے والی ذات وہی ہے۔ انسان کو اپنا اولین اعتماد اسی پر رکھنا چاہیے۔ وہ سب کچھ کے بغیر سب کچھ کرسکتا ہے اور سب مل بھی جائیں تو اس کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے۔ اس بات کو جان لینے کے بعد انسان جو عمل کرے گا وہ دنیا اور آخرت دونوں میں غیر معمولی نتائج پیدا کرے گا۔

میرے میزبان

میری رہائش کا انتظام میرے ایک قریبی دوست نے ٹورنٹومیں مقیم اپنے ایک دوست کے ساتھ کرادیاتھا۔کینیڈا میں عموماًجو شخص سیٹ ہوجاتاہے وہ اپنا گھرلے لیتا ہے اور ساتھ میں کسی دوسرے کو بھی رکھ لیتا ہے تاکہ کرائے کا بوجھ کم ہوسکے۔ چنانچہ میرا قیام بھی ایک ایسی جگہ ہوا۔ صاحب البیت کا نام کامران تھا۔ دوستانہ طبیعت کے باعث ان کا حلقۂ احباب کافی وسیع تھا۔مجھ سے قبل بھی کئی لوگ ان کے گھر میں مقیم رہ چکے تھے۔ مجھے اس کا اندازہ ان خطوط سے ہوا جو مختلف لوگوں کے نام ان کے پتے پر آتے رہتے۔ ان کے ساتھ مقیم دوسرے صاحب ارشد خطیب تھے۔ ان کا سابقہ تعلق ممبئی سے تھا۔ اس ’’سابقہ ‘‘میں ان کی خوا ہش کا اتنا دخل نہیں جتنا انڈین حکومت کاہے ، جو اپنے ملک کے ساتھ کسی دوسرے ملک کی شہریت کی اجازت نہیں دیتی۔

یہ دونوں لڑکے بہت اچھے مزاج کے تھے۔ میری ان سے اچھی دوستی ہوگئی اور بعد میں دوسری جگہ شفٹ ہونے کے باوجود میں ان سے مسلسل رابطے میں رہا۔ ان کی بڑی خوبی یہ تھی کہ برسوں مغرب میں مقیم رہنے کے باوجود نماز کے پابند تھے۔ بالخصوص ارشد کافی دیندار اور دوسروں کے کام آنے والے تھے۔ انہیں نہ صرف خدمتِ دین کا بہت ذوق تھا بلکہ آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ ایک روز مجھ سے کہنے لگے کہ وہ پاکستان کی شہریت حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایک اسلامی ملک میں رہ کر دین کی خدمت کرسکیں۔ اس لیے میں انہیں پاکستانی شہریت حاصل کرنے کا طریقِ کار معلوم کرکے بتاؤں۔

مسلماں کو مسلماں کردیا طوفانِ مغرب نے

میں جمعہ چھ اپریل کو ٹورنٹوپہنچا تھا۔ اگلی شام ارشد مجھے لے کر گھر سے نکلے۔ موسم ٹھنڈا اور ابر آلود تھا۔ مجھے گاڑی میں بیٹھ کر بھی کافی ٹھنڈ لگ رہی تھی۔ ارشد نے گاڑی کا ہیٹر آن کیا تو صورتحال کچھ بہترہوگئی۔ہماری منزل مسی ساگا کا شہر تھا جو ٹورنٹو سے متصل ہے۔ میں چوتھے باب میں ٹورنٹو کا جغرافیہ بیان کروں گا تو پھر ان تمام جگہوں کی تفصیلات بھی زیرِبحث آئیں گی۔ ہمیں ایک بزرگ کے پاس جانا تھا۔ یہ بزرگ جالندھر میں پیدا ہوئے اور آج کل کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کی عمر ماشاء اﷲ97 سال ہے اور اس عمر میں بھی چاق و چوبند ہیں۔ وہ ایک اپارٹمنٹ میں تنہا رہتے اور اپنا سارا کام خود کرتے ہیں۔ انہوں نے دینی کتب اور آڈیو وڈیو کیسٹوں کی ایک لائبریری بنا رکھی ہے جس میں پاکستان، انڈیا، امریکا، کینیڈا اور دیگر مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلم اسکالرز کی تقاریر و تصانیف موجود ہیں۔ ارشد ان سے ویڈیو کیسٹ، کچھ پیسے دے کر ، ریکارڈ کراتے اور دوسروں تک پہنچانے کا اہتمام کرتے ۔

