ہنی مون از اوور

ہنی مون از اوور
ہنی مون از اوور

  

پی ٹی آئی حکومت نے ساڑھے پانچ ماہ تو یہ کہتے ہوئے نکال لئے کہ اتنی جلدی رزلٹ نہیں آ سکتا، لیکن کب تک وہ ’ابھی ٹائم دیں‘ کا عذر پیش کر سکیں گے۔ ہنی مون ختم ہو چکا اور اب ڈلیور کرنے کے سوا حکومت کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے۔ملک کی اکانومی میں کارکردگی صفر ہے۔ پہلی دفعہ ہوا کہ وفاقی حکومت نے فنانس ترمیمی بل یعنی منی بجٹ پیش کیا اور منظوری کے بغیر ہی اجلاس ملتوی کر دیا ۔

منی بجٹ پیش ہونے کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان اسمبلی میں موجود تھے۔ ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے کہ وزیر اعظم اسمبلی اجلاس میں جانے کی زحمت کریں، اس دن اتفاق سے موجود تھے، لیکن سب نے دیکھا کہ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی شعلہ بیان تقریر کے وقت وہ بہت ڈسٹرب نظر آرہے تھے۔ پچھلے دور میں جب خان صاحب ایک اپوزیشن لیڈرتھے تو بہت سخت تقریریں کیا کرتے تھے۔ پھر اسمبلی کا اجلاس منی بجٹ منظور کئے بغیر ہی ملتوی کر دیا گیا۔

اگر اجلاس اس وجہ سے ملتوی نہیں کیا گیا توپھر دو وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے کسی ایک وجہ سے اسمبلی کا اجلاس لپیٹ دیا گیا۔ پہلی یہ کہ حکومت حامی ممبران کی تعداد کے بارے میں سو فیصد پر امیدنہیں تھی کہ مطلوبہ نمبر میں ووٹ مل جائیں گے یا پھر دوسری یہ کہ منی بجٹ میں وزیر خزانہ کی طرف سے پیش کردہ اعداد و شمار سے مطمئن نہیں تھی۔ اسد عمر کی ڈھٹائی کا تو میں اس دن ہی قائل ہو گیا تھا جب انہوں نے ہنس کر ان 200 ارب ڈالر کی بات کو کہانی قرار دیا تھا جسے واپس لانے کے لئے ان کے کپتان عمران خان اور ان کے قریبی ساتھی کئی سال سے واویلا کر رہے تھے۔

یہ لوگ تو یہاں تک کہا کرتے تھے کہ جس دن عمران خان وزیراعظم بنیں گے اس کے اگلے دن ہی سوئس بنکوں میں پڑے یہ 200 ڈالر واپس لے آئیں گے۔ ڈیڑھ ماہ قبل جب خبریں آئیں کہ حکومت اپنے پانچویں مہینے میں دوسرا منی بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے تو وزیر خزانہ کئی دن تک اس کی تردید کرتے رہے تھے اور پھر اچانک ایک دن انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے ہوئے اس کے آنے کی نوید سنائی تھی۔ البتہ اسے ’کاروبار میں آسانی‘کے لئے اقدامات کا نام دیا۔

منی بجٹ پیش ہوا تو اس میں اس بات کا کہیں تذکرہ نہیں ملا کہ 175 ارب روپے کا شارٹ فال کیسے پورا کیا جائے گا۔ کاروباری حلقوں کا خیال ہے کہ حکومت پوشیدہ ٹیکس (hidden taxes) لگائے گی جن کا اعلان کرنے کی فی الحال اس میں ہمت نہیں ہے۔ کاروباری حلقوں کے اس خیال کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ منی بجٹ سے کچھ دن پہلے وفاقی وزیر خزانہ نے سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کی بریفنگ میں اعتراف کیا تھا کہ شارٹ فال پورا کرنے کے لئے نئے ٹیکس لگانے کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے۔

اسد عمر دعوی کرتے تھے کہ ان کی حکومت سالانہ آٹھ کھرب روپے کا ریونیو اکٹھا کرے گی ایک ناممکن ہدف تھا، لیکن یہ دعوی بہت تواتر سے کیا جاتا رہا۔ لیکن پہلے چھ ماہ میں ریونیو میں 175 ارب کا شارٹ فال ہے جو نہ جانے کس طرح پورا ہو گا۔ بجٹ کے خسارہ اور بے روزگاری میں بہت اضافہ ہوا۔ اس کمزوری کو چھپانے اور پردہ ڈالنے کے لئے ضروری تھا کہ منی بجٹ میں صرف خوشنما باتیں بتائی جائیں، تاکہ پی ٹی آئی کے سپورٹرز اور ووٹرز میں بد دلی نہ پھیلے۔

