کینسر کی ر وک تھام کے لئے آگاہی مہم ضروری

کینسر کی ر وک تھام کے لئے آگاہی مہم ضروری
کینسر کی ر وک تھام کے لئے آگاہی مہم ضروری

  

کینسر کے عالمی دن پر شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر لاہور سے کنسلٹنٹ میڈیکل انکالوجسٹ ڈاکٹر نیلم صدیقی نے صحافیوں سے ایک خصوصی ملاقات کے دوران بتایا کہ آج کینسر کا عالمی دن ہے جو یونین آف انٹرنیشنل کینسر کنٹرول (UICC) نے بین الاقوامی سطح پر کینسر جیسے موذی مرض کے متعلق معلومات پہنچانے کے لئے شروع کیا تھا۔

اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ اس دن تمام دنیا میں حکومتی و نجی ادارے مل کر کینسر کے امراض کے متعلق معلومات تقسیم کریں، کینسر کے علاج میں بروقت تشخیص کی اہمیت کو اجاگر کریں اور اس کے علاج سے متعلق سہولیات پر بات کی جا سکے۔

اس دن کے حوالے سے سب سے اہم کام جو میڈیا کر سکتا ہے وہ کینسر کی تمام اقسام کے متعلق معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے کیونکہ کینسر ایک ایسا مرض ہے جو عموماََ پھیل جانے تک چھپا رہتا ہے اور اس کے علاج کے لئے مرض کی ابتدا میں اس کی تشخیص ہو جانا ہی سب سے ضروری قدم ہے۔

ڈاکٹر نیلم کے مطابق دنیابھر سے کینسر میں مبتلا ہونے والے افراد میں 8.2 ملین ہر سال لقمہ اجل بن جاتے ہیں جبکہ 14 ملین نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پائے جانے والے کینسر کی اقسام میں چھاتی کا سرطان سرِ فہرست ہے جبکہ لیوکیمیاء اور منہ کا سرطان دوسری دو بڑی اقسام ہیں۔

اگر پاکستان میں پائے جانے والے کینسر کی اقسام کی جنس کی سطح پر تقسیم دیکھی جائے تو خواتین میں چھاتی کے سرطان کے ساتھ ساتھ رحم، یوٹریس اور منہ میں ہونے والی اقسام اہم ہیں جبکہ مرد حضرات میں منہ میں پیدا ہونے والی کینسر کی مختلف اقسام کے علاوہ جگر ، پروسٹیٹ، پھیپھڑوں اور لبلبے کا سرطان کثرت سے پائی جانے والی کینسر کی اقسام ہیں۔مرد و خواتین میں باہم پایا جانے والی کینسر کی دوسری بڑی ا قسام ہیپاٹائیٹس اور انسانی پاپی لوما ہیں۔ لیکن بروقت ویکسین کے استعمال سے ان سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر نیلم کے مطابق موجودہ دور میں ماحولیاتی آلودگی کینسر کے امراض میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بن کر سامنے آئی ہے۔ ایسے بہت سے کیمیائی مرکبات جن سے کینسرپیدا ہوتا ہے اس وقت ہمارے ماحول کا بتدریج حصہ بن رہے ہیں۔

جہاں دیگر ترقی یافتہ ممالک اس وقت ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کی سر توڑکوششوں میں مصروف ہیں، ان کے برعکس پاکستان میں ماحول کو مزید آلودہ کرنے کی کوششیں عروج پر ہیں۔

بڑھتی آبادی کی بڑھتی ضروریات، سڑکوں پر ذرائع آمدورفت میں اضافے سے ایندھن کی مزید کھپت اور اس کے نتیجے میں گرمی اور نقصان دہ گیسوں کا ماحول میں اخراج، صنعتکاری سے آلودہ پانی اور خطرناک گیسوں کے بحفاظت نکاس اور ترسیل کے نظام کی غیر موجودگی کی بنا پر دریاوں کے صاف پانی میں کینسر پیدا کرنے والے صنعتی فضلے کا بہاوء اور ہوا میں خطرناک گیسوں کی آمیزش سے زمین میں موجود پینے کا صاف پانی اب بتدریج آلودہ ہو رہا ہے اور ہوا جس میں ہم سانس لیتے ہیں، اب اُن مرکبات سے بھر رہی ہے جو کینسر پیدا کرنے اور اس کے پھیلاو میں معاون رہنے کا کام کرتے ہیں۔

ڈاکٹر نیلم صدیقی کے مطابق پاکستان جیسے ملک میں، جہاں ایسے خطرات سے نپٹنے کے بہتر انظامات موجود نہیں، یہ تمام ماحولیاتی تبدیلی دراصل انسانی صحت اور ماحولیاتی تباہی کا موجب بن رہی ہے۔

وہ سمجھتی ہیں کہ حکومت اور نجی اداروں کو مل کر ان تمام خدشات و امکانات کا مقابلہ کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے۔کینسر اس وقت انسانی صحت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے اوربہت سے ممالک میں بیماریوں سے ہونے والی اموات میں یہ سب سے عام وجہ بن چکا ہے۔

کینسر سے پیدا ہونے والے خطرات کے پیش نظر اس وقت دنیا بھر میں ان تمام وجوہات پر تحقیق کی جا رہی ہے جو کینسر کی کسی بھی قسم کے لئے پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔ ان نئی تحقیقات کی روشنی میں فقط احتیاطی تدابیر کو مدِنظر رکھتے ہوئے آج کینسر کی قریباََ 50 فیصد اقسام سے بچا جا سکتا ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک میں جدید تحقیق اور علاج کی سہولیات میں پیش رفت کی وجہ سے کینسر کی شرح بتدریج کم ہوتے ہوئے 25فیصد تک ہو چکی ہے جبکہ ترقی پزیر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے یہ شرح بتدریج بڑھ رہی ہے ۔

اُن کے مطابق ہر ملک میںآبادی کے تناسب سے کینسر کے مریضوں کی رجسٹریشن، جسے کینسر رجسٹری بھی کہا جاتا ہے، اور اس سے متعلق اعداد و شمار کا ریکارڈ رکھا جاناممکن بنایا جائے تاکہ کینسر کی کسی بھی قسم میں اضافے اور اس کی ممکنہ وجوہات پر موجود تفصیلات کو بہم پہنچایا جا سکے۔

اس سے مرض کو سمجھنے اور اس کے سدِباب کے لئے بروقت اقدامات کئے جا سکیں۔ڈاکٹر نیلم نے کہا گو کہ یہ گورنمنٹ اور ملک میں موجود بنیادی صحت کے اداروں کا کام ہے کہ وہ کینسر سے متعلق تمام معلومات اکٹھی کریں اور مفید معلومات کو لوگوں تک پہنچایں لیکن ترقی پذیر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے، حکومتی سطح پر دیگر صحت کے اداروں میں مریضوں کی کینسر رجسٹریشن سے متعلق ایسے انتظامات ابھی موجود نہیں ہیں لہٰذا یہ ذمہ داری اکثر نجی ادارے ادا کر رہے ہوتے ہیں۔

پاکستان میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر (SKMCH&RC) لاہور کینسر کے مریضوں کی رجسٹریشن کا کام انتہائی ذمہ داری سے سر انجام دے رہا ہے۔

شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال لاہور نے ان اعداد و شمار کے حصول کے لئے 2005 ء میں پنجاب کینسر رجسٹری (PCR) یونٹ SKMCH&RC لاہور میں قائم کیا، یہ یونٹ ملک میں18 دیگر مراکز کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے کینسر کے ہر ممکن نئے کیس کو رجسٹر کرتا ہے، جس سے کینسر کے متعلقات کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔

جمع شدہ اعدادوشمار کے مطابق 2015ء میں لاہور میں کل 5,787 نئے کینسر کے مریض رجسٹر ہوئے تھے۔ ان انتظامات کی وجہ سے آج ہم کینسر کو سمجھنے، اس کے علاج کے لئے اور لوگوں کو اس کے متعلق آگاہ کرنے کے لئے بہتر طور پر تیار ہیں۔

آدمیوں میں پائے جانے والے منہ اور گلے کے سرطان کی بنیادی وجوہات میں تمباکونوشی اور مے خوری سرِ فہرست ہیں جبکہ خواتین میں پائے جانے والی کینسر کی سب سے بڑی قسم جھاتی کا سرطان ہے جس کی بنیادی وجوہات میں بچوں کی پیدائش کے بعد دودھ نہ پلانا، وقت سے پہلے بلوغت کا آ جانا، بانجھ پن ، ہارمون تھراپی اور خاندان میں کینسر کے مرض کا موجود ہونا شامل ہیں۔

ڈاکٹرنیلم نے مزید بتایا کہ کینسر سے بچنے کے لئے ایک متوازن اور صحتمند زندگی گزارنا بہت اہمیت رکھتا ہے۔اسکے لئے ضروری ہے کہ تمباکو نوشی، مے خوری اور دیگر منشیات سے گریز کے ساتھ ساتھ مناسب ورزش کی جائے اور اپنے قد کے مطابق وزن کا خیال رکھا جائے۔

کینسر کے عالمی دن کی مناسبت سے ڈاکٹر نیلم صدیقی نے اس امر پر زور دیا کہ کینسر کے مرض میں اضافے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے میں یہ ضروری سمجھتی ہوں کہ حکومتی سطح پر کینسر کے علاج کی سہولیات مہیاء کی جائیں اور کینسر کے زیر علاج مریضوں کے لئے بہتر زندگی کے مواقع مہیا کئے جائیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ہمیں قومی سطح پر اس بات کو ممکن بنانے کی ضرورت ہے کہ کینسر سے بچاو کے لئے لوگوں کی تربیت کی جا سکے۔کینسر کا علاج بہت مہنگا ہوتا ہے اور یہ ہماری معیشت پر بہت بڑا بوجھ بھی ہے، لیکن دوسری جانب کینسر سے بچاوء اور اس کی بروقت تشخیص انتہائی کم خرچ اور آسان ہے۔ لہٰذا لوگوں کو ایک متوازن اور صحت مند زندگی اپنانے کی تلقین کی جائے ۔

اور ساتھ ہی ساتھ کینسر کے مریضوں کو علاج کے لئے آسان رسائی مہیا کی جائے۔۔۔اپنی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے ڈاکٹر نیلم نے کہا کہ ہمارے لئے یہ بات قابل فخر ہے کہ پاکستان میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر جیسا ادارہ قائم ہے، جو کینسر کی تمام اقسام کی تشخیص اور علاج کی تمام سہولیات کو ایک چھت تلے فراہم کرتا ہے اور اپنے 75فیصد سے زائد کینسر مریضوں کو کینسر کے علاج کی مکمل سہولیات مفت فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی سہولت ہے جو آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی نظر نہیں آتی۔

مزید :

رائے -کالم -