ترک پارلیمنٹ کی دو سابق کردخواتین ارکان کو15سال قید کی سزا

ترک پارلیمنٹ کی دو سابق کردخواتین ارکان کو15سال قید کی سزا

استنبول(این این آئی)ترکی میں ایک عدالت نے دو کرد سیاست دان خواتین کو ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم سے تعلق اور دہشت گردوں کے پروپیگنڈے کی تشہیر کے الزام میں قصور وار قرار دے کر لمبی مدت کی قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سابق رکن پارلیمان غلطان کسناک کو عدالت نے 14 سال اور تین ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ انھیں اکتوبر 2016 ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ ترکی کے جنوب مشرقی شہر دیار بکیر کی شریک میئر بھی رہ چکی ہیں۔ترک پارلیمان کی ایک اور سابق رکن صباحت تنسیل کو عدالت نے 15 سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔وہ جیل میں گذشتہ تین ہفتے سے بھوک ہڑتال پر ہے اور وہ جج کے فیصلہ سنانے کے وقت عدالت میں موجود نہیں تھیں۔صباحت نے اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ گذشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے جیل کاٹ رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ میں وہی کرتی ہوں جس کو میں درست سمجھتی ہوں اور جس کو قانونی ، جائز اور انسانی سمجھتی ہوں۔میں جو کچھ کرتی ہوں ، وہ جمہوری سیاست کے دائرہ کار ہی میں آتا ہے۔

مزید : علاقائی