ارشد اور کامران دونوں نے اپنے بارے میں یہی بتایا کہ وہ پس منظر کے اعتبار سے کوئی خاص دینی رجحان نہیں رکھتے تھے مگر یہاں آنے کے بعد آہستہ آہستہ دین کی طرف حسبِ استعدادان کا رجحان ہوگیا۔ میں نے اپنے قیام کے دوران اسی طرح کے اور لوگوں کوبھی دیکھا جن کا پہلے دین سے اتنا تعلق نہ تھا۔ مگر یہاں آنے کے بعد جب براہِ راست مغربی تہذیب سے واسطہ پڑا تو کم از کم نماز روزے کی حد تک دیندار ضرور ہوگئے۔

پڑئیے جب بیمار۔۔۔

آنے کے تیسرے دن اتوار کو موسم بڑا شاندار تھا۔ دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ ہوا خوشگوار تھی۔ میں علاقے کا سروے کرنے کے لیے پیدل گھر سے باہر نکل گیا۔ موسم اس قدر معتدل تھا کہ سردی کا کوئی اثر محسوس ہوتا تھا اور نہ اس سے بچاؤ کے لیے کچھ پہن رکھا تھا۔ گھنٹہ بھر مزے سے گھومتا رہا۔ واپس آیا تو بابر گھر پر آگئے۔ بابر بہن کی سسرال کی طرف سے رشتے دارہیں۔لیکن ان سے پہلی ملاقات ٹورنٹو آنے کے بعد ہی ہوئی ۔دورانِ قیام انہوں نے بھی میرے ساتھ بڑا تعاون کیا۔اس روز وہ مجھے یہاں کا ٹرانسپورٹ سسٹم سمجھانے کے لیے آئے تھے۔میں ان کے ساتھ ان کے گھر کی طرف چلاگیا۔ شام کے ڈھلتے ہوئے سائے کے ساتھ ساتھ ہوا میں، بقول ہمارے شاعرِمشرق، شمشیر کی سی تیزی آتی گئی۔ مگر میرے پاس کوئی ڈھال نہ تھی۔ رات میں ونڈ چل منفی تک جا پہنچی۔ اس وقت تومیں جیسے تیسے اسے جھیل گیااور گھر پہنچ کر بستر میں دبک گیا، مگر اگلی صبح معلوم ہوا کہ سرد ہوا اپناکام دکھاچکی ہے۔ سوکر اٹھاتو جسم میں شدید درد ، بخاراور گلے میں بہت تکلیف تھی۔

یہ میرے آنے کے بعد پہلا ورکنگ ڈے تھا جس میں مجھے اپنی کاغذی کارروائی مکمل کرنا تھی۔ مگر طبیعت بتدریج خراب ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ بستر سے اٹھنے کی ہمت بھی ختم ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورا ہفتہ بیماری میں ضائع ہوگیا اور میں گھر کے اندر ہیٹر کی پناہ میں بیٹھا رہا۔

ونڈ چل

قید ونظر بندی جیسے الفاظ اس سے قبل میں نے صرف اخباروں میں پڑھے تھے۔ مگر اب ایک ہفتے مجھے خود اس تجربے سے گزرنا پڑا۔ ہر چند کہ موسمِ بہارکی آمد آمد تھی مگر میرے اعتبار سے ابھی تک شدید جاڑا چل رہا تھا۔ ہوا اتنی ٹھنڈی اور تیز چلتی تھی کہ عملاً میرے لیے ، اس بیماری کے ساتھ گھر سے باہر نکلنا آسان نہ تھا۔ اس ہفتے موسم بھی سرد ہوگیا جو میری آمد سے ذرا قبل ہونے والی موسم سرماکی آخری برفباری کے بعد کچھ بہتر ہوا تھا۔ اس دوران میں درجۂ حرارت اکثر منفی میں رہا اور بعض اوقات منفی آٹھ تک بھی جا پہنچا۔ گھر کے ہیٹر میں بیٹھے بیٹھے آسمان پر چمکتے سورج کو دیکھتا تو لگتا کہ باہر بہت خوشگوار موسم ہے۔ مگر جونہی کھڑکی کا پٹ کھولتا توپتا چلتا کہ سورج ہمارے جیسے نوواردوں کو بے وقوف بنانے کے لیے نکلا ہوا ہے اور و نڈ چل کے باعث صرف روشنی سپلائی کررہا ہے حرارت نہیں۔ میں نے تو یہ سردی زندگی میں پہلی دفعہ دیکھی تھی۔ رہی سہی کسر بیماری نے پوری کردی جس کے بعد میں خود پر نظر بندی کی پابندی لگانے پر مجبور ہوگیا اور پورے ہفتے سوائے نمازِجمعہ پڑھنے کے لیے، گھر سے باہر نہیں نکلا۔

میں بار بار ونڈ چل کا لفظ استعمال کررہاہوں مناسب ہوگا کہ اس کی وضاحت بھی ہوجائے کہ یہ کس بلا کا نام ہے۔ ونڈ چل دراصل اس ٹھنڈ کو کہتے ہیں جو عام ٹمپریچر کے ساتھ سردہوا کے چلنے سے اضافی طور پر محسو س ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے ملک میں سردی کے مہینوں میں جب کبھی سائبیریا کی ٹھنڈی ہوا، براستہ افغانستان، آتی ہے تو موسم غیر معمولی طور پر سرد ہوجاتا ہے۔ کراچی شہر میں یہ ہوادوچاردن کے لیے کوئٹہ سے آتی ہے اور جب آتی ہے تواہلِ کراچی لحافوں میں دبک جاتے ہیں اور کو ئٹہ کی سردی کا بد لہ معصوم مونگ پھلی سے لیتے ہیں۔ بازاروں، دفتروں اور تعلیمی اداروں میں حاضری کم ہوجاتی ہے، البتہ لنڈ ا بازار میں رش بڑھ جاتا ہے۔

ہم لوگوں سے جو سرد ہوا دو دن برداشت نہیں ہوتی وہ کینیڈا میں ، گرمیوں کے چند دن چھوڑ کر، مستقل ڈیرے ڈالے رکھتی ہے۔ کیونکہ یہ علاقہ قطبِ شمالی سے متصل ہے۔ اس لیے جب کبھی آپ بالخصوص موسم سرما میں، یہاں کا ٹمپریچر دیکھیں گے، تو عام درجۂ حرارت کے ساتھ ونڈ چل ٹمپریچر بھی لکھا ہوا ملے گا۔یہ بالعموم عام ٹمپریچر سے پانچ تا دس ڈگری کم ہوتا ہے۔

قطار: مسلمانوں اور ’’ کافروں‘‘ کا رویہ

میں ایک ہفتے تک گھر میں بند رہا۔ اس دوران بخار اور درد ختم ہوگیا البتہ گلے کی تکلیف باقی تھی۔ میں نے مزید وقت ضائع کرنے کے بجائے باہر نکل کر اپنی کاغذی کارروائی پوری کر نے کا فیصلہ کیا۔صبح دس بجے ارشد کے دوست امتیاز بھائی مجھے لینے آگئے۔ہم اپنے گھرسے قریب واقع ایک آفس میں پہنچے۔ داخلی دروازے کے ساتھ ایک قطار میں لوگ کھڑے تھے۔ ہم بھی اس قطار میں شامل ہوگئے۔ قطار تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی کیونکہ ایک خاتون ہرشخص سے اس کی آمد کا سبب دریافت کرکے متعلقہ کاؤنٹر پر بھیج رہی تھیں۔ ہمارا نمبر آنے پر ہمیں ایک طرف بھیج دیا جہاں ایک اور قطار تھی۔