اسے کچھ لوگ feel good factor بھی کہتے ہیں۔ منی بجٹ میں اس بات کو سرے سے گول کر دیا گیا ہے کہ 175 ارب روپے کے شارٹ فال اور بجٹ میں تیزی سے بڑھتے ہوئے خسارہ کو کیسے کم کیا جائے گا۔ یہ چیز بھی اہم ہے کہ اگر یہ شارٹ فال کم نہ کیا گیا تو مالی سال کے اختتام تک یہ کم از کم 350 ارب روپے تک پہنچ جائے گا اور اس کے نتیجہ میں آنے والے مہنگائی کے سونامی کو روکنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ بینکوں کی شرح سود پہلے ہی 5.75 فیصد سے بڑھا کر 10.25 فیصد کی جا چکی ہے جس کا لازمی نتیجہ کاروباری مندہ اور بے روزگاری کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا۔ اس سال پاکستان نے 800 ارب روپے سے زائد قرضو ں کی واپسی کی اقساط ادا کرنی ہیں اور جب اس میں یہ شارٹ فال بھی شامل ہو جائے گا تو بجٹ کا خسارہ حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو جائے گا۔

اس خطرناک صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے حکومت کے سامنے دو ہی راستے نظر آتے ہیں ۔ پہلا یہ کہ آنے والے دنوں میں مزید ٹیکس لگائے جائیں اوردوسرا یہ کہ مزید قرضے حاصل کئے جائیں۔ دونوں میں سے کسی ایک یا دونوں ، جس راستے کا بھی انتخاب کیا جائے اس کا منطقی انجام افراطِ زر میں بہت زیادہ اضافہ کی صورت میں ہی نکلے گا۔ پی ٹی آئی اور اسد عمر پچھلے کئی سال سے نان فائلرز کے خلاف کمپین چلارہے تھے، لیکن اس منی بجٹ میں نان فائلرز کو کافی چھوٹ دے کر انہوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔

ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کے پی ٹی آئی کے تمام دعوے غلط ثابت ہوتے جا رہے ہیں بلکہ ان کی پالیسیوں کے نتیجہ میں تو یہ پہلے سے بھی زیادہ سکڑرہا ہے۔ ایک اور اہم چیز جس کا منی بجٹ میں ذکر سرے سے گول کر دیا گیا ہے وہ گردشی قرضہ ہے جو انتہائی تیزی سے بڑھتے ہوئے 1100 ارب سے 1400 ارب روپے تک پہنچ رہا ہے۔ اس کے سدباب کے لئے حکومت کیا کر رہی ہے، حکومت کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں دیا جا رہا ،لیکن ظاہر ہے خاموشی سے مسئلہ حل نہیں ہو گا، اس کے لئے حکومت کو واضح پالیسی بیان کرنا ہوگی۔

موجودہ اقتصادی صورتِ حال میں حکومت کے پاس تین راستے ہیں۔ پہلا راستہ نئے ٹیکسوں کی بھرمار ہے، دوسرا راستہ بے تحاشہ نئے قرضے لینے کا اور تیسرا راستہ نوٹ چھاپ چھاپ کو کام چلانے کا ہے۔ تینوں ہی راستے ایسے ہیں جن میں افراطِ زر بڑھے گا اور معیشت کمزور ہو گی ، خاص طور پر تیسرا راستہ تو سراسر معاشی تباہی کا باعث بن سکتا ہے ۔

حکومت کی طرف سے پراسرار خاموشی اس خیال کو تقویت دیتی ہے کہ کہیں حکومت نوٹ چھاپ چھاپ کر کام چلانے کی کوشش تو نہیں کر رہی۔ ویسے بھی پانچ ماہ میں موجودہ حکومت ڈھائی کھرب روپے کے قرضے لے چکی ہے اور اگر اسی طرح مزیدقرضے لیتی رہی تو مالی سال کے اختتام تک یہ اعداد و شمار پانچ کھرب تک پہنچ جائیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنے پانچ سالہ دور میں تقریباً دس کھرب روپے کے قرضے لئے تھے یعنی اس کی اوسط تقریباً دو کھرب سالانہ تھی۔ پی ٹی آئی حکومت کی قرضے لینے کی رفتار پچھلی حکومت سے ڈھائی گنا زیادہ ہے۔ اسے بریک نہ لگی توملک کے معاشی حالات اتنے خراب ہو جائیں گے کہ کسی کے کنٹرول میں بھی نہ رہیں گے۔ میرا وزیر خزانہ اسد عمر کو برادرانہ مشورہ ہے کہ اگر معاشیات ان کے بس کی بات نہیں تو وزارتِ خزانہ کی بجائے کوئی اور وزارت لے لیں اور کسی بہتر شخص کو وزیر خزانہ بننے دیں۔ اسد عمر مارکیٹنگ کے ایک تجربہ کار اور انتہائی کوالیفائیڈ شخص ہیں، لیکن ماہرِ اقتصادیات نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی کی تیزی سے بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتِ حال کو کنٹرول کرنا ان کے بس میں نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کے بڑے بڑے سپورٹرز بھی اب زیادہ چپ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ حکومت کی کارکردگی کا دفاع ان کے لئے بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ چھ ماہ تو یہ کہتے ہوئے نکال لئے کہ اتنی جلدی رزلٹ نہیں آ سکتا، لیکن کب تک وہ ’ابھی ٹائم دیں‘ کا عذر پیش کر سکیں گے۔ ہنی مون ختم ہو چکا اور اب ڈلیور کرنے کے علاوہ حکومت کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے۔

مزید : رائے /کالم