پروفیسر تنویر احمد شاہ: پنجاب کے کالج اساتذہ کو افسردہ کرگئے!

پروفیسر تنویر احمد شاہ: پنجاب کے کالج اساتذہ کو افسردہ کرگئے!
 پروفیسر تنویر احمد شاہ: پنجاب کے کالج اساتذہ کو افسردہ کرگئے!

  

ہفتہ2فروری کی سہ پہر شعبہ اُردو گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان کے صد شعبہ پروفیسر نعیم اشرف کا فون آیا۔مَیں نے معمول کے مطابق ٹھٹھہ مخول کے انداز میں مخاطب کیا تو آگے سے اُن کی آواز رُندھ گئی۔انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’مرشد اچھی خبر نہیں، سید تنویر احمد شاہ کا دِل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی مجھے گویا ایک جھٹکا سا لکا۔

اِس سے پہلے کہ مَیں نعیم اشرف سے کچھ اور پوچھتا، وہ یہ کہہ کر فون بند کر گئے کہ مجھ سے بات نہیں ہو پا رہی۔ ایساد وسری بار ہوا تھا کہ ہم دونوں اس کیفیت سے گزرے۔دو سال پہلے جب ایمرسن کالج کے تین پروفیسر رانا دلشاد، راؤ ظفر اقبال اور راؤ ذوالفقار علی موٹروے پر حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہو گئے تو اُس وقت نعیم اشرف کو ،خبر مَیں نے دی تھی اور وہ دہاڑیں مار کررونے لگے تھے۔ اس بار خبر انہوں نے سنائی اور مجھے سکتے میں چھوڑ کر فون بند کر گئے۔ پروفیسر تنویر احمد شاہ پنجاب میں کالج ٹیچرز کمیونٹی کے ہر دلعزیز رہنما تھے۔

وہ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن پنجاب کے جنرل سیکرٹری تھے۔ اُن کی عمر کچھ زیادہ نہیں تھی،مگر اُن میں قائدانہ صلاحیتیں موجود تھیں۔ وہ فزکس کے اُستاد تھے اور آج کل گورنمنٹ ولایت حسین اسلامیہ کالج ملتان میں تعینات تھے، تاہم اُن کی شہرت اور مقبولیت پنجاب ہی نہیں، دیگر صوبوں تک بھی پھیلی ہوئی تھی۔اُن کے انتقال کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعے پورے مُلک میں دُکھ اور غم کے ساتھ سنی گئی۔اُن کا تعلق کالج اساتذہ کی تنظیم، تنظیم اساتذہ سے تھا، تاہم وہ دوسری تنظیموں میں بھی یکساں مقبول تھے۔

اُن کی اچانک وفات سے صحیح معنوں میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔ وہ ملتان سے پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کی مرکزی سطح پر اُبھرنے والی واحد آواز تھے۔ انہوں نے انتخابی عمل کے ذریعے جنرل سیکرٹری پنجاب کا عہدہ حاصل کیا،پھر اس کے تقاضوں کو بھرپور طریقے سے نبھایا۔لاہور کے ڈاکٹر زاہد شیخ صدر اور تنویر احمد شاہ جنرل سیکرٹری تھے۔

اِن دونوں نے کالج اساتذہ کے لئے بڑی گراں خدمات سرانجام دیں۔گزشتہ دور میں جب پنجاب کے26 بڑے کالجوں کو بورڈ آف گورنرز بنا کر نجی شعبے کو دینے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کالج کمیونٹی کو متحرک کر کے یہ کوشش ناکام بنا دی۔اِسی دوران لاہور میں اسمبلی ہال کے سامنے پولیس نے اساتذہ پر بدترین تشدد کیا۔ ڈاکٹر زاہد شیخ اور تنویر احمد شاہ سمیت بہت سے اساتذہ اس کا نشانہ بنے۔

