اقوام متحدہ سے کشمیر پر خود مختار کمیشن بنانے کا مطالبہ

اقوام متحدہ سے کشمیر پر خود مختار کمیشن بنانے کا مطالبہ

کل جماعتی کانفرنس نے اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے مسئلہ کشمیر پر خود مختار کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے، جو مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پررپورٹ تیار کر کے اقوام عالم اور اقوام متحدہ کو پیش کرے،کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم اورغاصبانہ قبضے کی مذمت کی گئی۔ تحریک آزادی کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کے لئے سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں پر زور دیا گیا کہ وہ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کے لئے فوری طور پر اپنا کردار ادا کریں، او آئی سی کشمیر گروپ کو مزید فعال اور متحرک کرنے پر زور دیا گیا اور کشمیر میں حریت کانفرس کی ہڑتال کی اپیل کی مکمل حمایت کی گئی۔ سیاسی اور مذہبی قائدین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں،بھارت کشمیریوں پر مظالم بند کرے حکومت مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اُجاگر کرنے کے لئے موثر خارجہ پالیسی بنائے۔ مقررین نے اِن خیالات کا اظہار جمعیت علمائے اسلام(ف) کے زیر اہتمام کل جماعتی کشمیر کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔قومی قیادت مسئلہ کشمیر پر متحد ہے اور کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور بھارتی سیکیورٹی فورسز نے وادی میں ظلم و تشدد کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اس میں کوئی کمی نہیں آ رہی،لیکن دوسری جانب کشمیری مجاہدین بھی کوہِ گراں ثابت ہو رہے ہیں اور انہیں تمام تر تشدد کے باوجود اُن کے موقف سے یک سرِ مو ہٹایا نہیں جا سکا،بھارتی فورسز اور حکومت کو اِس بات نے پریشان کر رکھا ہے کہ ایک جانب ظلم و تشدد کا ہر حربہ ناکام ہو رہا ہے اور دوسری جانب کشمیری مجاہدین کے جذب�ۂ سرفروشی میں کوئی کمی نہیں ہو رہی، سالہا سال کے عرصے پر محیط ہڑتالیں، احتجاجی مظاہرے، جلسے جلوس، ریلیاں کسی توقف کے بغیر آج بھی پہلے روز ہی کی طرح جاری ہیں اور انہیں دیکھ کر ہی کشمیر کے بارے میں بھارتی سیاسی رہنما یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت نے اب تک جتنے بھی وفود مقبوضہ کشمیر میں بھیجے ہیں وہ سب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ظلم و ستم کی انتہاؤں کو چھو جانے والے تشدد کے باوجود کشمیریوں کا جذب�ۂ حریت سرد نہیں پڑا اور انہوں نے مودی حکومت کو مذاکرات کے ذریعے یہ مسئلہ حل کرنے پر زور دیا ہے،لیکن بھارتی حکومت اپنے ہی حامی سیاسی رہنماؤں کے مشورے پر بھی کان دھرنے کے لئے تیار نہیں ہو رہی۔

کشمیریوں کی آزادی کی تحریک جتنے طویل عرصے سے جاری ہے دُنیا میں شاید ہی کوئی دوسری تحریک اس کے ہم پلہ ہو، دُنیا میں آزادی کی دو طرح کی سیاسی تحریکیں چلتی ہیں، ایک تو وہ جو چند ہی برس کی جدوجہد کے بعد برگ و بار لے آتی ہیں اور کامیابی سے ہمکنار ہو جاتی ہیں، دوسری تحریکیں وہ ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے منزل تک نہیں پہنچ پاتیں اور اُن کا سفر راستے ہی میں دم توڑ جاتا ہے اور ان کی قیادتیں تتر بتر ہو جاتی ہیں اور ان کے کارکن مایوس اور تھک ہار کر جدوجہد چھوڑ دیتے ہیں، مقبوضہ کشمیر کی تحریک اِس لحاظ سے مثالی ہے کہ یہ کامیابی سے تو ہمکنار نہیں ہوئی، لیکن مرحلہ وار اور قدم بہ قدم آگے ہی آگے بڑھتی رہی ہے، جب کبھی محسوس ہوا کہ اس تحریک کا زور کم پڑ رہا ہے تو تھوڑے ہی عرصے کے بعد یہ پہلے سے زیادہ توانا جذبے کے ساتھ اُبھر آئی۔ اب تک کشمیریوں کی کئی نسلیں اس جدوجہد کے لئے اپنی جانیں اور توانائیاں صرف کرتے کرتے اِس جہان سے گزر گئیں،لیکن ڈوگرا راج سے لے کر آج تک کشمیریوں کی قسمت نہیں بدل سکی،بس اتنا فرق پڑا ہے کہ ایک ظالم فوج کی جگہ دوسری ظالم فوج نے لے لی ہے، کشمیری وہی ہیں، ظالموں کے چہرے بدلتے رہتے ہیں۔سینے وہی ہیں گولیاں بدلتی رہتی ہیں اور اب تو کشمیری یہ کہہ سکتے ہیں ’’دُنیا ہے تری منتظر اے روزِ مکافات‘‘۔

کل جماعتی کانفرنس نے اقوام متحدہ اور اقوام عالم سے خود مختار کمیشن کی تشکیل کا جو مطالبہ کیا ہے اِس سلسلے میں اگر کوئی پیش رفت اقوام متحدہ کی جانب سے ہوتی ہے تو یہ قابلِ تعریف اقدام ہو گا، لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ اقوام متحدہ یا اس کا کوئی بھی ادارہ ماضی میں اِس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کر سکا، جس سے کشمیریوں کے دُکھوں کا مداوا ہو اور اُن پر مظالم کا سلسلہ رُک سکے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھارت کے دورے پر آئے تھے،لیکن اُنہیں کشمیر نہیں جانے دیا گیا۔ اگر عالمی ادارے کا سربراہ ایک لہو لہو وادی کو اپنی نگاہوں سے دیکھتا تو شاید وہ اس مسئلے کی سنگینی کا زیادہ بہتر احساس کر پاتا، اس وجہ سے بھارتی قیادت نے اُنہیں کشمیر جانے اور کشمیری قائدین سے ملاقاتوں سے روک دیا، کسی دوسرے ادارے کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو بھی کشمیر نہیں جانے دیا جاتا،یہاں تک کہ ریاست کے طول و عرض میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس طویل عرصے کے لئے بند کر دی جاتی ہے تاکہ باہر کی دُنیا اُن مظالم سے آگاہ نہ ہو سکے، جو بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کشمیریوں پر روا رکھے جاتے ہیں، پاکستان کی حکومت، سیاسی جماعتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اقوام متحدہ کو اس جانب متوجہ کرتی رہتی ہیں،لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ اقوام متحدہ نگاہِ التفات نہیں ڈالتی،حالانکہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر کشمیر دُنیا کے قدیم ترین مسئلے کے طور پر موجود ہے اور وہ قراردادیں بھی وقت کے ساتھ ساتھ بوسیدہ ہو گئی ہیں،جن میں بھارتی قیادت سے کہا گیا تھا کہ وہ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت کا حق دے اور اس مقصد کے لئے کشمیر میں ریفرنڈم کرائے،لیکن ان قرادادوں پر عالمی ادارہ عمل نہیں کرا سکا۔

کل جماعتی کانفرنس کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب5فروری کو دُنیا بھر میں کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا دن منایا جا رہا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اب کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دِلانے کا اہتمام کیا جائے اور مظالم کا سلسلہ بند کیا جائے۔ حکومتِ پاکستان کو اس کانفرنس کی قراردادوں کی روشنی میں اس معاملے کو آگے بڑھانا چاہئے اور عالمی برادری کو اِس مسئلے کے حل کے لئے دلچسپی لینے پر مجبور کرنا چاہئے۔ سال کے سال جنرل اسمبلی میں ایک تقریر ضرور ہوتی ہے،جس پر بھارت سیخ پا بھی ہو جاتا ہے اور اس کے نمائندے واک آؤٹ بھی کر جاتے ہیں،لیکن محسوس ایسے ہوتا ہے یہ سلسلہ موثر ثابت نہیں ہوا،اِس طرح تو مزید ستر سال بھی گزر جائیں گے اور بھارت اٹوٹ انگ کا راگ الاپتا رہے گا، کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ کشمیر کی آزادی کے لئے ایسے عملی اقدامات بھی اٹھائے جائیں،جن کا مثبت نتیجہ بھی نکلے۔

مزید : رائے /اداریہ