’’سیاست میں گھٹیا اور غیر پارلیمانی زبان کا استعمال وہ سیاسی جماعتیں اور سیاست دان کرتے ہیں جن کی پیدائش ۔۔۔‘‘ سلیم صافی نے تہلکہ برپا کر دیا

’’سیاست میں گھٹیا اور غیر پارلیمانی زبان کا استعمال وہ سیاسی جماعتیں اور ...
’’سیاست میں گھٹیا اور غیر پارلیمانی زبان کا استعمال وہ سیاسی جماعتیں اور سیاست دان کرتے ہیں جن کی پیدائش ۔۔۔‘‘ سلیم صافی نے تہلکہ برپا کر دیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ جن سیاسی جماعتوں کی پیدائش ’’جائز ‘‘ طریقے سے ہوئی ہو اور وہ سیاست دان جو جائز اور حقیقی طریقے سے آگے بڑھا ہو یا بڑھ رہا ہو وہ کبھی بھی گھٹیا زبان استعمال نہیں کرتے،بلاول بھٹو زرداری  کو وفاقی وزیر شیخ رشید کے مقابلے میں نہیں آنا چاہئے تھا ۔

نجی ٹی وی کے پروگرام ’’لائیو وِد نصراللہ ملک ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار سلیم صافی کا کہنا تھا کہ ماضی میں خان عبد الولی خان ،دولتانہ صاحب ،سردار اختر مینگل اور عبد الصمد اچکزئی سمیت بڑی لیڈر شپ میں شدید نظریاتی اختلاف ہوتا تھا لیکن وہ ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہوئے کبھی بھی عزت اور احترام کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت تین بڑی جماعتوں میں کوئی نظریاتی اختلاف بھی نہیں ہے صرف طریقہ واردات کا فرق ہے ،  باقی یہ ایک ہی تصویر کے تین رخ ہیں ،ماضی کی لیڈر شپ میں دائیں اور بائیں کی تفریق بھی اس وقت موجود تھی ،ایک مشرق کی طرف ہوتا تھا اور دوسرا مغرب کی طرف لیکن ایسا ماحول ماضی میں نہیں تھا ۔سلیم صافی نے کہا کہ سب سے پہلے یہی شیخ رشید جو اس وقت مسلم لیگ ن میں ہوتے تھے انہوں نے آغاز کیا ،اس وقت کی مسلم لیگ ن کی پیدائش ناجائز  اور  پرورش  کہیں اور ہو رہی تھی،بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کے خلاف  اس لہجے کا استعمال بہت زیادہ تھا ،فتویٰ بازی اور گالم گلوچ  میں بھی اس طرح کی جماعتیں اور لوگ آگےاور ان کا پلڑا بھاری ہوتا ہے جو ناجائز طریقے سے آگے آتے ہیں۔سلیم صافی کا کہنا تھا کہ شیخ رشید جیسے لوگ اور تحریک انصاف جیسی جماعتیں جو چور دروازے سے تخلیق ہوتے اور ناجائز طریقے سے آگے بڑھنے کا عمل ہوتا ہو تو وہاں پر یہ رجحان زیادہ ہوتا ہے ،شیخ رشید اور تحریک انصاف کو بھی یہ لہجہ اختیار نہیں کرنا چاہئے، پیپلز پارٹی ایک حقیقی جمہوری پارٹی اور بلاول بھٹو  خود کو بے نظیر کا سیاسی وارث قرار دیتے ہیں ،ابھی تک اسمبلی کے اندر اور باہر بلاول بھٹو  کی تقریروں اور ان کے لہجے کی تعریف کی جا رہی تھی انہیں اس طرح کی زبان استعمال نہیں کرنی چاہئے تھی ۔سلیم صافی کا کہنا تھا کہ گوکہ بلاول بھٹو ابھی کم عمر ہے لیکن اس وقت وہ ایک لیڈر کی جگہ پر بیٹھے ہیں اور لیڈڑ شپ میں آزمائش یہی ہے کہ آپ کو ڈی ٹریک اور مشتعل کیا جاتا ہے لیکن لیڈر اور قوم کو لیڈ کرنے کے دعوے دار شیخ رشید بننے پر کیوں تل گئے ہیں ؟۔  

مزید : علاقائی /اسلام آباد