برسبیلِ تذکرہ عرض کرتا چلوں کہ ہماری قوم قطار سے جتنا بیر رکھتی ہے یہ لوگ اتنے ہی قطار پسند واقع ہوئے ہیں۔ یہاں لائن بنانا ایک ضروری عمل ہے جس کی خلاف ورزی ایک سماجی جرم ہے۔ اگر کسی جگہ باوجوہ قطارنہیں بھی ہو تو ڈسپلن کے تحت یہ خیال رکھتے ہیں کہ اصولاً کس کا نمبر ہے۔ مجھے اس سلسلے میں ایسے ایسے تجربات پیش آئے ہیں کہ اگر ہم پاکستانیوں کے طرزعمل سے اس کا مقابلہ کیا جائے تو سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ مجھے کینیڈا میں یہ تجربہ بھی ہوا کہ میں ایک بینک میں قطار میں کھڑا تھا۔ لیکن اپنی سلپ بھرنے کے لیے میں قطار سے نکل گیا۔میرے سلپ بھرنے کے دوران کئی لوگ لائن میں آکر کھڑے ہوگئے۔ میں نے اپنے پاکستانی تجربات کے پیشِ نظر محسوس کیا کہ اگر میں واپس جاکراپنی جگہ کھڑا ہونے کی کوشش کرتا ہوں تو بدمزگی کا پورا امکان ہے۔ میں یہ سوچ کر لائن کے آخر کی طرف جانے لگا تو میرے پیچھے والے شخص نے ، جو اس وقت تک کاؤنٹر کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا، مجھے آواز دے کر بلایا اور اپنے سے آگے کھڑا کرلیا۔

اب ذرا ایک اور منظر ملاحظہ فرمائیے۔ حرم پاک مسلمانوں کا مقدس ترین مقام ہے۔ اس کی عظمت پر ہر مسلمان نثار ہونے کے لیے تیار رہتا ہے۔ مگر اس کی تمام تر عظمت کے باوجود اس کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ حدیث موجودہے کہ ایک مسلمان کی جان ، مال ، عزت و آبرو اس سے زیادہ محترم ہے۔ اسی حرم میں مسلمان با جماعت صف در صف نماز ادا کرتے ہیں۔جیسے ہی امام صاحب سلام پھیرتے ہیں، انتہائی منظم انداز میں نماز پڑھنے والے یہ نمازی وحشیوں کی طرح حجر اسود کو بوسہ دینے کے لیے ٹوٹ پڑتے ہیں اور اس کے بعد اگلی نماز تک وہ دھینگا مشتی ہوتی ہے کہ الامان الحفیظ۔ اس بلوۂ عام میں گھس کر حجر اسود کو بوسہ دینے کی کوشش کرنا کسی شریف آدمی کے بس کی بات نہیں۔ کیونکہ ایسا کرنا اپنی جان، مال اور آبرو تینوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔حالانکہ لوگ اگر قطار بنالیں تو ہر شخص بلا کسی زحمت، سکون سے اسے بوسہ دے سکتا ہے۔ اس منظر کی تفصیلی تصویر کشی انشاء اللہ آگے سعودی عرب کے باب میں ہوگی۔

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

( ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ کئی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوچکے ہیں۔ابو یحییٰ نے علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ آنرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا ایم فل سوشل سائنسز میں ہے۔ ابویحییٰ نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ قرآن مجید پر ایک تحقیقی کام کررہے ہیں جس کا مقصد قرآن مجید کے آفاقی پیغام، استدلال، مطالبات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مزید :

کھول آنکھ، زمین دیکھ -