وینز ویلا میں امریکی فوجی مداخلت ازامکان نہیں، افغانستان میں سب تھک چکے، اس لئے امن چاہتے ہیں: ٹرمپ

وینز ویلا میں امریکی فوجی مداخلت ازامکان نہیں، افغانستان میں سب تھک چکے، اس ...

واشنگٹن(اظہر زمان، بیوروچیف) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے وہ سوچ رہے ہیں ایران پر نظر رکھنے کیلئے عراق میں اڈے کو برقرار رکھا جائے۔ سی بی ایس ٹیلی ویژن کے پروگرام فیس ڈی نیشن میں ایک انٹرویو میں انہوں نے اپنی خارجہ پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی جو اتوار کے روز نشر ہوا۔ ونیز ویلا کے سیاسی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا ضرورت پڑنے پر وہاں فوجی مداخلت کی جاسکتی ہے ،امریکہ سمیت مغربی ممالک سوشلسٹ صدر نکولس مادورو پر دباؤ ڈال رہے ہیں وہ صدارت کے دعویدار اپوزیشن لیڈر کے حق میں دستبردار ہوجائیں جبکہ روس تیل برآمد کرنیوالے ممالک کی تنظیم اوپیک کے رکن اور اپنے اتحادی کی حمایت میں آکھڑا ہوا ہے جس نے دھمکی دی ہے ونیزویلا میں فوجی بھیجنے کا اقدام تباہ کن ہوسکتا ہے گزشتہ برس ونیزویلا میں دوبارہ انتخابات ہوئے ہیں جس میں جوان گوائڈونے اپنے آپ کو صدر ڈیکلیئرکردیا تھا جسے امریکہ، کینیڈا اور متعدد لاطینی ممالک جائز صدر تسلیم کرتے ہیں، متنازعہ صدر ماڈورو نے گزشتہ ماہ ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن وہ سمجھتے ہیں اب وقت گزر گیا ،امریکہ نے گزشتہ ہفتے ونیز ویلا کی سرکاری پٹرولیم کمپنی PDVSAپر اقتصادی پابندیاں لگادی تھیں،صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا وہ آج غلط جائزہ پیش کررہے ہیں کہ ایران معاہدے پر عمل درآمد کر رہا ہے، اسی انٹیلی جنس نے صدام حسین کے بارے میں غلط الزام لگایا تھا جنگ سے قبل اس کے پاس تباہ کن ہتھیار موجود تھے ۔ مارچ میں چین کیساتھ تجارتی محصولات میں اضافے کی ڈیڈ لائن کے خاتمے سے پہلے نیا تجارتی معاہدہ کرنے کے سلسلے میں تسلی بخش طریقے سے کام ہورہا ہے انہوں نے داخلی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا دوبارہ جزوی شٹ ڈاؤن کو خارج نہیں ازامکان نہیں ۔افغانستان میں جنگ سے سب ہی تھک چکے ہیں، اس لئے امن چاہتے ہیں، وقت آگیاہے ، دیکھیں گے طالبان کیساتھ کیا ہوتا ہے ؟ افغانستان میں انٹیلی جنس روابط قائم رکھیں گے ، مسائل نے سر اٹھایا تو پھر دیکھیں گے کیا کرنا ہے۔ شام سے امریکی فوجی ایک ٹائم فریم کے تحت واپس آئیں گے۔

ٹرمپ

مزید : صفحہ اول