اِسی دوران وہ تصویر بنی جس نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ جس طرح نیب نے ڈاکٹر مجاہد کامران اور دیگر سینئر اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا تو پورے مُلک میں احتجاج ہوا، اسی طرح جب ڈاکٹر زاہد شیخ اور پروفیسر تنویر احمد شاہ کی وہ تصاویر شائع ہوئیں، جن میں پولیس لاٹھیاں اور ٹھڈے مار رہی ہے تو گویا ایک زلزلہ آ گیا۔ حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی۔ پنجاب پروفیسر اینڈ لیکچرر ایسوسی ایشن کا موقف یہ تھا کہ کالجوں کو بورڈ آف گورنرز کے ذریعے خود مختاری دی گئی تو تعلیم مہنگی ہو جائے گی اور یہ ادارے جہاں لاکھوں طلبہ و طالبات واجبی فیس پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں، غریبوں کی دسترس سے باہر ہو جائیں گے۔پروفیسر تنویر احمد شاہ ایک جنیوئن لیڈر تھے۔

انہوں نے کالج یونٹ سے لے کر پنجاب کے جنرل سیکرٹری تک کا سفر کیا۔ وہ اساتذہ کے مسائل کو سمجھتے تھے اور اُن کے لئے لڑنا بھی جانتے تھے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ سیکرٹری تعلیم پنجاب نے انہیں پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی دھمکی دی۔ اُن کا تبادلہ بھی کیا گیا،اُن کی ترقی کے کیس کو بھی بار بار روکا گیا، جس کے باعث وہ اپنے ساتھ بھرتی ہونے والے اساتذہ سے پیچھے رہ گئے،مگر اس کے باوجود انہوں نے اساتذہ کے حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔اُن کا سب سے اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے کالج اساتذہ کے لئے ترقی کا چار درجاتی فارمولا منظور کرایا۔

کالج کمیونٹی کو ہمیشہ مراعات، ترقی اور بنیادی حقوق کے لحاظ سے نظر انداز کیا گیا۔ ایک زمانے میں سمجھا جاتا تھا کہ ترقی کے مواقع یونیورسٹی اساتذہ کو ملتے ہیں یا سکول اساتذہ کو، کالج اساتذہ 17 ویں گریڈ میں لیکچرر بھرتی ہوتے ہیں تو اٹھارہ سے بیس برسوں میں 18ویں گریڈ تک پہنچتے ہیں، انیسویں گریڈ تک تو چند خوش قسمت ہی پہنچتے تھے اور 20ویں گریڈ کا تو کالج میں تصور ہی نہیں تھا، تاہم پی پی ایل اے کے پلیٹ فارم سے ڈاکٹر زاہد شیخ اور سید تنویر احمد شاہ نے ایک بھرپور جدوجہد کی، جس کے بعد حکومت چار درجاتی فارمولا منظور کرنے پر مجبور ہو گئی۔

اس فارمولے کے مطابق سترہ، اٹھارہ، انیس اور بیس گریڈ کی پوسٹوں کا تناسب طے کر دیا گیا۔ اس فارمولے کے بعد بیسیوں اساتذہ پہلی بار گریڈ بیس میں بھی پہنچے، وگرنہ اکثر گریڈ انیس ہی میں ریٹائر ہو جاتے تھے۔ اُن کی یہ خدمات کالج اساتذہ کبھی نہیں بھول سکتے۔ سید تنویر احمد شاہ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ہزاروں کالج اساتذہ سے خود رابطہ رکھتے تھے،کوئی اپنا مسئلہ بتاتا تو حرفِ انکار اُن کی زبان پر نہیں آتا تھا۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا اور مَیں اس کا شاہد ہوں کہ وہ پنجاب کے مختلف شہروں کا سفر کر کے ابھی ملتان پہنچے ہی تھے کہ کسی نے کہا میرے پنشن کیس کا مسئلہ ہے یا چھٹی منظور نہیں ہو رہی، تووہ فوراً رختِ سفر باندھ کے اُس کا کام کرانے لاہور روانہ ہو جاتے تھے، اس کے لئے یا تو وہ اپنی گاڑی استعمال کرتے یا پھر اپنی جیب سے کرایہ خرچ کر کے جاتے۔

