جامعہ عثمانیہ میں ملکی سطح پر فقہی سیمینار اختتام پذیر، ملک بھر سے 80سے زائد جید مفتیوں کی شرکت

جامعہ عثمانیہ میں ملکی سطح پر فقہی سیمینار اختتام پذیر، ملک بھر سے 80سے زائد ...

پشاور (سٹاف رپورٹر ) معروف دینی ادارہ جامعہ عثمانیہ اور پشاور میڈکل کالج کے اشتراک سے منعقدہ ایک روزہ فقہی کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی۔ جس میں روزے کے اہم مسائل کا جائزہ جد ید طبی تحقیقات کی روشنی میں لیا گیا۔کانفرنس میں ملک بھر سے80سے زائد مفتیان نے شرکت کی۔ جبکہ اسی موضوع پر 26تحقیقی مقالہ جات بھی پیش کیے گئے۔کانفرنس کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے تین گروپ بنادیے گئے تھے۔ ہر گروپ میں پشاور میڈکل کالج کے دودوڈاکٹر طبی رہنمائی کے لیے موجود تھے۔چارگھنٹے طویل جماعتی بحث مباحثہ کے بعد جامعہ کے ناظم تعلیمات مولانا حسین احمد نے متفقہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا ۔ تمام شرکاء نے ان تحقیقات کی روشنی میں حتمی رپورٹ تیارکرنے کااختیار جامعہ عثمانیہ کے المجلس الفقہی کو دیدیا۔جامعہ عثمانیہ پشاور کے میڈیا کوآرڈینیٹر مفتی سراج الحسن کے مطابق اس موقع پر جامعہ عثمانیہ کے مہتمم اور کانفرنس کے چیئرمین مفتی غلام الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ائمہ مجتہدین کے بارے بدظنی ایمان کی کمی علامت ہے تاہم جن مسائل میں قرآن وسنت کے بارے کوئی صریح جواب نہ ہو توپھر قرآن وسنت کی روشنی میں قدیم وجدیدتحقیق کوسامنے رکھ کر امت کی رہنمائی کرنا علماء کا اہم فریضہ ہے۔جدید تحقیقات سے فائدہ اٹھانا اسلام کا مزاج ہے اگر موجودہ دور میں جدید سائنسی تحقیقات کو پس پشت ڈالا گیا توہمارے فتوی پرقدامت پسندی کاداغ لگ سکتا ہے۔ فتوی کامیدا ن بہت باریک ہے ۔چونکہ مفطرات صوم کے اکثر مسائل طب سے تعلق رکھتے ہیں اور طبی تحقیقات سے ہم ناواقف ہیں اگر خدانخواستہ ہم سے غلطی ہوجائے تویہ بہت خطرے کی بات ہے اسی حساسیت کو سمجھتے ہوئے ان مسائل پرملکی سطح پر علماء اور ڈاکٹرز کے مشترکہ سیمنار کا انعقاد کیا گیا ۔اور شریعت کا مزاج بھی یہی ہے کہ ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے یہی وجہ ہے کہ نمازوں کے مسئلہ میں رسول اللہ ﷺ نے موسی علیہ السلام کی تجربہ سے فائدہ اٹھایا تھا۔اور قابیل کے کوے کے تجربہ سے فائدہ اٹھانے کو قرآن نے ذکر کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مدارس میں ایک خاص قسم ماحول کی وجہ سے ریسرچ اور تحقیق کی طرف توجہ بہت کم دی جاتی ہے تاہم اب اس کی طرف توجہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔دور جدید کے تقاضوں کے مطابق فضلاء کوتیار کرنا دینی مدارس کی ذمہ داریوں میں ایک اہم فریضہ ہے۔کیونکہ عصر حاضر میں جب انسانی ضروریات دن بدن بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے نت نئے چیلنجزاور نئے شرعی مسائل سامنے آرہے ہیں جس کے حل کے لیے ریسرچ کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔قرآ ن وحدیث تحقیق اور غور کے بارے واضح احکامات دیتے ہیں ۔درس وتدریس کی ذمہ داریوں کے ساتھ دین اسلام کا تحقیقی انداز میں علمی وفکر ی میدان میں دفاع کرنا علماء کی اہم ذمہ داری ہے۔ایک مفتی کے لیے معاشر تی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے فتوی دینا چاہیے۔ مدارس میں تحقیقی ذوق کی جس قدر ضرورت آج محسوس کی جارہی ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ اس حوالے سے مدارس کو دیرپااقدامات کی ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے لیے جامعہ عثمانیہ میں المجلس الفقہی کے نام سے باقاعدہ ریسرچ کونسل موجود ہے جس میں صوبے کے جید مفتی شامل ہیں اور ہر ماہ ایک اجلاس ہوتا ہے۔ کانفرنس سے پشاور میڈکل کے پروفیسر ڈاکٹرنجیب الحق نے اپنے خطاب میں کہاکہ قدیم وجد ید اور دینی ودنیاوی تعلیم جیسی اصطلاحات نے مسلمانوں کو دوگروہوں میں تقسیم کیا۔سائنس اور اسلام کے ٹکراوکا تصور عیسائیوں کا پیدا کردہ ہے۔فقہ اتحاد امت کے لیے بنایاگیا تھا لیکن بدقسمتی سے اسے امت کی تقسیم کرنے کے لیے ستعمال کیا گیا۔دینی مدارس کے بارے منفی تاثر زائل کرنے کے لیے مدارس کے زعماء پر بہت بڑی ذمہ داری عائدہوتی ہے۔دینی مدارس کا امتحانی طریقہ یونیورسٹیوں کے لیے ایک مثال ہے لیکن دینی مدارس اس کو کیچ نہ کرسکے ۔انہوں نے مزیدکہا کہ آج ہمارانظامِ تعلیم اور نصاب تعلیم ایک باکردار انسان پید اکرنے سے عاری ہے۔ اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار سازی بھی ضروری ہے ۔پشاور میڈکل کالج کی پالیسی میں ایک تعمیری اور مضبوط سوچ ہے کہ باصلاحیت اور باکردار ڈاکٹرز میں میدان میں آکر ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا کرداراداکریں۔سیمنار سے جامعہ عثمانیہ کے ناظم تعلیمات مولانا حسین احمد نے بھی خطاب کیا ۔جبکہ طبی رہنمائی کے لیے پشاورمیڈکل کالج کے پروفیسر ڈاکٹرنجیب الحق، ڈاکٹر محمد طیب ،ڈاکٹر فضل وہاب، ڈاکٹر ہدایت اللہ، ڈاکٹر عارف ،ڈاکٹر محمد امان بھی موجود تھے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر