قرآن کریم معاشرے کومحبت اور صلہ رحمی کی جانب بلاتا ہے، سلطان احمد علی

قرآن کریم معاشرے کومحبت اور صلہ رحمی کی جانب بلاتا ہے، سلطان احمد علی

لاہور(پ ر)دین کی حقیقت اور اصل مغز حضور اکرمؐ کی نسبت سے نصیب ہوتا ہے۔ صاحبزادہ سلطان احمد علی تصوف کا اصول اپنے باطن کی اصلاح ہے۔ صاحبزادہ سلطان احمد علی۔ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ صاحبزادہ سلطان احمد علی۔ ہمیں اپنے مابین تضادات اور رنجشوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہونا ہے۔ بعین اسی طرح جیسے ہمارے آباؤ اجداد نے قیامِ پاکستان کیلئے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھا۔ ان خیالات کا اظہار دربار عالیہ حضرت سلطان باھوؒ سے وابستہ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے زیر اہتمام منہاج کرکٹ گراؤنڈ، ہمدرد چوک ٹاؤن شپ" سالانہ میلاد مصطفےٰ ؐو خصوصی دعا برائے کشمیر سے تنظیم کے مرکزی سیکرٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

جبکہ کانفرنس کی صدارت اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے سرپرست اعلیٰ حضرت سلطان محمد علی صاحب نے کی۔ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے اس موقع پر مزید کہا کہ اسلام نے سماج اور معاشرت کے اصول طے کیئے ہیں جس کا مقصد سماج میں خوبصورتی پیدا کرنا اور اسے ٹوٹ پھوٹ سے بچا کر محبت و اخوت کی جانب لانا ہے۔ کنبے کی حرمت قائم کر کے اللہ تعالیٰ نے احسان عظیم کیا ہے۔ انسان کے نسب اور اس کے سسرال سے تعلق انسان پر لازم ہے اور ان میں اعتدال سے حسن معاشرت قائم ہوتا ہے۔ ہمیں بھی اپنے ان رشتوں کی حرمت کو قائم رکھنا چاہیے اور اعتدال رکھنا چاہیے۔ اہل تصوف کا شیوہ رہا ہے کہ انہوں نے معاشرے کو جوڑا اور نفرتوں کو ختم کیا اور یہ دین و دنیا میں اعتدال پیدا کر نے سے ممکن ہے۔ تصوف کا بنیادی اصول اپنے باطن کی اصلاح ہے۔ معافی مانگنے میں پہل کرنا اور معاف کرنے میں پہل کرنا تصوف کا اہم اصول ہے۔ بخیل کبھی صوفی نہیں ہوتا اور صوفی کبھی بخیل نہیں ہوتا۔ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے مزید کہا کہ دین آفاقی زندگی کے تمام پہلوؤں پر رہنمائی دیتا ہے اور انسان کو دو بنیادی پہلوؤں کی جانب بلاتا ہے۔ حکم الٰہی اور اطاعتِ رسول اکرم ﷺ۔ اسلام کی دعوت الی اللہ بھی ہے اور الی الرسول ﷺ بھی ہے۔ علامہ اقبال نے بھی یہ واضح کیا ہے کہ مصطفےٰ کریم ﷺ کی محبت ہی دین حق کی شرط اول ہے اور دین کی حقیقت اور اصل مغز اسی نسبت سے نصیب ہوتا ہے۔ ایمان بالتوحید اور ایمان بالرسالت دونوں اسلام کی بنیاد ہیں۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں آنے اور ذکر کرنے کے آداب بیان فرمائے ہیں وہیں قرآن کریم میں حضور اکرم ﷺ کی بار گاہ کے آداب سکھائے ہیں۔کشمیر نہ صرف پاکستان کا بلکہ جنوبی ایشیاء کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ اس سے پورا خطہ عدم استحقام کا شکار ہے۔ ہماری موجودہ حکومت سے درخواست ہے کہ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے اصولی موؤقف کے مطابق کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1