شادمان اتواربازار میں مہنگائی کنٹرول سے باہر ، صارفین پھٹ پڑے

شادمان اتواربازار میں مہنگائی کنٹرول سے باہر ، صارفین پھٹ پڑے

لاہور(اپنے نمائندے سے)شادمان اتوار بازار مہنگائی کا گڑھ بن گیا نہ تو کوئی چیکنگ کا سسٹم ہے اور نہ کوئی واک تھرو گیٹ ہے وہاں پر موجود انتظامیہ من مانی کر کے دکانداروں کو جرمانے کر کے خود ہی ان سے من مانگے روپے لے کر چھوڑ دیتے ہیں ۔ دکانداروں اور سٹال ہولڈرز کی من مانیاں،سرکاری نرخ نامے غائب، انتظامیہ مفت سبزیاں پھل لینے میں مصروف،پرانی سبزیاں اور ناقص پھل اول دوم پر بیچنے پر شہری سراپا احتجاج بن گئے یہ صورتحال روزنامہ پاکستان کے سروے کے دوران سامنے آئی ، سروے کے دوران شہری شادمان اتوار بازار کی انتظامیہ کے خلاف پھٹ پڑے۔ خریدار محمد عقیل،غلام نبی ،جمیل احمد ،شہریار عالم اور انصار احمد نے کہا کہ تبدیلی سرکار کو آئے ہوئے کئی مہینے ہو گئے ہیں لیکن اتوار بازار کی صورتحال جوں کی توں ہے نئے کمشنری نظام کے نفاذ کے بعد میٹروپولٹین کارپوریشن انتظامیہ نے اتوار بازاروں کی حالت زار کو سدھارنے کے لئے بلند و بانگ دعوے کئے تھے جو تاحال صر ف زبانی جمع خرچ سے آگے نہ بڑھ سکے ہیں ،،ہمارا ڈپٹی کمشنر لاہور مطالبہ ہے کہ ہفتہ وار بنیادوں پر خود ہر اتوار بازار میں سرپرائز وزٹ کریں تو ان کو تمام حالات آشکار ہو جائیں گے۔گزشتہ روز اتوار بازار میں سبزیوں کے ریٹس کچھ اس طرح تھے ۔ادرک چائنہ 160روپے، لہسن چائنہ 120، سبز مرچ 60روپے ، پودینہ گٹھی 5، سلاد فی گٹھی5، ادراک 135، پالک دیسی 30، میتھی 30،چقندر50، سبز پیاز پاؤ 40، ٹینڈیاں 40، ماڑو 38، لوکی 80، مٹر 32، شلجم 30، مونگرے 50، گاجر13روپے،مٹر 32روپے، پھولوں کے ریٹس مالٹا کالا فی درجن120، مسمی فی درجن 90، کنو فی درجن 90، سیب کالا کولو 120، گرے فروٹ 40، امرود80، کیلا 80کچھ اس طرح فروخت ہو رہے تھے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1