سٹیزن پورٹل ناکام صرف 40.77فیصد شکایات حل کی جاسکیں ،عوامی رائے وزیراعظم کیخلاف جانے لگی

سٹیزن پورٹل ناکام صرف 40.77فیصد شکایات حل کی جاسکیں ،عوامی رائے وزیراعظم ...

اسلام آباد، کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم کے سٹیزن پورٹل کو بیورو کریسی نے ناکام بناتے ہوئے شہرشہر وزیراعظم کیخلاف عوامی رائے ابھرکر سامنے آنے لگی ۔معلوم ہوا ہے سٹیزن پورٹل پر شکایات کے اندراج پر ان کے ازالہ کیلئے انہی افسران کو شکایت ارسال کردی جاتی ہے،جو دو تین دن وقفہ کے بعد خودکار سسٹم کے تحت شکایت ریزالو کا آپشن دے دیتے ہیں۔دوسری جانب وفاقی دار ا لحکومت میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے وزارت اوورسیز کے ذیلی ادارے او پی ایف کے حوالے سے ایک شکایت درج کرائی گئی تھی کہ او پی ایف سکولز میں اقرباء پروری اور افسر شاہی سے متعلق تھیں،جس پر وزارت اوورسیز نے انکوائری اوپی ایف کو ہی مارک کردی اور او پی ایف نے شکایت کنندہ خاتون ٹیچر کو ان کی سنیارٹی لسٹ سے ڈی لسٹ کرتے ہوئے 10ویں اور 12ویں کلاسز سے ہٹا کر پہلی اور دوسری کلاسز سونپ دی ہیں اور نیز دھمکی بھی دی گئی ہے کہ اگر آئندہ انہوں نے ایسی حرکت کی تو نوکری سے بھی ہاتھ دھو سکتی ہیں۔دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ پاکستان سٹیزن پورٹل پر شکایات درج کرانے کے بعد حل ہونے پر مطئمن ہونیوالوں کی تعداد 40 فیصد سے بھی کم ہے۔سٹیزن پورٹل کے تحت ملک بھر سے اب تک 343021 لوگوں نے شکایات درج کرائی ہیں جبکہ اوورسیز سے 34356شکایات موصول ہوئی ہیں۔پنجاب سے 170215، سندھ سے 45699 اورخیبرپختونخوا سے 40896 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اسی طرح بلوچستان سے 3782 اور اسلام آباد سے 116391شکایات موصول ہوئیں۔وزیراعظم ہاؤس میں قائم پورٹل کو گلگت بلتستان سے 201 اور آزاد کشمیر سے 1852 شکایات موصول ہوئیں۔ پاکستان سٹیزن پورٹل پر شکایات درج کرانے کے بعد حل ہونے پر مطمئن ہونے والوں کی تعداد 40 فیصد سے بھی کم ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سٹیزن پورٹل کے تحت 228609 شکایات کو حل کیا گیا جو کہ تمام شکایات کا 40.77 فیصد بنتی ہے۔

مزید : علاقائی