میرے ساتھ اُن کا تعلق چھوٹے بھائیوں جیسا تھا۔ہم ایک عرصہ گورنمنٹ ایمرسن کالج میں اکٹھے رہے ہیں،چونکہ مَیں کالج کی تقریبات کمیٹی کا سربراہ تھا،اِس لئے وہ اکثر اس خواہش کا اظہار کرتے کہ جو تقریب ہو رہی ہے، اُس میں انہیں اظہارِ خیال کا موقع دیا جائے۔میری اپنی بھی یہ خواہش ہوتی تھی کہ وہ اظہارِ خیال کریں،کیونکہ اُن میں ایک خاص سطح کی بصیرت اور اپنے عہد کا شعور تھا۔انہیں یہ کمال بھی حاصل تھا کہ ہر موضوع پر بلا تکان بول سکتے تھے۔اُن کے پاس علم اور مشاہدے کی فراوانی تھی۔ نہ صرف کالج میں،بلکہ شہر کی اکثر تقریبات میں بھی وہ بلائے جاتے تھے۔ وہ جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

مَیں نے کئی بار دیکھا کہ حکومتی شخصیات کی موجودگی میں انہوں نے حکومت کی تعلیم سے بے اعتنائی و بے گانگی پر شدید تنقید کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ کالج اساتذہ کو بھی ذمہ داری کا احساس دِلانے کے لئے پند و نصائح سے کام لیتے تھے۔ وہ اکثر کہا کرتے کہ ہمیں سرکاری کالجوں کا معیار بڑھانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے، کیونکہ اسی سے ہمارا مستقبل وابستہ ہے اور غریب طلبہ و طالبات کی آس امید بھی یہی کالج ہیں۔وہ اِس بات پر اکثر کڑھتے تھے کہ ملتان کے سب سے بڑے گرلز کالج کچہری روڈ کو ویمن یونیورسٹی میں تبدیل کر کے 14ہزار طالبات کو معیاری اور سستی تعلیم سے محروم کر دیا گیا۔ خواتین یونیورسٹی اگر بنانی ہی تھی تو اُس کے لئے پہلے کیمپس بنانا چاہئے تھا۔ شہباز شریف نے ایک سیاسی فیصلہ کر کے کالج کی جگہ یونیورسٹی بنا دی۔ پہلے اس کالج میں طالبات 200روپے ماہانہ پر تعلیم حاصل کرتی تھیں، اب انہیں1500روپے ماہانہ دینے پڑتے ہیں۔وہ مسلسل اس کے خلاف آواز اٹھاتے تھے اور وفات سے کچھ عرصہ پہلے بھی انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ایک بیان میں مخاطب کرتے ہوئے اِس بات پر زور دیا تھا کہ وہ خواتین یونیورسٹی کو نیو کیمپسمنتقل کر کے گورنمنٹ گرلز کالج کچہری روڈ کی عمارت واگزار کرائیں اور یہاں پھر سے کالج کی کلاسز شروع کی جائیں۔

سید تنویر احمد شاہ کی اچانک وفات نے کالج اساتذہ کو ایک مہربان، اَن تھک اور بے لوث رہنما سے محروم کر دیا،اُن کی نمازِ جنازہ گورنمنٹ ولایت حسین اسلامیہ کالج ملتان کے گراؤنڈ میں ہوئی، جس میں بلاشبہ ہزاروں افراد شامل تھے۔

اُن میں کالج اساتذہ تو تھے ہی، تاہم ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اُن کے جنازے میں شرکت کی،جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سید تنویراحمد شاہ نے اپنی مختصر زندگی میں اپنے اعلیٰ شخصی اوصاف کے گہرے نقوش ثبت کئے۔

وہ بے ضرر انسان کی تعریف پر پورا اُترتے تھے۔ مجھے کوئی ایسا شخص نہیں ملا جس نے کبھی سید تنویر احمد شاہ کی بدمعالگی،مفاد پرستی یا حرص وطمع کا ذکر کیا ہو۔ ہر شخص اُن کی تعریف کرتا تھا۔ایک استاد کے لئے اس سے زیادہ اہم بات کوئی نہیں ہوتی کہ وہ اپنے طالب علموں اور ساتھیوں کے دِلوں میں جگہ بنا لے۔ سید تنویر احمد شاہ ایک ایسے ہی خوش نصیب اُستاد تھے،اللہ اُن کے درجات بلند کرے۔

مزید : رائے /کالم