شہزادی ڈیانا ڈاکٹر حسنات کیساتھ پاکستان منتقل ہونا چاہتی تھیں، جمائما

شہزادی ڈیانا ڈاکٹر حسنات کیساتھ پاکستان منتقل ہونا چاہتی تھیں، جمائما

لندن (این این آئی)برطانوی روزنامے ایکسپریس نے گزشتہ دنوں اپنی ایک رپورٹ میں آنجہانی پرنسز آف ویلز کی ایک قریبی دوست کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے شہزادی ڈیانا ایک پاکستانی کی محبت میں گرفتار اور پاکستان ہی منتقل ہوجانے کیلئے تیار تھیں۔رپورٹ میں ڈیانا کی قریبی دوست اور موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ خان کے 2013 کو ونیٹی فیئر کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا۔جمائمہ خان نے اس انٹرویو میں بتایا شہزادی ڈیانا پاکستانی ڈاکٹر حسنات خان سے شادی کرنا چاہتی تھیں اور برطا نیہ چھوڑنے کر پاکستان بسنے کیلئے تیار تھیں۔ڈاکٹر حسنات خان اس زمانے میں برطانیہ میں ہارٹ سرجن کے طور پر کام کررہے تھے اور لیڈی ڈیانا کے دیگر معاشقوں کے برعکس پاکستانی نژاد ڈاکٹر سے ان کے تعلق کو زیادہ پبلسٹی نہیں ملی۔ڈیانا حسنات خان کی محبت میں پاگل اور شادی کرنا چاہتی تھیںیہاں تک کہ پاکستان میں رہنے کیلئے بھی تیار تھیں اور یہ بھی ان وجوہات میں سے ایک ہے جو ہم دوست بنے۔ ڈیانا مجھ سے جاننا چاہتی تھیں پاکستان میں زندگی گزارنا میرے لیے کس حد تک مشکل ثابت ہوئی ، پرنسز آف ویلز نے 2 بار پاکستان کا دورہ کرکے یہاں مستقل رہائش کیلئے ان سے مشورہ کیا، ڈیانا پاکستان میں عمران خان کے ہسپتال کیلئے فنڈز جمع کرنے میں مدد کیلئے آئی تھیں مگر دونوں بار وہ چھپ کر ان کے خاندان سے بھی ملیں تاکہ حسنات سے شادی کے امکانات پر بات کرسکیں۔ونیٹی فیئر کیلئے کام کرنے والی سارہ ایلیسین نے دعویٰ کیا شہزادی ڈیانا کا تعلق 1995 سے 1997 تک ڈاکٹر حسنات خان سے رہا، یہ جوڑا شادی کرنا چاہتا تھا، مگر ڈاکٹر کی والد ہ نے اس کی اجازت نہیں دی۔ شہزادی نے اپنے دوستوں کو بتایا وہ حسنات سے شادی کے بعد ایک بیٹی کی خواہشمند ہیں۔شہزادی ڈیانا حسنات کے خاندان کے بارے میں جاننا چاہتی تھیں خصوصاً ان کی والدہ کی منظوری حاصل کرنا چاہتی تھیں۔جمائمہ نے اس حوالے سے بتایا اپنے بیٹے کی کسی انگلش لڑکی شادی ہر قدامت پسند پشتون ماں کیلئے بھیانک خواب ہے، آپ اپنے بیٹے کو تعلیم کیلئے برطانیہ بھیجتے ہیں اور وہ اپنے ساتھ ایک انگلش دلہن لے آتا ہے جو کہ خوفزدہ کردیتا تھا۔رپورٹ میں شہزادی ڈیانا کے کچھ دوستوں کے حوالے سے کہا گیا کہ حسنات کی جانب سے شادی سے انکار پر پرنسز آف ویلز دلبرداشتہ ہوگئی تھیں، اس بارے میں جمائمہ خان نے بتایا کہ ڈاکٹر حسنات اس بات سے نفرت کرتے تھے کہ اس شادی کے بعد ان کی پوری زندگی پبلسٹی کی زد میں رہے گی۔اپنی موت سے قبل شہزادی ڈیانا نے اپنے ایک دوست کو بتایا کہ ہر ایک نے مجھے فروخت کیا، حسنات واحد شخص ہیں جس نے مجھے کبھی فروخت نہیں کیا۔ڈاکٹر حسنات سے تعلق ختم ہونے پر لیڈی ڈیانا نے دودی الفائید سے نیا تعلق شروع کیا۔خیال رہے کہ 19 جولائی 1981 کو لیڈی ڈیانا کی شادی شہزادہ چارلس سے ہوئی جسے دنیا بھر کے میڈیا نے دکھایا اور دو بچوں کی پیدائش بھی ہوئی۔دو بچوں کی پیدائش کے بعد شہزادہ چارلس کی سرد مہری سے لیڈی ڈیانا کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی اور شادی کے مقدس بندھن میں دراڑ پیدا ہونے لگی۔20 دسمبر 1995 میں شہزادی ڈیانا اور ان کے شوہر شہزادہ چارلس کے درمیان علیحدگی ہوگئی۔

جمائما

مزید : صفحہ آخر