دوسرا منی بجٹ اور گاڑیوں کی امپورٹ

دوسرا منی بجٹ اور گاڑیوں کی امپورٹ
دوسرا منی بجٹ اور گاڑیوں کی امپورٹ

  

حکومت نے چھ ماہ سے بھی کم مدت میں دوسرا منی بجٹ پیش کرکے اپنی اقتصادی ترجیحات کا ثبوت فراہم کر دیا ہے۔ اس بار کچھ اچھے اقدامات بھی کئے گئے ہیں، جن سے لوگوں کو کچھ حوصلہ ہوا ہے اور حکمرانوں کی ساکھ میں قدرے بہتری بھی آئی ہے۔

اب یہ بات پورے وثوق کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ اس کی وجہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے حاصل کردہ قرضے ہیں یا یہ آئی ایم ایف کی شرائط کو پیشگی تسلیم کرنے کا نتیجہ ہے، لیکن تازہ منی بجٹ میں کچھ مثبت اشارے ضرور موجود ہیں۔ شائد اسی لئے اسے مالی ایڈجسٹمنٹ کا نام دیا گیا ہے، لیکن بہرحال ہے یہ منی بجٹ ہی اور ہمیشہ کی طرح نئی پالیسیاں وضع کرنے والوں نے دودھ تو دیا ہے، لیکن مینگنیاں ڈال کر۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بجٹ میں کچھ اچھے اقدامات تو تجویز کئے گئے ہیں، لیکن ساتھ ہی کچھ ایسے فیصلے بھی کئے گئے ہیں، جن سے ان اچھے اقدامات کا اثر زائل ہو گیا ہے۔

ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ ماضی میں پیش کئے گئے بجٹوں میں یہ پریکٹس جاری رکھی گئی اور اب تحریک انصاف کی حکومت نے بھی یہ روش ترک نہیں کی۔ کچھ اور شعبے، سیکٹر اور معاملات بھی ہیں، لیکن مَیں یہاں دوسرے ممالک ،خصوصی طور پر جاپان سے درآمد شدہ گاڑیوں کے حوالے سے کئے گئے حالیہ فیصلوں کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔

تازہ منی بجٹ میں نان فائلرز کے لئے گاڑی اور جائیداد خریدنے پر پابندی ختم کر دی گئی ہے اور بینک ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا ریٹ نان فائلرز کے لئے 0.4فیصد سے بڑھا کر 0.6فیصد کر دیا گیا ہے۔ یہ تو اچھی بات ہو گئی کہ اب نان فائلر بھی گاڑی اور جائیداد خرید سکیں گے، تاہم انہیں فائلرز کی نسبت زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ ایسا ہی فائلر ہونے کی پابندی لگائے جانے سے پہلے بھی ہو رہا تھا۔

راقم الحروف نے انہی سطور میں یہ معاملہ اٹھایا تھا اور اربابِ بست و کشاد کی توجہ اس امر کی جانب دلائی تھی کہ جب ایک نان فائلر زیادہ ٹیکس دے کر ایک گاڑی یا مکان یا کوئی دوسری جائیداد خریدنے کو تیار ہے تو پھر اس پر فائلر ہونے کی پابندی لگانا مناسب نہیں، کیونکہ وہ حکومت کو زیادہ ریونیو فراہم کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ مَیں نے یہ بھی لکھا کہ حکومت کو نان فائلرز کو اگر فائلر بنانا ہی ہے تو یہ کام یک لخت اور اچانک کرنے کی بجائے بتدریج اور مراحل میں کرنا چاہیے۔

یہ بات خوش آئند ہے کہ میری بات ان کے پلے پڑ گئی اور گاڑیوں اور جائیداد کی خرید و فروخت کے لئے فائلر ہونے کی پابندی ختم کر دی گئی ، لیکن اس کے ساتھ ہی ایک ایسا فیصلہ بھی کر لیا گیا، جس کی وجہ سے گاڑیوں کی درآمدات والے شعبے کے مسائل میں اضافہ ہو گیا ہے اور میرا یقین ہے کہ اس کے نتیجے میں مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔

منی بجٹ میں 1800سی سی سے زائد طاقت کی گاڑیوں پر ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 10فیصد کا اضافہ کر دیا گیا ہے، نئی شرح 10فیصد سے بڑھا کر 20فیصد کر دی گئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا، بڑی گاڑیوں کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اور ان کی درآمد کم ہو جائے گی۔ ایک اور فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ جس پاسپورٹ پر گاڑی باہر سے آتی ہے، بیرونِ ملک سے پیسے بھی وہی بھیجے گا اور ڈیوٹی وغیرہ کے لئے پیسے، جسے Remittance کہا جاتا ہے، بھی وہی شخص بیرونِ ملک سے بھیجے گا، جس کے نام پر یا جس کے پاسپورٹ پر گاڑی درآمد ہو رہی ہو گی۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی زید صاحب بیرونِ ملک سے گاڑی بھیج رہے ہیں تو وہ گاڑی بھی بھیجیں گے اور Remittance بھی بھیجیں گے۔ ایسا عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔ یہ فیصلہ ایک طرح سے ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے مترادف ہے اور اس فیصلے کے نفاذ کے بعد مقامی طور پر گاڑیاں تیار کرنے والوں کی موجیں لگ جائیں گی۔ وہ پہلے ہی گاڑیاں بڑی لیٹ ڈلیور کرتے تھے، چھ چھ ماہ ایڈوانس بکنگ ہوتی تھی۔

اگر کسی نے فوری گاڑی خریدنی ہے تو لاکھ دو لاکھ تو اون کے لے لئے جاتے تھے۔ پھر لوکل گاڑیوں کا معیار بھی سب پر واضح ہے۔ نہ تو ان میں Security Measures کا خیال رکھا جاتا ہے اور نہ ہی فنشنگ اچھی ہوتی ہے۔

پاکستانی گاڑیاں درآمد شدہ گاڑیوں کی نسبت پٹرول بھی بہت زیادہ استعمال کرتی ہیں۔ پھر ریٹ ان کے اتنے زیادہ ہیں کہ بڑی گاڑیاں 32۔30لاکھ سے کم میں نہیں ملتیں۔ لوگوں کو دو دو تین تین لاکھ اون پہلے بھی دینا پڑتا تھا، اب بھی دینا پڑے گا۔ پھر لوگوں کو سال سال چھ چھ مہینے انتظار کرنا پڑے گا۔ حکومت کے ارباب اختیار کے ساتھ پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ ایک طرف سے کسی معاملے کی چھوٹ دیتے ہیں تو دوسری جانب اسی سے متعلقہ کسی معاملے پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔

پاکستانی گاڑیوں کا نہ کوئی سٹینڈرڈ ہے، نہ ان میں حادثے کی صورت میں بچاؤ کے لئے ایئربیگز ہیں۔ پھر پاکستان میں ڈیمانڈ کے مطابق گاڑیاں تیار نہیں ہو سکتیں۔ گنجائش ہی اتنی نہیں ہے۔ یہ کمی جاپان اور دوسرے ممالک سے استعمال شدہ اور ری کنڈیشنڈ گاڑیاں درآمد کرکے پوری کی جاتی تھی، لیکن اب لگتا ہے کہ ایسا ممکن نہیں رہے گا۔

میرے خیال میں جاپان وغیرہ سے گاڑیوں کی درآمد پر اگر کوئی پابندی ہونی چاہیے تو یہ کہ ایکسیڈنٹ والی درآمد نہ کی جا سکیں، صرف صاف ستھری گاڑیاں ہی منگوائی جا سکیں۔

لوکل شو رومز والے اگر ایکسائز میں رجسٹرڈ ہیں، ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہیں، ان کو غیرمشروط طور پر گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت دی جائے، تاکہ وہ قاعدے کے مطابق ٹیکس جمع کرائیں اور اچھی گاڑیاں منگوا کر لوگوں کو فراہم کریں، تاکہ گاڑیوں کی مقامی ڈیمانڈ پوری کی جا سکے۔ حکومت کو اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

مزید : رائے /کالم